عافیہ صدیقی: قید، جدائی اور امید کی کہانی
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو برسوں بعد بھی تازہ رہتے ہیں۔
مجھے یاد ہے جب میری بیٹی محض ایک سے ڈیڑھ سال کی تھی تو میں اپنی اہلیہ اور ننھی بیٹی کے ساتھ متعدد بار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں اور احتجاجی پروگراموں میں شریک ہوا کرتا تھا۔ اس وقت میری بیٹی اتنی چھوٹی تھی کہ اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ ہم کس مقصد کے لیے نکلے ہیں، لیکن آج الحمدللہ وہ گیارہ سال کی ہو چکی ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتی ہے، غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی، اور یہ یقیناً اچھی تربیت اور شعور کا اثر ہے۔
مگر ایک سوال ہے جو آج بھی میرے دل کو چیر دیتا ہے۔
جب بھی میں کسی عافیہ موومنٹ کے پروگرام یا تقریب سے واپس گھر آتا ہوں تو میری بیٹی معصومیت سے پوچھتی ہے:
"بابا! کیا عافیہ آنٹی ابھی تک نہیں آئیں؟"
پھر فوراً دوسرا سوال کرتی ہے:
"وہ کب آئیں گی؟"
اور کبھی کبھی ایک ایسا سوال کر دیتی ہے جس کا جواب میرے پاس نہیں ہوتا:
"اگر وہ معصوم بچوں کی مظلوم ماں ہیں تو پھر پولیس اور حکومت والے کیوں نہیں سمجھتے؟"
میں اسے کیا جواب دوں؟
میں جانتا ہوں کہ یہ سوال ایک معصوم بچی کے ہیں جو ابھی دنیا کی سیاست، طاقت کے کھیل، عالمی مفادات اور بین الاقوامی نظام کی پیچیدگیوں سے واقف نہیں۔ وہ صرف ایک ماں کو دیکھتی ہے جو اپنے بچوں سے دور ہے۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے کہ اگر کسی کے ساتھ ظلم ہو تو انصاف ہونا چاہیے، اگر کوئی ماں اپنے بچوں سے بچھڑ جائے تو اسے واپس آنا چاہیے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بچوں کے سوال اکثر بڑے بڑے دانشوروں اور حکمرانوں سے زیادہ سچے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ ایک ماں کی جدائی، ایک خاندان کی اذیت اور ایک قوم کے احساسِ بے بسی کی داستان بن چکا ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر گیا، حکومتیں بدل گئیں، وعدے بدل گئے، بیانات بدل گئے، مگر عافیہ آج بھی قید کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔
آج میری بیٹی گیارہ سال کی ہو چکی ہے۔ وہ بچی جو کبھی میری گود میں عافیہ کی حمایت کی ریلیوں میں جاتی تھی، آج خود سوال کرتی ہے کہ آخر انصاف میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟
اور میں سوچتا ہوں کہ اگر ایک بچی یہ بات سمجھ سکتی ہے کہ ماں اور بچوں کی جدائی ایک ظلم ہے، تو پھر دنیا کے طاقتور ایوانوں میں بیٹھے لوگ یہ بات کیوں نہیں سمجھ پاتے؟
یہ تحریر کسی سیاست، کسی جماعت یا کسی حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک انسانی احساس کی ترجمانی ہے۔ ایک ایسے احساس کی جو ہر اس شخص کے دل میں موجود ہے جو ماں کی محبت، اولاد کی جدائی اور انصاف کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔
ہم آج بھی دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مشکلات آسان فرمائے، انہیں صحت و عافیت عطا کرے اور ان کی اپنے وطن اور اہلِ خانہ سے جلد ملاقات نصیب فرمائے۔
شاید میری بیٹی کا یہ سوال اب بھی فضا میں معلق ہے:
"بابا! عافیہ آنٹی کب واپس آئیں گی؟"
اور شاید اس سوال کا جواب آج بھی پوری قوم تلاش کر رہی ہے۔ |