آج ہماری دنیا ایک عجیب محاصرے میں ہے۔ یہ محاصرہ کسی ظاہری فوج یا دیواروں کا نہیں، بلکہ بدی، نفرت اور خودغرضی کی ایک ایسی فضا کا ہے جس نے ہر طرف خاموشی اور خوف کی چادر اوڑھ لی ہے۔ وہ تمام آوازیں جو کبھی سچائی، انصاف اور انسانیت کی بات کرتی تھیں، آج یا تو دبا دی گئی ہیں یا خوفزدہ ہو کر کسی محفوظ گوشے میں پناہ لے چکی ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ نیکی (خیر) ایک کمزور سایہ بن کر رہ گئی ہے، جو دن کے اجالے میں بھی کسی کونے میں لرز رہی ہے۔ وہ بہادر دل جو کبھی حق کے لیے کھڑے ہوتے تھے، اب مایوسی اور تھکاوٹ کی گرد میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ہمارے آس پاس ہر طرف وہ شر غالب ہے جو جھوٹ کو طاقت، منافقت کو ہنر اور بے حسی کو روزمرہ کا معمول بنا چکا ہے۔ اس گھٹن میں ہر شخص کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں، ہر کوئی اس غیبی قوت، اس عظیم ہیرو کا منتظر ہے جو آئے گا اور پلک جھپکتے ہی اس ظلمت کو ختم کر دے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس دنیا کو بچانے والا کوئی ایک شخص ہوگا؟ کیا ہمارا نجات دہندہ کوئی فوق البشر طاقت ہے جو اپنی ڈھال اور تلوار لے کر اس میدان میں اترے گی؟ یا پھر یہ صرف ایک خواب ہے، ایک ایسا انتظار جو ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہونے کا موقع فراہم کر رہا ہے؟ تاریخ اور فلسفہ ہمیں ایک مختلف سبق سکھاتے ہیں۔ جب کبھی اندھیرا گہرا ہوا ہے، روشنی ہمیشہ چھوٹے چھوٹے شعلوں سے شروع ہوئی ہے۔ وہ شعلے جو کسی ایک شخص کے دل میں جلے، پھر دوسرے میں، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک قبیلے یا قوم کی مشعل بن گئے۔ یہ شر جس نے دنیا کا محاصرہ کیا ہے، وہ دراصل ہماری اجتماعی بے عملی اور خاموش رضامندی کا نتیجہ ہے۔ ہم نے برائی کو محض اس لیے پھیلنے دیا کہ یہ آسان تھا، اور نیکی کے لیے کھڑا ہونا مشکل۔ ہم نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے ظلموں، جھوٹوں اور بے انصافیوں کو نظرانداز کیا، اور یہی نظرانداز کی گئی اینٹیں آج بدی کی ایک بڑی دیوار بن چکی ہیں۔ لہٰذا، وہ نجات دہندہ جس کا ہمیں انتظار ہے، وہ کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ وہ آپ کے اندر موجود ہے، میرے اندر موجود ہے، ہر اس فرد کے اندر موجود ہے جو خوف کے باوجود سچ بولنے کی، لالچ کے باوجود ایماندار رہنے کی، اور نفرت کے باوجود محبت کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ دنیا کو بچانے کا عمل کسی ایک معجزاتی دن سے شروع نہیں ہوگا۔ یہ ہر صبح آپ کے اپنے فیصلے سے شروع ہوگا: . کیا آپ اپنے ضمیر کی آواز سنیں گے؟ کیا آپ کمزور کے لیے آواز اٹھائیں گے، جب کہ آپ کو خاموش رہنے کا لالچ دیا جا رہا ہو؟ کیا آپ اس اندھیرے میں خود ایک شمع بنیں گے؟آج ضرورت اس بات کی ہے کہ خوف کے بوجھ تلے سوئی ہوئی خیرکو جگایا جائے۔ . اس محاصرے کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد ہتھیار اٹھائے—اور اس کے ہتھیار سچ، کردار اور غیر متزلزل اخلاقی جرأت ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں: کیا آپ اب بھی کسی ہیرو کا انتظار کر رہے ہیں، یا آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس تاریک وقت میں آپ ہی وہ ہیرو ہیں؟ |