طبقاتی نظام، تجارتی درسگاہیں اور متوسط طبقے کا طالبِ علم تحریر: اعتزاز شوکت
(Aitazaz Shaukat, Rawalpindi)
|
طبقاتی نظام، تجارتی درسگاہیں اور متوسط طبقے کا طالبِ علم تحریر: اعتزاز شوکت پاکستانی معاشرہ اس وقت جن سنگین ترین تضادات اور فکری و معاشی انحطاط کا شکار ہے، ان کا سب سے واضح اور ہولناک عکس ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نظر آتا ہے۔ یونیورسٹیاں، جنہیں علم، شعور، اور سماجی مساوات کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا، آج بدقسمتی سے کلاسیزم (طبقاتی نظام) اور اشرافیہ کی نمائش گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ایک متوسط یا لوئر مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھنے والے طالب علم کے لیے کسی جامعہ کی دہلیز پار کرنا گویا تذلیلِ نفس اور نفسیاتی کچلنے کے ایک لامتناہی سلسلے کا آغاز ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک عام طالب علم کو اپنی معاشی محرومیوں کا پہلی بار شعوری ادراک ہوتا ہے۔ جب وہ تعلیمی اداروں کے اس پرتعیش اور چمکتے دمکتے ماحول میں اپنی بساط کا موازنہ وہاں کے مراعات یافتہ طبقے سے کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر ایک گہری احساسِ کم تری کی دلدل میں دھنسنے لگبتا ہے۔ معاشی اور تعلیمی حوالوں سے بات کی جائے تو پاکستان انسٹیٹیوٹ اف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی دو سال قبل کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے تقریباً 62 فیصد طلبہ کا تعلق متوسط یا زیریں متوسط طبقے سے ہے۔ اسی طرح گیلپ پاکستان کے تعلیمی سروے (برائے سال 2025ء) کے چشم کشا اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی بدترین مہنگائی کے باعث اب تقریباً 43 فیصد یونیورسٹی طلبہ اپنی فیسوں اور روزمرہ تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے لیے پارٹ ٹائم جابز، فری لانسنگ کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان نوجوانوں کے لیے مارکیٹ میں روزگار اور انٹرن شپس کے مواقع نہ صرف انتہائی محدود ہیں، بلکہ شدید ناانصافی پر مبنی ہیں۔ "عدمِ تجربہ" کا بہانہ بنا کر تجارتی ادارے ان کا بدترین معاشی استحصال کرتے ہیں، اور وہ چند ٹکے کی معمولی اجرت پر طویل گھنٹوں تک مشقت کرنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بند گلی ان طلبہ کو شدید ترین ذہنی دباؤ اور اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ دن کے اوقات میں اکیڈمک دباؤ اور رات کے اوقات میں ملازمت کا ذہنی عذاب - یہ دوہری مشقت ان نوجوانوں کی جسمانی و فکری توانائیوں کو قبل از وقت زوال پر آمادہ کر دیتی ہے۔ آج دور دراز اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تمام ہی متوسط طلبہ اپنے مستقبل کی خاطر، بھاری اخراجات کی قربانی دے کر ان بڑے تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے ہیں۔ مگر وہاں قدم رکھتے ہی انہیں ایک شدید قسم کے سماجی بائیکاٹ اور کلاسیزم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونیورسٹی کلچر میں رائج اشرافیہ کے رویے اس تفاوت کو ختم کرنے کے بجائے مزید گہرا کرتے ہیں۔ یہاں اب ایسے مخلص عناصر ناپید ہو چکے ہیں جو ان محنت کش طلبہ کی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھیں۔ اس کے برعکس، ان طلبہ کو اپنے ہی ان ساتھیوں کے تلخ رویوں اور زہریلے طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ ہم جماعت سمجھتے ہیں۔ ان کے سادہ لباس، گفتگو کے لہجے، سستی سواری یا معاشی پسِ منظر پر تانے دیے جاتے ہیں۔ یہ معاشی و سماجی تضحیک ان محنت کش نوجوانوں کو احساسِ محرومی کی اس اتھاہ گہرائی میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ نفسیاتی اثرات کے حوالے سے پاکستان جنرل آف کلینیکل سائیکالوجی کی گزشتہ سال کی ایک تحقیقاتی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جامعات میں موجود اس کلاسزم اور طبقاتی فرق کی وجہ سے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے 54 فیصد اس سے زائد طلبہ شدید ترین نفسیاتی عوارض، ڈپریشن اور ذہنی اکیلے پن کا شکار پائے گئے۔ اس تمام تر سماجی زوال کے اصل ذمہ دار ہمارے پالیسی میکرز ہیں، جن کی ترجیحات میں تعلیم اور نوجوان کبھی رہے ہی نہیں، اور نہ ہی انہوں نے کبھی غریب اور امیر کے لیے یکساں تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ موجودہ فرسودہ اور کچلے ہوئے نظام میں یہ مفروضہ قائم کرنا کہ اس طبقاتی دیوار کو گرانا آسان ہے، سراسر خود فریبی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بنے بنائے ڈھانچے کو توڑنا ایک انتہائی کٹھن اور جان لیوا عمل ہے، اور بہت ہی کم لوگ اس فرسودہ نظام کے حصار کو پاش پاش کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ چاہے وہ مقابلے کے امتحانات ہوں، کوئی اعلیٰ اکیڈمک مہارت ہو یا عملی میدان میں لوہا منوانے کی بات - یہ بوسیدہ سسٹم ہر موڑ پر ان مڈل کلاس طلبہ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سال 2025ء کی اکیڈمک ڈراپ آؤٹ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وسائل کی کمی اور سسٹم کے معاندانہ رویے کی وجہ سے پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیز میں مڈل کلاس طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لیکن ان تمام تر مصائب، نظام کی حوصلہ شکنی، جاب کے نام پر ہونے والے معاشی استحصال اور معاشرے کے زہریلے طنز کے باوجود، صرف وہی طلبہ سرخرو ہوتے ہیں جو فولادی عزم اور غیر متزلزل استقامت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کی تعمیرِ نو کرتے ہیں۔ وہ اس طبقاتی فرق کو اپنے علم سے مٹاتے ہوئے، تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنی پڑھائی اور نوکری دونوں کو بیک وقت لے کر چلتے ہیں اور کامیابی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں۔ جب ایسا ہی کوئی پسا ہوا طالب علم تمام محرومیوں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرتا ہے اور کسی اعلیٰ منصب یا سرکاری افسر کے طور پر نمودار ہوتا ہے، تو وہ دراصل اس ظالمانہ اور فرسودہ نظام کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ اب وقت کا تقاضہ ہے کہ ہماری جامعات، تجارتی مراکز بننے کی بجائے حقیقی درسگاہیں بنے۔ جہاں کسی بھی طالب علم کی پہچان اس کی کلاس یا سوشل سٹیٹس نہیں بلکہ اس کی مہارت اور بلند کردار ہو۔ حکومت اور پالیسی میکرز کو اب خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا اور اپنی مجرمانہ غفلت کا اعتراف کرنا ہوگا۔ ورنہ تعلیمی اداروں کا یہ حبس زدہ ماحول معاشی ناہمواری اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی یہ شدید محرومی معاشر ہیجان کا سبب بن سکتی ہے۔ ریاست کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ یہ پسماندہ لیکن محنت کش نوجوان ہی اس ملک کا اصل سرمایہ ہے اور یہی آگے چل کر اس قوم کی حقیقی اور فکری تعمیرِ نو کا باعث بنیں گے۔ |
|