اردو ادب کا شہابِ ثاقب: رانا افتخار احمد ثاقب کی شعری و فکری جہات تحریر: ڈاکٹر رانا اظہار احمد گلزار
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
اردو ادب کا شہابِ ثاقب: رانا افتخار احمد ثاقب کی شعری و فکری جہات تحریر: ڈاکٹر رانا اظہار احمد گلزار |
|
اردو ادب کا شہابِ ثاقب: رانا افتخار احمد ثاقب کی شعری و فکری جہات تحریر: ڈاکٹر رانا اظہار احمد گلزار
اردو غزل کا کینوس ہمیشہ سے وسیع رہا ہے، لیکن دیارِ غیر میں بیٹھ کر اپنی مٹی کی خوشبو کو زندہ رکھنا اور زبانِ اردو کی ترویج و اشاعت میں زندگی کے ۳۷ برس وقف کر دینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ رانا افتخار احمد ثاقب ایک ایسی ہی معتبر ادبی شخصیت کا نام ہے جو گزشتہ پونے چار دہائیوں سے سویڈن کے شہر اسٹاک ہولم میں مقیم رہ کر اردو ادب کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کثیر التصانیف شاعر اور نثر نگار ہیں (جن کی کتابیں جیسے رقصِ دل، ستاروں سے پرے، روشنی کا بدن، زندگی ادھوری ہے، اور پنجابی کلام نیلے اتھرو ان کے تخلیقی تنوع کی گواہ ہیں)، بلکہ وہ 'اردو لٹریچر اینڈ کلچر انٹرنیشنل' کے چیئرمین کی حیثیت سے عالمی سطح پر ادبی میل جول کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جہاں تعلیمی سطح پر ان کی شاعری پر ایم فل کا مقالہ لکھا جا چکا ہے، وہاں عظیم دانشور ڈاکٹر مقصود جعفری نے انہیں اردو ادب کا "شہابِ ثاقب" اور ان کے سائنسی شعور کی بنا پر "موجدِ سائنسی غزل" کے خطابات سے نوازا ہے۔ افتخار احمد ثاقب صاحب کا یہ شعر ان کے فکری رخ کا عکاس ہے: میں افتخارِ ادب ہوں شہابِ ثاقب ہوں میں دینِ حق کی صداقت کی بات کرتا ہوں
افتخار احمد ثاقب روایتی غزل کے رچاؤ اور عصری شعور کے امتزاج پر گہری گرفت رکھتے ہیں۔ تغزل، ردیف و قافیہ کی ندرت اور فکری تنوع افتخار احمد ثاقب کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کا روایتی تغزل اور بحور و اوزان پر مضبوط گرفت ہے۔ وہ غزل کے کلاسیکی رچاؤ سے بخوبی واقف ہیں، مگر ان کا اسلوب جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا فکری کینوس محض داخلی کیفیات تک محدود نہیں بلکہ وہ کائنات، فلسفہ، اور انسانی نفسیات کے گہرے اسرار کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔ شاعری محض الفاظ کو قافیہ و ردیف کے ترازو میں تولنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی دل کی دھڑکنوں، کائناتی سچائیوں اور سماجی رویوں کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں شاعر کا باطنی شعور عکس انداز ہوتا ہے۔ رانا افتخار احمد ثاقب کے شعری مجموعے "زندگی ادھوری ہے" کے منتخب کلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا شعری سلوک روایتی غزل گوئی سے آگے بڑھ کر ایک گہرے فکری ارتقا کا حامل ہے۔ وہ اپنے عہد کے ایک حساس شاہد ہیں، جن کے ہاں عقیدت و محبت کا نور بھی ہے اور عصری کرب کا گہرا احساس بھی۔ رانا افتخار احمد ثاقب کے شعری سلوک کو درج ذیل فکری اور فنی جہتوں کے تحت سمجھا جا سکتا ہے: نعتِ رسولِ مقبولﷺ: فکری و روحانی اساس رانا افتخار احمد ثاقب کے شعری سفر کی فکری اساس عشقِ رسولﷺ اور اسلامی اقدار پر قائم ہے۔ ان کی نعت "طلوعِ سحر" محض روایتی عقیدت کا اظہار نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک بڑے فکری انقلاب کا منظوم احاطہ ہے۔ وہ بعثتِ نبویﷺ سے پہلے کے تاریک دور اور اس کے بعد پیدا ہونے والے اجالے کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کوئی ویرانی سی چھائی تھی جہاں میں بس نمودِ خار و خس تھی گلستاں میں ظلم کے ساگر میں گم تھی آدمیت آدمی کو آدمی سے تھی رقابت
اس کے بعد وہ حضورﷺ کی آمد کو "سحر" اور "اجالے" سے تشبیہ دیتے ہیں جو انسانیت کی فلاح کا باعث بنی۔رانا افتخار احمد ثاقب صاحب کا یہ اسلوب ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک شاعری کا پہلا اور اہم ترین مقصد روحانی بالیدگی اور حق کا پرچار ہے۔
رانا افتخار احمد ثاقب کے ہاں تصوف اور عرفانِ ذات کا رنگ بھی نمایاں ہے۔ وہ انسان کو کائنات کی وسعتوں میں اس کے مقام اور بندگی کے اصل تصور سے روشناس کراتے ہیں۔ صفحہ 32 کے اشعار میں وہ خدا کی رحمتوں اور شعورِ ذات کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
ظلمتِ شب میں مجھے دی روشنائی پھر شعورِ ذات دے کر زندگی دی آپ نے دی دینِ حق کی روشنائی چیز ہر اک جیسی ہے ویسی دکھائی
یہاں "چیز ہر اک جیسی ہے ویسی دکھائی" سے مراد حقیقتِ اشیاء کا ادراک ہے، جو تصوف میں ایک بڑا مرتبہ مانا جاتا ہے۔ وہ بندگی کو آسان سمجھتے ہیں لیکن دنیاوی بتوں (انا، حرص، جھوٹے خداؤں) کی نفی کو مشکل قرار دیتے ہیں:
بندگی اک خدا کی ہے آساں ہاں مگر بت گری سے مشکل ہے
ایک سچا شاعر اپنے معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ ثاقب صاحب کے کلام میں عصری حسیت اور دنیا کے مادی رویوں پر گہری چوٹ ملتی ہے۔ وہ اپنے عہد کے سیاسی و سماجی جبر (طاغوتی طاقتوں) اور غریب نوازی کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کرتے ہیں: دہر میں آج بھی طاغوت کی طاقت ہے بہت اب بھی دنیا میں غلاموں کی تجارت ہے بہت آج بھی لوگ بہت فاقے سے مر جاتے ہیں شہر میں گرچہ امیروں کی سخاوت ہے بہت
یہ اشعار ترقی پسندانہ شعور کے عکاس ہیں، جہاں وہ سرمایادارانہ نظام اور طبقاتی کشمکش پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ سردی میں ٹھٹھرتے انسان اور حرم کے "ٹھیکیداروں" کے خلاف ان کا قلم بغاوت کا علم بلند کرتا نظر آتا ہے۔۔غزل کی روایت میں جہاں حسن و عشق کے معاملات ناگزیر ہیں، وہاں رانا افتخار احمد ثاقب صاحب کے ہاں محبت کا ایک مخلصانہ اور پروقار انداز ملتا ہے۔ وہ ہجر و وصال کی کیفیات کو سادگی مگر اثر انگیزی سے بیان کرتے ہیں:
چمن میں پھر سے بہاروں کی آرزو کی ہے مہکتے پھول ہوں ہر سو یہ جستجو کی ہے
مری نظر میں ادائیں سمائی ہیں ان کی مرے وجود میں خوشبو بھی خوبَرو کی ہے
لیکن اس محبت میں بھی وہ زمانے کی کٹھن راہوں اور دنیا سے ٹکرانے کے حوصلے کو فراموش نہیں کرتے: بہت کٹھن تھا محبّت کا راستہ ثاقب لڑائی عشق نے دنیا سے دو بدو کی ہے رانا افتخار احمد ثاقب کے فنی سلوک کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان کی سادگی اور سلاست ہے۔ وہ پیچیدہ فلسفوں کو بھی سہلِ ممتنع کے انداز میں پیش کرنے پر قادر ہیں۔ ان کی ردیفیں (مثلاً "سے مشکل ہے"، "ہے بہت") بحر کے آہنگ کے ساتھ مل کر اشعار میں ایک خاص نغمگی اور تکرارِ حسن پیدا کرتی ہیں، جس سے شعر براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتا ہے۔ "ریزہ ریزہ شکستہ دل میرا"، "جان کنی کی گھڑی"، اور "سلسلۂ ہائے زمان و لامکاں" جیسی تراکیب ان کی لغوی گرفت اور ادبی پختگی کا ثبوت ہیں۔ ان کی غزلوں میں ردیف اور قافیے کا انتخاب محض بحر کی ضرورت پورا نہیں کرتا، بلکہ فکر کے نئے دریچے کھولتا ہے۔ مثال کے طور پر، "ہونے والا" کی مشکل ردیف میں ان کا یہ فلسفیانہ اور سائنسی شعور دیکھیے:
شرارا تو اختر نہیں ہونے والا یہاں کچھ بھی بہتر نہیں ہونے والا نہیں بن سکے گا کبھی پانی شعلہ سپاہی سکندر نہیں ہونے والا
ان اشعار میں وہ مادی اور فطری قوانین (Scientific Laws) کی تبدیلی کو شعری قالب میں ڈھالتے ہیں۔ شرارے کا تارے نہ بن سکنا یا پانی کا شعلہ نہ بن پانا، ایک عمیق سائنسی اور منطقی حقیقت کی طرف اشارہ ہے، جو ڈاکٹر مقصود جعفری کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ غزل میں سائنسی شعور کے نقیب ہیں۔
غزل بنیادی طور پر عشق و محبت کی زبان ہے۔ افتخار احمد ثاقب کے کلام میں جہاں کائناتی حقائق ہیں، وہاں داخلی وارداتِ قلب اور ہجر و وصال کے رنگ بھی انتہائی دلکش ہیں۔ ان کی ایک خوبصورت غزل جس کی ردیف "جاناں" ہے، تغزل کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس غزل کا مطلع اور اشعار حسنِ بیاں کا شاہکار ہیں:
بلائے جان ہوئی ہے یہ عاشقی جاناں گراں بہا ہے ہماری یہ زندگی جاناں کبھی زمانے کا غم ہے کبھی محبّت کا ہے جاں گداز بہت اپنی بے بسی جاناں
یہاں "عاشقی" اور "زندگی" کے مابین جو توازن انہوں نے قائم کیا ہے، وہ عکاسی کرتا ہے کہ ان کے ہاں عشق زندگی سے الگ کوئی جزیرہ نہیں، بلکہ حیات کا حاصل ہے۔ اگلا شعر دیکھیے جہاں وہ ہجر و وصال کے صوفیانہ اور نفسیاتی پہلو کو چھوتے ہیں:
کبھی وصال کی فرحت کبھی فراق کے دکھ محبّتوں میں یہ کیسی ہے دلبری جاناں اسی لیے تو سکوں دل میں ہو گیا میرے ہے تیرے ہونے سے دل میں جو روشنی جاناں
محبوب کے وجود کو "روشنی" سے تعبیر کرنا اور اس سے دل کا پرسکون ہو جانا، ان کی شاعری میں پائے جانے والے مثبت تعمیری رجحان (Optimism) کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اندھیروں کے شاعر نہیں بلکہ روشنی کے مسافر ہیں۔ اخلاقیات، پاسداریِ وضع اور انسان دوستی افتخار احمد ثاقب کی شاعری کا ایک اہم ترین پہلو ان کا ناصحانہ مگر دلنشین انداز ہے۔ وہ معاشرتی بگاڑ پر کڑھتے ہیں لیکن مایوسی پھیلانے کے بجائے انسان کو اس کے اصل منصب اور اخلاقی اقدار کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ ان کی غزل "نہیں کرنا" کی ردیف کے ساتھ انسانیت اور اخلاق کا منشور پیش کرتی ہے: لڑو حق کے لیے اپنے مگر دیکھو فرائض سے کبھی غفلت نہیں کرنا کرو تم جرم سے نفرت مگر ہرگز کسی انسان سے نفرت نہیں کرنا
یہ شعر موجودہ دور کے عالمی خلفشار، نفرتوں اور انتہا پسندی کے خلاف ایک بہت بڑا فکری اعلان ہے۔ "جرم سے نفرت، مجرم سے نہیں" کا صوفیانہ و انسانی فلسفہ ثاقب صاحب کے دل کی کشادگی اور انسان دوستی کا بین ثبوت ہے۔ مزید براں، سماجی منافقت اور پسِ پشت برائی کرنے والوں کو وہ جس کھلے پن سے للکارتے ہیں، وہ ان کی جراتِ رندانہ کو ظاہر کرتا ہے:
کسی کی پیٹھ کے پیچھے کبھی نہیں کی بات امیرِ شہر سے بھی ہم نے روبرو کی ہے
ہجرت کا دکھ اور دیارِ غیر میں ذات کی شناخت طویل عرصے تک وطن سے دور رہنے کا کرب ثاقب صاحب کے کلام میں ایک دھیمی آنچ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ہجرت محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ یہ روح کا سفر ہے۔ ان کی غزلوں میں دل سے ہجرت نہ کرنے کی خواہش دراصل اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنے وطن سے جڑے رہنے کا استعارہ ہے:
محبّت میں کبھی فرقت نہیں کرنا مرے دل سے کبھی ہجرت نہیں کرنا ترا دل ہو گیا روشن تو دوبارہ گرفتارِ شبِ ظلمت نہیں کرنا
یہاں "شبِ ظلمت" مغرب کی اس مادی چکا چوند کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے جو انسان کو اپنی روحانیت اور اصل شناخت سے دور کر دیتی ہے۔ ثاقب صاحب اپنے قاری کو اس تاریکی سے بچنے اور اندر کی روشنی کو برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔
افتخار احمد ثاقب کی شاعری میں صوفیانہ رنگ اور تسلیم و رضا کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ وہ زندگی کو اس کی تمام تر تلخیوں اور خوشیوں کے ساتھ قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ردیف "کی جائے" میں ان کا یہ رنگ ملاحظہ ہو:
چاہے خوش ہوں یا آہ کی جائے زندگی کی ہی چاہ کی جائے کر لیے ہیں بہت گلے شکوے زندگی سے نباہ کی جائے ہم محبّت کو عام کرتے ہیں ساری دنیا گواہ کی جائے
گلے شکوے چھوڑ کر زندگی سے نباہ کرنا اور دنیا کی مخالفت کے باوجود "محبّت کو عام کرنا" ان کے تصوف کا بنیادی نقطہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ صرف محبت سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ فنی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو رانا افتخار احمد ثاقب کی زبان نہایت شستہ، سلیس اور ابہام سے پاک ہے۔ وہ ثقیل اور بوجھل الفاظ کے بجائے روزمرہ کی زبان کو شعری حسن عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں علامتوں کا استعمال بہت فطری ہے (جیسے چاند، روشنی، اختر، شعلہ، شبِ ظلمت)۔ ان کی غزل کا ایک اور رنگ دیکھیے جہاں وہ داخلی بے چینی اور یادوں کے ہجوم کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں:
دل میں آتے ہیں جو مہمان چلے جاتے ہیں کرتے ہیں وہ مرا نقصان چلے جاتے ہیں وہ خیالوں میں دکھاتے ہیں تجلّی اپنی پھر مجھے کر کے پریشان چلے جاتے ہیں
"مہمان" کا نقصان کر کے چلے جانا ایک اچھوتی تشبیہ ہے، جو ان مٹتی ہوئی یادوں اور خوابوں کی عکاس ہے جو انسان کو اندر سے خالی کر جاتے ہیں۔
رانا افتخار احمد ثاقب کا شعری سلوک عقیدت، حقیقت پسندی، عصری کرب اور جمالیاتی حس کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کی شاعری محض وقت گزاری یا قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ زندگی کے ادھورے پن کو فکری سچائیوں اور امید کے اجالوں سے بھرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ ان کا کلام قاری کو جہاں باطنی سکون اور روحانیت کی طرف راغب کرتا ہے، وہاں اسے اپنے اردگرد بکھرے سماجی مسائل پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ بلاشبہ، ان کا یہ مجموعہ کلام اردو شاعری کے فکری سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ افتخار احمد ثاقب کی شاعری کا گہرا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محض قافیہ پیمائی نہیں کرتے، بلکہ ان کا ہر شعر ایک گہرے فکری تجربے، مشاہدے اور سچی مٹی کی خوشبو سے گندھا ہوا ہے۔ ان کی شاعری سویڈن کی سرد راتوں میں اردو ادب کے ابلتے ہوئے گرم لہو کی مانند ہے، جو قاری کے دل میں حرارت پیدا کرتی ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے انہیں ٹھیک ہی "شہابِ ثاقب" کہا تھا، کیونکہ جس طرح شہابِ ثاقب اندھیری رات میں روشنی کی ایک تیز لکیر کھینچتا ہے، اسی طرح افتخار احمد ثاقب کی غزلیں عصرِ حاضر کی مادی ظلمتوں میں فکری و اخلاقی روشنی کا مینار ہیں۔ ان کا یہ مجموعہ اردو غزل کے سرمایہ میں ایک گراں قدر اور معتبر اضافہ ہے، جو رہتی دنیا تک اپنی شعری چمک برقرار رکھے گا۔ |
|