گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر۔۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں

گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر ضلع کا مستند اور بڑا ادارہ ہے جہاں کم و پیش دس ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر ضلع بھکر کا قدیم ترین اور ممتاز سرکاری تعلیمی ادارہ ہے، جس نے گزشتہ چھ دہائیوں سے اس خطے میں علم، تحقیق اور کردار سازی کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف ہزاروں طلبہ و طالبات کی علمی پیاس بجھانے کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے معاشرے کو ایسے افراد بھی عطا کیے جنہوں نے تعلیم، طب، انجینئرنگ، عدلیہ، فوج، سول سروس، سیاست، صحافت اور کاروبار سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آج یہ کالج ضلع بھکر کی علمی شناخت اور اعلیٰ تعلیم کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اپنی تعلیمی روایات، بہترین تدریسی ماحول اور ہمہ جہت سرگرمیوں کے باعث پورے خطے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔

اس ادارے کی بنیاد یکم مئی 1960ء کو "اسماعیل کالج بھکر" کے نام سے رکھی گئی۔ اس زمانے میں ضلع بھکر تعلیمی لحاظ سے نسبتاً پسماندہ علاقہ تھا اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے نوجوانوں کو میانوالی، سرگودھا، ملتان یا لاہور جیسے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جو ہر خاندان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مقامی مخیر حضرات اور تھل ٹیکسٹائل ملز کی انتظامیہ نے ایک معیاری کالج کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو اپنے ہی شہر میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر آسکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس وقت کی ضرورت تھا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تاریخی سرمایہ بھی ثابت ہوا۔

کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر محمد شجاع ناموس تھے، جو اردو ادب، اسلامیات اور فلسفے کے ممتاز عالم ہونے کے ساتھ ساتھ شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے شاگرد بھی تھے۔ ان کی علمی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور تعلیمی وژن نے کالج کے ابتدائی دور کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے اعلیٰ تدریسی معیار قائم کیا، لائبریری کو فروغ دیا، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی اور طلبہ میں نظم و ضبط، اخلاق اور کردار سازی کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کی قیادت میں اسماعیل کالج نے بہت کم عرصے میں علاقے کے بہترین تعلیمی اداروں میں اپنی جگہ بنا لی۔

1964ء میں حکومت پنجاب نے اس ادارے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس موقع پر اسماعیل کالج کی انتظامیہ نے عمارت، فرنیچر، لائبریری اور دیگر تمام اثاثے حکومت کے حوالے کر دیے تاکہ ادارہ مزید ترقی کر سکے۔ اس کے بعد اس کا نام گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج بھکر رکھا گیا۔ اس تبدیلی نے ضلع بھکر میں سرکاری سطح پر اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی نئی راہیں کھول دیں اور طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

1971ء میں کالج کو گورنمنٹ ڈگری کالج کا درجہ دیا گیا، جس کے بعد بی اے اور بی ایس سی کی کلاسوں کا آغاز ہوا۔ دو سال بعد سائنس کی تعلیم کو مزید وسعت دی گئی اور جدید لیبارٹریاں قائم کی گئیں۔ اسی عرصے میں کالج کو اس کی موجودہ وسیع و عریض عمارت میں منتقل کیا گیا، جہاں کشادہ کلاس رومز، جدید سائنسی لیبارٹریاں، مرکزی لائبریری، سبزہ زار، کھیلوں کے میدان اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان اقدامات نے کالج کو ضلع بھکر کا سب سے اہم اعلیٰ تعلیمی مرکز بنا دیا۔

1990ء اس ادارے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جب اسے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دیا گیا۔ ابتدا میں ایم اے اسلامیات اور ایم اے پولیٹیکل سائنس کی کلاسیں شروع کی گئیں، جبکہ بعد ازاں اردو، انگریزی، معاشیات، ریاضی، طبیعیات، کیمسٹری، نباتیات، حیوانیات، کمپیوٹر سائنس اور دیگر مضامین میں بھی پوسٹ گریجویٹ اور بعد ازاں بی ایس پروگرامز کا آغاز کیا گیا۔ اس ترقی نے ضلع بھکر کے طلبہ کو اپنے علاقے میں ہی معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔

کالج نے ہمیشہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہاں بزمِ ادب، بزمِ اقبال، مباحثے، تقریری مقابلے، مضمون نویسی، مشاعرے، ملی نغمے، یومِ پاکستان، یومِ دفاع، یومِ اقبال اور یومِ قائداعظم جیسی تقریبات باقاعدگی سے منعقد ہوتی رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں نے طلبہ میں خود اعتمادی، قائدانہ صلاحیت، حب الوطنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔

کھیلوں کے میدان میں بھی اس ادارے کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ کالج کے طلبہ نے کرکٹ، ہاکی، والی بال، فٹبال، ایتھلیٹکس اور کبڈی سمیت مختلف کھیلوں میں ضلعی، صوبائی اور بین الجامعاتی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس سے کالج کا نام روشن ہوا۔

کالج کی مرکزی لائبریری ضلع بھکر کی اہم علمی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں ہزاروں کتب، تحقیقی جرائد اور مختلف مضامین پر مشتمل قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ جدید کمپیوٹر لیبز، سائنس لیبارٹریاں اور تدریسی سہولیات طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ادارے کی ترقی میں مختلف ادوار کے پرنسپلز کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ ہر پرنسپل نے اپنے دور میں کسی نہ کسی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ کسی نے تعلیمی معیار کو بلند کیا، کسی نے نئی عمارتوں اور لیبارٹریوں کی تعمیر کروائی، کسی نے پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کے اجرا میں کردار ادا کیا، جبکہ حالیہ ادوار میں بی ایس پروگرامز، ڈیجیٹل سہولیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوبصورت کیمپس اور جدید تعلیمی ماحول کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس مسلسل قیادت اور محنت نے کالج کو ترقی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کیا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق کالج میں چار سالہ بی ایس پروگرامز کا آغاز ادارے کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ خصوصاً 2020ء سے 2023ء کا عرصہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر کی ترقی کا ایک انقلابی دور تصور کیا جاتا ہے۔ اس عرصے میں کالج کے پرنسپل پروفیسر نسیم حیدر خان شاہانی نے اپنی دور اندیش قیادت، انتظامی صلاحیت اور ترقی پسند وژن کے ذریعے ادارے میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائیں۔ ان کی خصوصی کاوشوں سے مختصر مدت میں مختلف مضامین میں دس (10) بی ایس پروگرامز کا آغاز کیا گیا، جس سے ضلع بھکر اور گردونواح کے طلبہ کو اپنے ہی شہر میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع میسر آئے۔ اسی دور میں بی ایس اکیڈمک بلاک کی تعمیر بھی عمل میں آئی، جو پروفیسر شاہانی کی شبانہ روز محنت، مؤثر منصوبہ بندی اور تعلیمی وژن کا ایک قابلِ دید مظہر ہے۔ کالج کی خوبصورتی، جدید انفراسٹرکچر، سرسبز و شاداب ماحول، تعلیمی سہولیات میں اضافہ اور مجموعی ترقی میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
12 مارچ 2025ء سے کالج کی قیادت ڈاکٹر جاوید اقبال کٹ کے سپرد ہے۔ وہ ایک نوجوان، متحرک اور وژنری ماہرِ تعلیم ہیں، جو جدید تعلیمی تقاضوں اور انتظامی بصیرت کے ساتھ ادارے کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعلیمی معیار، نظم و ضبط، طلبہ دوست ماحول، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ، ہم نصابی سرگرمیوں اور ادارے کی مجموعی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کی انقلابی سوچ اور عملی قیادت سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر مستقبل میں بھی علمی و تحقیقی میدان میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا۔
آج گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ضلع بھکر کی علمی، ادبی اور سماجی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ تقریباً پینسٹھ برسوں پر محیط اپنے سفر میں اس ادارے نے لاکھوں طلبہ کی زندگیوں کو علم کی روشنی سے منور کیا، معاشرے کو باصلاحیت افراد فراہم کیے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اپنی شاندار روایات، مخلص اساتذہ، محنتی طلبہ اور مضبوط تعلیمی بنیادوں کی بدولت یہ ادارہ مستقبل میں بھی علم، تحقیق، کردار سازی اور قومی خدمت کے سفر کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ 
واجد نواز ڈھول
About the Author: واجد نواز ڈھول Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 64 Articles with 120635 views i like those who love humanity.. View More