بچوں میں احساس ہمدردی کیسے پیدا کیا جائے ؟

بچوں میں احساس ہمدردی کیسے پیدا کیا جائے ؟

تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت صرف کتابی تعلیم تک محدود رکھی جائے اور ان کے دلوں میں رحم دلی، انسان دوستی اور ہمدردی کے جذبات پیدا نہ کیے جائیں تو معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اخلاقی طور پر کمزور رہتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔
بچوں میں انسانی ہمدردی اور رحم دلی پیدا کرنے میں سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔ بچہ سب سے پہلے اپنے گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین گھر میں نرمی، محبت، صبر اور دوسروں کے لیے احترام کا مظاہرہ کریں تو یہی صفات بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں تاکہ بچے عملی طور پر ہمدردی سیکھ سکیں۔
مثلاً اگر گھر کے دروازے پر کوئی سوالی آئے تو بچوں کے ہاتھ سے اسے کچھ نہ کچھ ضرور دلوایا جائے۔ اگر محلے میں کوئی یتیم یا غریب خاندان موجود ہو تو بچوں کو ساتھ لے جا کر ان کی مدد کی جائے۔ بچوں کے سامنے یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا جائے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ اسلام میں کمزور اور بے سہارا افراد کی مدد کتنی بڑی نیکی ہے۔ اس طرح کے عملی اقدامات بچوں کے دل میں رحم دلی کے جذبات کو مضبوط کرتے ہیں۔
اساتذہ کرام بھی اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سکول صرف امتحان پاس کروانے کا ادارہ نہیں بلکہ کردار سازی کا مرکز بھی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اخلاقیات، برداشت، احترامِ انسانیت اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیں۔ کلاس روم میں بچوں سے رحم دلی اور انسانی ہمدردی کے موضوعات پر تقاریر کروائی جائیں تاکہ یہ تصورات ان کے ذہنوں میں راسخ ہوں۔ بچوں کو یہ ذمہ داری بھی دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور محلے کے لوگوں کو اچھے اخلاق اور انسان دوستی کا پیغام دیں۔
بچوں کی تربیت میں دینی تعلیم بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ قرآن و سنت میں رحم، شفقت، بھائی چارے اور انسانیت کی بے شمار تعلیمات موجود ہیں۔ اگر بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی انبیاء کرامؑ، صحابہ کرامؓ اور حضور اکرم ﷺ کی سیرت کے واقعات سنائے جائیں تو ان کے دل نرم ہوتے ہیں اور ان میں دوسروں کے لیے احساس پیدا ہوتا ہے۔
آج کے جدید دور میں بچوں کو مثبت اور اخلاقی ویڈیوز دکھانا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی مارل ویڈیوز جن میں انسانیت، والدین کی خدمت، غریبوں کی مدد اور رحم دلی کے واقعات ہوں، بچوں کی سوچ پر اچھا اثر ڈالتی ہیں۔ اسی طرح بچوں کو عملی مشقیں کروائی جائیں، جیسے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، بیمار کی عیادت کرنا، یا کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا۔ یہ سرگرمیاں بچوں کی شخصیت میں نرمی اور انسان دوستی پیدا کرتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو صرف اعلیٰ نمبر لینے کی دوڑ میں نہ لگائیں بلکہ انہیں ایک اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دیں۔ کیونکہ ایک مہذب، پرامن اور کامیاب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسان ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کریں اور رحم دلی و ہمدردی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ 
Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 69 Articles with 69180 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More