کام کو کل پر ٹالنا — سستی نہیں، نفسیاتی مسئلہ ہے۔


کام کو کل پر ٹالنا — سستی نہیں، نفسیاتی مسئلہ ہے۔
کیا آپ نے کبھی بہت ضروری کام کے ہوتے ہوے بھی اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکل گئے ہوں یا یوٹیوب پر فلم دیکھنے میں لگ جائیں؟ حالانکہ آپکو اسکی اہمیت کا اندازہ ہو اورآپ کے پاس وقت بھی ہو اور اس کو کرنے کا ارادہ بھی ہو لیکن کام شروع نہیں کرتے ---- یہ سستی اور نااہلی نہیں ہے بلکہ یہ Procrastinate ہے۔
Procrastinate کام میں تاخیر کرنا یا ٹال مٹول کرنا۔ ضروری کام ہوتے ہوئے بھی اسے مسلسل کل پر ٹالتے رہنا — جبکہ وہ "کل" کا کوئی وقت متعین نہ ہو۔ اکثر یہ الفاظ سننے میں ملتے ہیں: "ابھی بہت وقت ہے، کل سے شروع کروں گا" — مگر وہ کل کبھی نہیں آتا۔
ویسے اگر ہم چند شاہکار تخلیقات کی بات کریں تو مونا لیزا کی پینٹنگ کو سولہ سال لگے مگر مصور (Leonardo da Vinci ) نے اسے مکمل نہیں کیا ۔ دراصل Da Vinci کا یہ انداز Active Procrastination کی مثال ہے جہاں ذہن لاشعوری طور پر کام کررہا ہوتا ہے
فرینک لائڈ رائٹ (Frank Lloyd Wright) نے فالنگ واٹر (Fallingwater) کا ڈیزائن صرف دو گھنٹے میں مکمل کیا — مگر نو ماہ کی تاخیر کے بعد۔ یہ تخلیقی کام میں ذہنی رکاوٹ (Mental Block) کی مثال ہے۔ تاہم عمومی طور پر Procrastination سے مراد ضروری کاموں کو بغیر کسی تخلیقی جواز کے آخری وقت تک ٹالتے رہنا ہے۔
ہر انسان — خاص طور پر طالب علمی کے زمانے میں — کسی اسائنمنٹ یا امتحان کی تیاری کو شروع کرنے میں ٹال مٹول کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آخری تاریخ سر پر آ جاتی ہے۔
2007ء میں بزنس پروفیسر Piers Steel نے (University of Calgary ) میں ایک سٹڈی کی، اسکے مطابق% 85 سے% 95 طالب علم تاخیر (Procrastinate) کا شکار ہوتے ہیں ۔% 75 طالب علم خود کو (Procrastinator) خیال کرتے ہیں اور%50 طالب علم مستقل طور پر تاخیر (Procrastinate) میں مبتلا تھے ۔
2015ء کی ایک تحقیق کے مطابق بزنس سکولز کے قریباً 38,000 طالب علموں کے گریڈز میں نمایاں کمی آئی — محض اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی اسائنمنٹ تاخیر سے جمع کرائی۔

نفسیات دانوں نے یونیورسٹی اور کالج کے طالب علموں میں Procrastination کے اسباب جاننے کے لیے وسیع تحقیقات کی ہیں۔ اکثر طالب علم اپنی ضروری اسائنمنٹ یا پروجیکٹ کو آخری وقت تک ٹالتے رہتے ہیں، جس سے ان کے گریڈز میں کمی آتی ہے، پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ عادت مستقل رویے میں ڈھل جاتی ہے۔
آئیے اسکی کچھ وجوہات اور تدابیر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
توجہ ہٹانے والی چیزیں Distractions
طالب علموں کی زندگی میں بہت سی ایسی توجہ ہٹانے والی چیزیں ہوتی ہیں جو انہیں پڑھائی، اسائنمنٹ یا پروجیکٹ شروع کرنے سے روکتی ہیں — جیسے دوستوں کے ساتھ گپ شپ، گھر کی سرگرمیاں، ٹی وی شوز، پسندیدہ کھیل — اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا طالب علموں کا سب سے زیادہ وقت ضائع کرتا ہے۔ جب بھی کسی کام کو شروع کرنا مشکل لگے تو طالب علم فوری طور پر اسکرولنگ شروع کر دیتا ہے اور گھنٹوں کا وقت گزر جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔۔
کیا ہم اسے کنٹرول کر سکتے ہیں؟ جی ہاں! اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک واضح شیڈول ترتیب دیں اور اس پر قوتِ ارادی (Willpower) کے ساتھ عمل کریں۔ پڑھنے کی جگہ کو غیر ضروری چیزوں سے پاک رکھیں۔ باہر کے شور سے بچنے کے لیے ائیرپوڈز (Earbuds) استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ وائی فائی بند کریں یا سوشل میڈیا ایپس کو مقررہ وقت تک بلاک کر دیں۔
ناکامی کا خوف Fear of Failure
طالب علم میں ناکامی کا خوف (Fear of Failure) اکثر کام شروع کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ وہ کام ٹالنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ اگر گریڈ کم آئے تو تاخیر کو ذمہ دار ٹھہرا سکے — نہ کہ اپنی صلاحیت کو-- نفسیات میں اس کوDefence Mechanism کہا جاتا ہے۔
اس خوف پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے — چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا ہو۔ کیونکہ ابتدا ہی مشکل ہوتی ہے ۔ کام کو چھوٹے حصوں (Chunking) میں تقسیم کریں تاکہ وہ بوجھل نہ لگے۔ مشکلات پر دوستوں اور پروفیسر سے بات کریں — اکثر مسئلہ بیان کرنے سے ہی حل سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ AI ٹولز سے راہنمائی بھی لی جا سکتی ہے۔
ترغیب (Motivation)
اکثر دفعہ ہم اگر کسی چیز کو کرنے میں مشکل پیش آتی ہے یا ہمیں اسی طرح کے کام میں پہلے کوئی خاص کامیابی نہ ملی ہو، تو ہم دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر طالب علم کو اسائنمنٹ یا پروجیکٹ میں مشکل پیش آ رہی ہو، یا کسی پروفیسر نے پہلے اچھے نمبر نہ دیے ہوں، تو وہ اپنا کام کرنے کی رغبت کھو دیتا ہے۔ ترغیب برقرار رکھنے کے لیے طالب علم کو اپنے حتمی مقصد — ڈگری اور بہتر مستقبل — پر نظر رکھنی چاہیے۔ ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں جو حوصلہ افزائی کریں، اور اچھے Motivational Speakers کی Podcasts سنیں۔
جذباتی ضابطگی Emotional Regulation
طالب علم اکثر اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پانے کی وجہ سے Procrastination کا شکار ہوتے ہیں۔ پریشانی (Anxiety)، مایوسی اور بے چینی کام شروع کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لیے طالب علموں کو اپنی جذباتی ضابطگی (Emotional Regulation) بہتر بنانے، مطالعے کی عادات (Study Habits) کو منظم کرنے اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
پروفیسر حضرات بھی کچھ تدابیر اپنا کر طالب علموں میں Procrastination کو کم کر سکتے ہیں:
• آسا ئنمنٹ کو دلچسپ رکھیں جو کہ طالب علم کے تجسس کو ابھارے
• طالب علم کو فیڈ بیک ضرور دیں اور اسکے ساتھ بہتری کے لیے تجاویز کریں۔
• اسائنمنٹ یا پروجیکٹ کے طریقہ کار کو صاف الفاظ میں بیان کیا جائے
• پہلے جمع کرانے پر کوئی incentive ترغیب انعام دیں۔
خلاصہ
Procrastination محض سستی کا نام نہیں — یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی رویہ ہے جس کے پیچھے خوف، بے ترتیبی، جذباتی عدم توازن اور ماحول کے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اسے سمجھنا اور اس پر قابو پانا ممکن ہے — بشرطیکہ طالب علم، والدین اور اساتذہ مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ آج کا ایک قدم کل کی کامیابی کی بنیاد ہے۔




 
Mahrukh Nazir
About the Author: Mahrukh Nazir Read More Articles by Mahrukh Nazir: 16 Articles with 7456 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.