پشاور کی گھریلو مزدور خواتین: محنت، استحصال اور ریاستی خاموشی کا نظام

پشاور میں گھریلو کام کرنے والی خواتین کی کہانی صرف غربت یا روزگار کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے سماجی اور معاشی ڈھانچے کی کہانی ہے جس میں محنت کرنے والی عورت موجود ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک “مزدور” کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔ وہ کام کرتی ہے، کماتی ہے، گھر چلاتی ہے، مگر اس کے باوجود اس کے حقوق، اس کی اجرت، اس کی عزت اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کو نظامی سطح پر مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے۔

تحقیق “The Socio-Economic and Legal Status of Women Domestic Workers in District Peshawar” اس خاموش مگر وسیع استحصال کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔ یہ خواتین کسی ایک وجہ سے نہیں بلکہ ایک پورے معاشی دباو کے جال میں پھنس کر گھریلو مزدوری کی طرف آتی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کام کیوں کرتی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے لیے انتخاب کا دروازہ کیوں بند ہوتا جا رہا ہے۔

پہلی اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو اور غیر رسمی معیشت ایک “اندھا شعبہ” ہے۔ یہ معیشت اربوں روپے پیدا کرتی ہے، مگر اس کا بڑا حصہ نہ ٹیکس نیٹ میں آتا ہے، نہ لیبر ریکارڈ میں، اور نہ ہی پالیسی کے دائرے میں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین قانونی تحفظ سے تقریباً محروم ہیں۔ ان کے لیے نہ واضح اجرت کا معیار ہے، نہ کام کے اوقات کی حد، اور نہ ہی کسی موثر شکایت کا نظام۔

پشاور جیسے شہر میں یہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں گھریلو مزدور خواتین کی بڑی تعداد غیر رسمی طور پر کام کرتی ہے۔ مختلف سرویز اور تحقیقی ڈیٹا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں لاکھوں خواتین غیر رسمی معیشت سے جڑی ہوئی ہیں، اور پشاور اس کا ایک بڑا مرکز ہے۔ لیکن یہ اعداد و شمار بھی حقیقت کا صرف ایک کمزور عکس ہیں، کیونکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو کبھی ریکارڈ میں نہیں آتی۔ اصل مسئلہ صرف روزگار نہیں بلکہ اس روزگار کے ساتھ جڑا ہوا غیر متوازن سماجی دباو ہے۔ زیادہ تر خواتین اس شعبے میں اس لیے نہیں آتیں کہ یہ ان کا پسندیدہ انتخاب ہوتا ہے، بلکہ اس لیے آتی ہیں کہ گھر کا معاشی نظام ٹوٹ چکا ہوتا ہے یا ناکافی ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے بڑا سبب شوہر کی ناکافی آمدنی ہے، جو تقریباً 36.4 فیصد کیسز میں بنیادی محرک بنتی ہے۔ اس کے بعد وہ خواتین آتی ہیں جو بیوہ، طلاق یافتہ یا مکمل طور پر غیر سہارا ہوتی ہیں، جن کا تناسب 14.5 فیصد ہے۔ پھر ایسے گھرانے آتے ہیں جہاں متعدد معاشی دباو ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں، یعنی آمدنی، مہنگائی، اور خاندانی اخراجات کا مشترکہ بوجھ۔ یہ تمام وجوہات ایک ہی نتیجے کی طرف لے جاتی ہیں: عورت کو معاشی بقا کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ باہر نکلنا آزادی نہیں ہوتا، یہ اکثر ایک نئے دباو کا آغاز ہوتا ہے۔

اصل تضاد یہاں شروع ہوتا ہے۔ ایک طرف معاشرہ عورت کو کمائی کرنے پر مجبور کرتا ہے، دوسری طرف اسی عورت سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ وہ گھر کی تمام ذمہ داریاں پہلے کی طرح پوری کرے گی۔ بچوں کی دیکھ بھال، گھر کے کام، رشتہ داروں کے تعلقات، اور سماجی ذمہ داریاں سب کچھ اسی کے حصے میں آتا ہے۔ یہ دوہرا بوجھ صرف تھکن نہیں پیدا کرتا، یہ ایک مستقل ذہنی دباو پیدا کرتا ہے۔ تھکن کو اکثر “رویہ” یا “مزاج” کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک واضح معاشی اور سماجی استحصال کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ فرد کا نہیں، نظام کا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے جس سے اکثر نظریں چرائی جاتی ہیں: اگر عورت معاشی طور پر گھر کو سہارا دے رہی ہے، تو پھر گھریلو اور خاندانی ذمہ داریوں کی تقسیم کیوں تبدیل نہیں ہوتی؟ جواب سادہ ہے، کیونکہ ہمارے سماجی ڈھانچے نے عورت کی کمائی کو قبول کیا ہے، مگر اس کی برابری کو نہیں۔ گھریلو مزدور خواتین کے لیے قانونی تحفظ کا فقدان سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے لیے نہ کوئی باقاعدہ کنٹریکٹ ہوتا ہے، نہ سوشل سیکیورٹی، نہ ہی کسی قسم کی انشورنس۔ اگر انہیں تنخواہ کم دی جائے، تاخیر کی جائے یا مکمل طور پر روک لی جائے تو ان کے پاس عملی طور پر کوئی ادارہ نہیں جہاں وہ شکایت درج کر سکیں۔ یہی قانونی خلا استحصال کو معمول بنا دیتا ہے۔

یہ صورتحال صرف ایک گھر یا ایک محلے کا مسئلہ نہیں، یہ پورے لیبر سسٹم کی ناکامی ہے۔ ریاست نے غیر رسمی معیشت کو عملی طور پر “غیر موجود” سمجھ لیا ہے۔ جو شعبہ معیشت کا بڑا حصہ چلا رہا ہے، وہی سب سے کم محفوظ ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گھریلو مزدور خواتین میں صرف معاشی دباو ہی نہیں بلکہ خاندانی دباو بھی ایک اہم عنصر ہے۔ بعض صورتوں میں شوہر کی بے روزگاری، معذوری یا نشے کی لت عورت کو کمانے پر مجبور کرتی ہے۔ کچھ کیسز میں سسرالی یا خاندانی افراد کا دباو بھی شامل ہوتا ہے۔ یعنی عورت صرف معاشی نظام کا نہیں بلکہ خاندانی طاقت کے ڈھانچے کا بھی شکار ہے۔

یہ پورا نظام ایک غیر متوازن معاہدے پر چل رہا ہے۔ عورت کام کرتی ہے، مگر اس کے بدلے اسے تحفظ نہیں ملتا۔ وہ ذمہ داریاں اٹھاتی ہے، مگر فیصلے میں اس کی شمولیت نہیں ہوتی۔ وہ معاشی طور پر اہم ہے، مگر قانونی طور پر غیر واضح ہے۔ یہ تضاد کسی ایک اصلاح سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے تین بنیادی سطحوں پر تبدیلی ضروری ہے۔

پہلا: قانونی شناخت۔ گھریلو مزدور خواتین کو رسمی طور پر لیبر قانون کے دائرے میں لانا ہوگا۔ بغیر رجسٹریشن کے اس شعبے کو ہمیشہ استحصال کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ دوسرا: اجرت اور کام کے اوقات کا واضح فریم ورک۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کام کی کوئی حد نہیں، اور اجرت کا کوئی معیار نہیں۔ یہ مکمل طور پر طاقت کے عدم توازن پر چلنے والا نظام ہے۔ تیسرا: سماجی رویے کی اصلاح۔ جب تک عورت کی کمائی کو اس کی حیثیت کے برابر تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک گھریلو بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم برقرار رہے گی۔ یہ صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں، یہ سوچ کا مسئلہ ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ پشاور اور پورے خیبر پختونخوا میں گھریلو مزدور خواتین ایک خاموش معیشت چلا رہی ہیں۔ یہ معیشت نظر نہیں آتی، مگر اس کے بغیر ہزاروں گھر نہیں چل سکتے۔ اس کے باوجود ان خواتین کو نہ معاشی تحفظ حاصل ہے، نہ سماجی عزت، اور نہ ہی ادارہ جاتی شناخت۔یہ خاموشی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیونکہ جس استحصال پر سوال نہ اٹھے، وہ استحصال نہیں رہتا، وہ “نارمل” بن جاتا ہے۔ یہ رپورٹ صرف ایک تحقیق نہیں، یہ ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خواتین کیوں کام کر رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ ایک معاشرہ ان کے کام کو عزت، تحفظ اور انصاف کیوں نہیں دے پا رہا۔

#DomesticWorkers #WomenWorkers #LaborRights #Peshawar #KPNews #InformalEconomy #WomenRights #SocialJustice #PakistanLabor #InvestigativeColumn


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1007 Articles with 780442 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More