ٹیلی کام بل یا خاموش قبضے کی دستاویز؟جب قانون ساز خود کہیں کہ "ہمیں پتہ نہیں تھا"


ایک دن قبل مجھے ایک ویڈیو کلپ موصول ہوئی۔ ویڈیو میں دو نوجوان مذاق اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جبکہ دوسرا اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ اچانک اس نے پستول اس کے پچھلے حصے کی طرف کی اور ٹریگر دبا دیا۔ شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ پستول میں گولی موجود ہے۔ گولی چل گئی، لڑکا زخمی ہو کر گر پڑا اور شوٹر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس کا پہلا جملہ یہی تھا، "مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس میں گولی تھی۔"یہ ویڈیو دیکھتے ہوئے مجھے متنازعہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل یاد آیا۔

عوامی ردعمل کے بعد حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کا مو¿قف بھی کم و بیش یہی نظر آیا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بل میں کیا لکھا ہے، کون سی شقیں شامل ہیں اور ان کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ کسی نے کہا قانون کو غلط سمجھا گیا ہے، کسی نے کہا قبضے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا، کسی نے کہا عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ارکان کو تنخواہیں، مراعات، گاڑیاں، عملہ اور بے شمار سرکاری سہولیات اس لیے نہیں دی جاتیں کہ وہ قانون پڑھے بغیر اس پر ہاتھ کھڑا کر دیں۔ ان کا بنیادی کام قانون سازی ہے۔ اگر وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس بل کی منظوری دے رہے ہیں تو پھر یہ صرف ایک متنازعہ بل کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے قانون سازی کے نظام کی ناکامی ہے۔

پاکستان میں ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ بل تیار ہوتا ہے، چند افراد اسے دیکھتے ہیں، پارٹی قیادت اشارہ کرتی ہے، اور پھر منتخب نمائندے تفصیلات پڑھے بغیر منظوری دے دیتے ہیں۔ بعد میں جب تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو وضاحتیں شروع ہو جاتی ہیں کہ اصل مقصد یہ نہیں تھا، عوام نے غلط سمجھا یا میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

حکومت کا مو¿قف ہے کہ یہ ترمیمی ایکٹ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کو جدید، مسابقتی اور منظم بنانے کے لیے لایا گیا۔ اس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا، یونیورسل سروس فنڈ اور ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ فنڈ کو مزید مضبوط بنایا گیا، اسپیکٹرم کی نیلامی کو شفاف بنانے کی کوشش کی گئی اور دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی فراہمی کے لیے قانونی رکاوٹیں کم کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ تمام مقاصد بظاہر مثبت ہیں۔

پاکستان کو بہتر انٹرنیٹ چاہیے۔ پاکستان کو دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی چاہیے۔ پاکستان کو فائبر آپٹک انفراسٹرکچر کی توسیع چاہیے۔ پاکستان کو ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس پر شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ترقی اور بنیادی حقوق ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آنے لگیں۔ اس پورے تنازعے کا مرکز Right of Way یعنی حق راہ گزر سے متعلق شقیں ہیں۔ بل کی دفعہ 27A(1) میں لکھا گیا کہ لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیوں کو عوامی اور نجی مقامات استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ پھر دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ QB میں "پرائیویٹ پلیس" کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے مراد عام شہریوں کی ہر قسم کی نجی جائیداد ہوگی۔

یہاں سے سوالات جنم لیتے ہیں۔اگر نجی جائیداد کی تعریف میں شہری کی ہر قسم کی ملکیت شامل ہے تو پھر کمپنی کے اختیارات کی حد کیا ہے؟ کیا ایک کمپنی کسی شہری کے گھر، زمین، پلاٹ یا دیگر جائیداد کے بارے میں قانونی دعویٰ کر سکتی ہے؟ کیا شہری کی رضامندی لازمی ہے یا نہیں؟ حکومت کہتی ہے رضامندی لازمی ہے، لیکن عوام بل کی اگلی شقیں پڑھ کر مطمئن نہیں ہو رہے۔ دفعہ 27A(2) میں کہا گیا ہے کہ جائیداد کا کوئی مالک یا اتھارٹی کمپنی کو حاصل اختیارات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

اس کے بعد دفعہ 27A(3) میں طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔ کمپنی کسی شہری کو خط یا ای میل لکھے گی کہ اسے یہ جگہ درکار ہے۔ اگر جواب نہ آئے تو ایک یاد دہانی بھیجی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود شہری خاموش رہے تو خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے گا اور معاہدہ منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔ یہی وہ شق ہے جس نے سب سے زیادہ تشویش پیدا کی ہے۔ دنیا بھر میں معاہدوں کے بنیادی اصولوں میں رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ خاموشی کو رضامندی قرار دینا ایک غیر معمولی تصور ہے۔پاکستان جیسے ملک میں تو یہ تصور مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

کتنے لوگ باقاعدگی سے ای میل استعمال کرتے ہیں؟ کتنے لوگوں کو قانونی نوٹس سمجھنے کی اہلیت ہے؟ کتنے پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں؟ کتنے افراد اپنے آبائی علاقوں میں موجود نہیں ہوتے؟ کتنے لوگ ڈاک کے نظام پر مکمل اعتماد کر سکتے ہیں؟ اگر ایک شخص خط نہ دیکھ سکے، ای میل نہ پڑھ سکے یا قانونی زبان سمجھ نہ سکے تو کیا اس کی خاموشی رضامندی تصور کی جا سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا حکومت کے پاس ابھی تک تسلی بخش جواب نہیں۔ٹی وی پروگراموں میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے تسلیم کیا کہ اگر کوئی شہری انکار کرتا ہے تو معاملہ متعلقہ وزارت یا قانونی فورم کے پاس جا سکتا ہے۔

یہ وضاحت ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے۔اگر شہری کو انکار کا حق حاصل ہے تو پھر اس انکار کو حتمی کیوں نہیں مانا جا رہا؟ کیوں ایک عام آدمی کو سرکاری دفاتر، قانونی فورمز اور ممکنہ عدالتی کارروائی میں دھکیلا جا رہا ہے؟ایک ٹیلی کام کمپنی کے پاس قانونی ٹیمیں، وسائل اور سرمایہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک عام شہری ہے جو پہلے ہی مہنگائی، ٹیکسوں اور روزمرہ مسائل سے نبرد آزما ہے۔ کیا یہ دونوں فریق واقعی برابر کی پوزیشن میں ہیں؟ عوامی تشویش یہاں ختم نہیں ہوتی۔دفعہ 27B میں درج ہے کہ اگر کوئی شخص معاہدے میں رکاوٹ ڈالے یا کمپنی کو حاصل حقوق کے استعمال میں تاخیر پیدا کرے تو اس پر پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔یہ شق لوگوں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔ ایک عام شہری پوچھ رہا ہے کہ کیا اپنی جائیداد سے متعلق تحفظات ظاہر کرنا بھی ایک دن کروڑوں روپے کے جرمانے کی بنیاد بن سکتا ہے؟ یہ سوال غیر منطقی نہیں۔

پاکستان پہلے ہی زمینوں کے تنازعات، قبضہ مافیا، جعلی انتقالات، متضاد ریکارڈ اور طویل عدالتی مقدمات کی تاریخ رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی قانون غیر واضح الفاظ استعمال کرے تو لوگوں کا حساس ہونا فطری ہے۔حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس قانون کا مقصد قبضہ نہیں بلکہ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ممکن ہے حکومت کی نیت یہی ہو۔ لیکن قانون صرف نیت پر نہیں چلتے، الفاظ پر چلتے ہیں۔ آج کی حکومت اچھی نیت رکھ سکتی ہے، کل کوئی اور حکومت آ سکتی ہے۔ آج کا وزیر اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے، کل کوئی اور کر سکتا ہے۔ اسی لیے جمہوری معاشروں میں قوانین اس انداز میں لکھے جاتے ہیں کہ ان کے غلط استعمال کی گنجائش کم سے کم ہو۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ان شقوں میں ابہام موجود ہے؟اگر موجود ہے تو انہیں مزید واضح بنانے میں ہچکچاہٹ کیوں؟

پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر معمولی صنعت نہیں۔ یہ اربوں ڈالر کی معیشت ہے۔ ڈیجیٹل سروسز، فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور موبائل انٹرنیٹ مستقبل کی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ ہمارے پڑوسی بھارت میں مکیش امبانی کی جیو کمپنی کی مالیت ایک سو بیس سے ایک سو پچاس ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز نے نہ صرف ایک کمپنی بلکہ پورے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ پاکستان کو بھی ڈیجیٹل انقلاب کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد شہری اعتماد پر کھڑی ہوتی ہے، شہری خوف پر نہیں۔ اگر لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کے بنیادی حقوق غیر محفوظ ہیں تو ہر قانون شک و شبہ کا شکار ہو جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس بل کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔ کچھ لوگوں نے اسے نجی جائیداد کے حقوق پر حملہ قرار دیا، کچھ نے ریاستی اختیارات میں خطرناک توسیع کہا اور کچھ نے سوال اٹھایا کہ اگر آج خاموشی کو رضامندی مان لیا گیا تو کل کون سا حق اسی اصول کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں قانون سازی کا معیار خود ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ شاید پوری قانون سازی پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ پیچیدہ قانونی دستاویزات چند گھنٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی شق کے غیر متوقع نتائج نکل رہے ہیں۔

یہ ایک جمہوری المیہ ہے۔ قانون سازی سنجیدہ کام ہے۔ یہ سوشل میڈیا پوسٹ نہیں جسے بعد میں ایڈٹ کر لیا جائے۔ ایک دفعہ قانون بن جائے تو اس کے اثرات کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ اگر واقعی حکومتی ارکان کو معلوم نہیں تھا کہ بل کی متنازعہ شقیں کیا ہیں تو یہ اعتراف ان کی نااہلی اور لاپروائی کا ثبوت ہے۔ اور اگر انہیں معلوم تھا اور پھر بھی انہوں نے اسے منظور کیا تو پھر عوام کے خدشات کو محض غلط فہمی قرار دینا بھی مناسب نہیں۔جمہوریت میں منتخب نمائندوں کی سب سے بڑی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔

عوام کی زمین، گھر اور جائیداد محض اثاثے نہیں ہوتے۔ یہ ان کی عمر بھر کی کمائی، ان کی شناخت اور ان کے مستقبل کا تحفظ ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف ایک ٹیلی کام بل کا نہیں رہا۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ بنیادی آئینی حقوق کی تشریح کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ اس سوال کا معاملہ بن چکا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون سازی عوامی اعتماد پیدا کرے گی یا عوامی خوف؟ اگر حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ اس قانون کو غلط سمجھا گیا ہے تو بہترین راستہ یہ نہیں کہ عوام کو جاہل یا گمراہ قرار دیا جائے۔ بہترین راستہ یہ ہے کہ متنازعہ شقوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، زبان کو واضح بنایا جائے، شہری کی رضامندی کو غیر مبہم انداز میں تحریر کیا جائے اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ کسی بھی شخص کی خاموشی کو اس کی جائیداد کے بارے میں رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

کیونکہ جمہوریت میں قانون صرف وہ نہیں ہوتا جو کاغذ پر لکھا جاتا ہے بلکہ وہ بھی ہوتا ہے جو عوام پڑھ کر محسوس کرتے ہیں۔اور اس وقت پاکستان کے لاکھوں شہری یہی محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی جائیداد، ان کی رضامندی اور ان کے بنیادی حقوق کے گرد ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ جب قانون ساز خود کہیں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پستول میں گولی موجود ہے تو پھر عوام کا خوف غیر فطری نہیں بلکہ مکمل طور پر جائز ہے۔


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1010 Articles with 781681 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More