مشاہدہ

مشاہدہ
از قلم : آمینہ یونس ،بلتستانی
مشاہدہ صرف آنکھوں سے دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ دل و دماغ کے ساتھ کسی چیز کی تہہ تک پہنچنے کا فن ہے۔ یہ وہ خاموش عمل ہے جو ایک عام انسان اور ایک لکھاری کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔ ہر شخص دیکھتا ہے، مگر ہر کوئی محسوس نہیں کرتا، اور یہی احساس لکھاری کے مشاہدے کو زندہ اور بامعنی بنا دیتا ہے۔ عام طور پر ہر انسان کو مشاہدہ کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ذہن کھلتا ہے اور سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ مشاہدہ دراصل اس عمل کا نام ہے جس میں انسان صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ غور بھی کرتا ہے اور دیکھنے کو سمجھ میں بدل دیتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ صلاحیت بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ جب بچہ ایک یا دو سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بڑی توجہ سے دیکھتا ہے اور اس کا اثر لیتا ہے۔ ماں کے ساتھ گھر کے کام دیکھ کر وہ بھی اسی عمل کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر گھر میں کوئی پڑھتا یا لکھتا ہے تو بچہ بھی کاپی اور پنسل لے کر لکیریں کھینچنے لگتا ہے۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ مشاہدہ سیکھنے کے عمل کو تیز اور مؤثر بناتا ہے۔ اسی طرح ایک مستری جب کسی نئی جگہ جاتا ہے تو وہ دیواروں، ڈیزائنز اور تعمیر کے انداز کو غور سے دیکھتا ہے، اور اگر اسے کوئی نیا طریقہ پسند آئے تو وہ اسے اپنی محنت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک استاد بھی کسی اچھے طریقۂ تدریس کو دیکھ کر اسے اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں مشاہدہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اچھائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں مشاہدہ ایک ایسے استاد کی حیثیت رکھتا ہے جو انسان کو خاموشی سے سکھاتا ہے اور اسے بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ مشاہدے کا سب سے زیادہ اثر لکھاری پر پڑتا ہے کیونکہ وہ حساس مزاج رکھتا ہے۔ ایک معمولی سا منظر بھی اس کے ذہن کو متحرک کر دیتا ہے اور اس کی قلم کو حرکت دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ سردی میں ننگے سر رو رہا ہو تو ایک لکھاری فوراً اس احساس کو الفاظ میں ڈھالنے لگتا ہے۔ فطرت کے مناظر میں کہیں کوئی تنہا درخت، کہیں کوئی تکلیف میں مبتلا انسان، یا کہیں کوئی حسین منظر اس کے لیے ایک مکمل تحریر کا آغاز بن جاتا ہے۔ اسی طرح جب سخت گرمی میں چلتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہو تو لکھاری کے ذہن میں اس موسم کی خوبصورتی الفاظ کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے۔ یوں ہر لمحہ، ہر منظر اور ہر احساس اس کے لیے ایک نئی کہانی بن جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ مشاہدہ انسان کو سیکھنے، سمجھنے اور بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ آج کے دور میں تو یہ اور بھی آسان ہو گیا ہے کہ انسان مختلف ویڈیوز اور تجربات کے ذریعے نئی چیزیں سیکھ سکتا ہے، جیسے گھر کی سجاوٹ، پھولوں کی دیکھ بھال یا دیگر ہنر۔ جس قدر انسان کا مشاہدہ وسیع ہوتا ہے، اسی قدر اس کی سوچ اور عقل بھی وسعت اختیار کرتی ہے، اور یہی انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف عطا کرتا ہے 

 

amina younus
About the Author: amina younus Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.