ادبی گروپ
(Asia Nasir, Wanbhachran)
ادبی گروپ ہمارے موبائل میں کوئی چھ سات گروپ ہیں جن میں ہر وقت کوئی نہ کوئی موضوع زیر بحث رہتا ہے ایک ادبی گروپ بھی ہے جس میں ایڈمن کا حکم ہے کہ صرف ادبی پوسٹ ہی کی جائیں مگر چند دن گزرنے کے بعد ہی پتہ چلا کہ ادب کے سوا سب کچھ زیر بحث رہتا ہے مختلف لوگ ، مختلف انداز میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں آپ کے شہر میں کیسا موسم ہے؟ صبح ایڈمن صاحبہ نے یہ پوسٹ لگائی تھی سارا دن گزر گیا مگر جواب ہیں کہ رکتے ہی نہیں کہیں بارش ہے تو کہی ژالہ باری ہو رہی ہے کہیں سے طوفان کا خدشہ بتایا جارہا ہے کوئی بارش کے فوائد تو کوئی نقصان گنوا رہا ہے سو جتنے منہ اتنی باتیں مگر ادب کہیں ،کسی وقت زیر بحث نہیں لایا گیا پھر میں نے بارش کے موضوع پہ اپنے چند اشعار شامل کئے تاکہ کچھ ادبی ماحول بن جائے۔ مگر۔۔۔ نہ جی ایک موصوفہ نے جلدی جلدی آم کے فوائد کی پوسٹ لگا دی اور پھر سارا گروپ آم کی اقسام گنوانے لگا میں نے اپنے اشعار دوبارہ بھیج دیئے ✓کاش ان بارشوں میں بہہ جاتے غم بھی خس و خاشاک ہوتے پھر مجھے ایک اور شعر یاد آیا مجھے لگا کہ شاید میرا شعر کوئی اثر انگیز نہیں تو کیا تعریف اور کیا تنقید دوسرا شعر گروپ کی نذر کیا
✓کچھ اس طرح کھلا آرزو کا رنگ بارش میں یاد کا پیرہن بھیگنے لگا مجھے خود بھی یہ شعر بہت پسند ہے اچانک گروپ کا موڈ تبدیل ہوا اور یاد آگیا کہ یہ ادبی گروپ ہے جہاں شاعری ، غزلیں ، کہانیاں ، افسانے اور ناولز کے بارے میں بات کی جانی ہے تو پھر میرے شعر کو لے کر خوب طبع آزمائی کی گئی چند ایک نے قافیہ ردیف کے استعمال سے نئے شعر بھی کہہ ڈالے کچھ نے مجھ سے مطلب پوچھا اور میں نے بھی تشریح کر ڈالی یوں سارا دن موسم کی بحث کے بعد میرے شعر نے ادبی گروپ کی یاد دلائی اتنے میں ایڈمن صاحبہ نے سارے دن کی بحث دیکھ کر گروپ چیٹ آف کرنے کی دھمکی دی تو ہماری ایک کوٹ ادو کی بہن نے آم بھجوانے کےلئے ایڈمن کا ایڈریس پوچھ لیا تو وہ ان باکس کا کہہ کر پھر غائب ہو گئیں اور پھر بحث چھڑ گئی کہ لنگڑے آم کو لنگڑا کیوں کہا جاتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اس گروپ کی کیا ہی بات ہے۔۔ اور کیا ادب کھاتا پیتا نہیں ہے آم کا موسم ہو یا مالٹے کا موسم یہ بحث تو زیر بحث رہے گی کہ ذکر تو ہو گا کبھی ملتان ، کوٹ ادو کا اور کبھی سرگودھا کا گروپ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ لکھنے کا مطلب ادب ہے یہاں تک کہ ان کی ہر تحریر ادب سے عاری ہوتی ہے کچھ لوگ تو اینٹی ادب ہیں مگر چونکہ وہ لکھتے ہیں تو خود کو ادیب سمجھتے ہیں ان کی ادبی تحریر پر ذرا ہلکی سی تنقید تو کر کے دیکھیں خیر جانے دیں اگر ادبی گروپ میں سے کسی نے آرٹیکل پڑھ لیا تو کہیں ادبی گروپ سے نکال ہی نہ دیا جائے اور ہم پوچھتے پھریں قصور اپنا اور سچ تو یہ ہے کہ لکھنے کےلئے اس گروپ سے ہمیں طنز ومزاح کا اچھا مواد مل جاتا ہے اکثر ہمیں مسکراتا دیکھ کر سب پوچھتے ہیں ہمیں بھی لطیفہ سناؤ تو ہم کہے دیتے ہیں نہیں بھئی۔۔۔۔ ہم تو ادبی گروپ کی پوسٹ پڑھ رہے ہیں |
|
امید ناصر کے قلم سے
ادبی گروپ ہمارے موبائل میں کوئی چھ سات گروپ ہیں جن میں ہر وقت کوئی نہ کوئی موضوع زیر بحث رہتا ہے ایک ادبی گروپ بھی ہے جس میں ایڈمن کا حکم ہے کہ صرف ادبی پوسٹ ہی کی جائیں مگر چند دن گزرنے کے بعد ہی پتہ چلا کہ ادب کے سوا سب کچھ زیر بحث رہتا ہے مختلف لوگ ، مختلف انداز میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں آپ کے شہر میں کیسا موسم ہے؟ صبح ایڈمن صاحبہ نے یہ پوسٹ لگائی تھی سارا دن گزر گیا مگر جواب ہیں کہ رکتے ہی نہیں کہیں بارش ہے تو کہی ژالہ باری ہو رہی ہے کہیں سے طوفان کا خدشہ بتایا جارہا ہے کوئی بارش کے فوائد تو کوئی نقصان گنوا رہا ہے سو جتنے منہ اتنی باتیں مگر ادب کہیں ،کسی وقت زیر بحث نہیں لایا گیا پھر میں نے بارش کے موضوع پہ اپنے چند اشعار شامل کئے تاکہ کچھ ادبی ماحول بن جائے۔ مگر۔۔۔ نہ جی ایک موصوفہ نے جلدی جلدی آم کے فوائد کی پوسٹ لگا دی اور پھر سارا گروپ آم کی اقسام گنوانے لگا میں نے اپنے اشعار دوبارہ بھیج دیئے ✓کاش ان بارشوں میں بہہ جاتے غم بھی خس و خاشاک ہوتے پھر مجھے ایک اور شعر یاد آیا مجھے لگا کہ شاید میرا شعر کوئی اثر انگیز نہیں تو کیا تعریف اور کیا تنقید دوسرا شعر گروپ کی نذر کیا
✓کچھ اس طرح کھلا آرزو کا رنگ بارش میں یاد کا پیرہن بھیگنے لگا مجھے خود بھی یہ شعر بہت پسند ہے اچانک گروپ کا موڈ تبدیل ہوا اور یاد آگیا کہ یہ ادبی گروپ ہے جہاں شاعری ، غزلیں ، کہانیاں ، افسانے اور ناولز کے بارے میں بات کی جانی ہے تو پھر میرے شعر کو لے کر خوب طبع آزمائی کی گئی چند ایک نے قافیہ ردیف کے استعمال سے نئے شعر بھی کہہ ڈالے کچھ نے مجھ سے مطلب پوچھا اور میں نے بھی تشریح کر ڈالی یوں سارا دن موسم کی بحث کے بعد میرے شعر نے ادبی گروپ کی یاد دلائی اتنے میں ایڈمن صاحبہ نے سارے دن کی بحث دیکھ کر گروپ چیٹ آف کرنے کی دھمکی دی تو ہماری ایک کوٹ ادو کی بہن نے آم بھجوانے کےلئے ایڈمن کا ایڈریس پوچھ لیا تو وہ ان باکس کا کہہ کر پھر غائب ہو گئیں اور پھر بحث چھڑ گئی کہ لنگڑے آم کو لنگڑا کیوں کہا جاتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اس گروپ کی کیا ہی بات ہے۔۔ اور کیا ادب کھاتا پیتا نہیں ہے آم کا موسم ہو یا مالٹے کا موسم یہ بحث تو زیر بحث رہے گی کہ ذکر تو ہو گا کبھی ملتان ، کوٹ ادو کا اور کبھی سرگودھا کا گروپ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ لکھنے کا مطلب ادب ہے یہاں تک کہ ان کی ہر تحریر ادب سے عاری ہوتی ہے کچھ لوگ تو اینٹی ادب ہیں مگر چونکہ وہ لکھتے ہیں تو خود کو ادیب سمجھتے ہیں ان کی ادبی تحریر پر ذرا ہلکی سی تنقید تو کر کے دیکھیں خیر جانے دیں اگر ادبی گروپ میں سے کسی نے آرٹیکل پڑھ لیا تو کہیں ادبی گروپ سے نکال ہی نہ دیا جائے اور ہم پوچھتے پھریں قصور اپنا اور سچ تو یہ ہے کہ لکھنے کےلئے اس گروپ سے ہمیں طنز ومزاح کا اچھا مواد مل جاتا ہے اکثر ہمیں مسکراتا دیکھ کر سب پوچھتے ہیں ہمیں بھی لطیفہ سناؤ تو ہم کہے دیتے ہیں نہیں بھئی۔۔۔۔ ہم تو ادبی گروپ کی پوسٹ پڑھ رہے ہیں |
|