ایڈووکیٹ کوکب اقبال اور نفاذِ اردو کا تاریخی مقدمہ
(Dr. Shahbaz Hussain, Islamabad)
چند روز قبل ، الحمد اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد (شعبہ اردو )کے زیرِ اہتمام نفاذِ اردو کے حوالے سے ہونے والی ایک اہم کانفرنس میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان جناب کوکب اقبال صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں نفاذِ اردو کے لیے دائر کیے گئے اپنے مقدمے کی مفصل روداد بیان کی اور اس ’’راہِ پرخار‘‘ میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات کا بھی خوب ذکر کیا۔کوکب صاحب کے ایک ایک لفظ سے حبِ وطن اور حبِ اقبال واضح طور پر جھلک رہی تھی۔ اردو زبان کے نفاذ کے سرگرم داعی کے طور پر تو میں ان کا پہلے ہی معترف تھا، مگر انہیں سننے کے بعد ان کی حب الوطنی اور اقبال دوستی کا بھی تہہِ دل سے قائل ہوگیا۔ منکشف ہوا کہ کوکب صاحب اور ان کے اجداد کی علامہ اقبال سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کے خاندان کے مردوں کے نام کے ساتھ ’’اقبال‘‘ ضرور آتا ہے اور اسی نسبت سے کوکب صاحب بھی کوکب اقبال کہلاتے ہیں۔ ان کے چچاؤں، بھائیوں اور بیٹوں کے نام کے ساتھ بھی اقبال ضرور لگتا ہے۔ اقبال سے اور اقبال کے پاکستان سے محبت کا ہی وہ جذبہ تھا جس کی بدولت انہوں نے اردو زبان کے عملی نفاذ کے لیے عدل و انصاف کے اعلیٰ ایوانوں تک اپنی آواز پہنچائی اور برسوں تک اس کی جنگ لڑتے رہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو زبان کے عملی نفاذ کے لیے دائر کی جانے والی اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ۲۵۱ واضح طور پر کہتا ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی اور آئین نافذ ہونے کے پندرہ سال کے اندر اندر اسے سرکاری اور دفتری مقاصد کے لیے رائج کیا جائے گا، مگر ریاستی ادارے ان آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے۔ بعد ازاں اسی نوعیت کی ایک دوسری درخواست جناب محمود اختر نقوی کی جانب سے بھی دائر کی گئی تھی، جنہیں عدالت نے یکجا کرکے سنا اور ۸ ستمبر ۲۰۱۵ کو ، اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے، اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا تاریخی فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اردو کو فی الفور دفتری زبان بنائیں، تمام انگریزی قوانین کا اردو میں ترجمہ کیا جائے،سرکاری اداروں کی ویب سائٹس اور دستاویزات اردو میں دستیاب ہوں، سرکاری مراسلت اور پالیسی سازی میں اردو کو ترجیح دی جائے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ایسی زبان میں حکمرانی جو عوام کی اکثریت نہ سمجھتی ہو، جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت نے انگریزی کو نوآبادیاتی ورثے کی علامت قرار دیتے ہوئے آئینی تقاضوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تین رکنی بینچ کے دیگر دو ارکان میں جسٹس قاضی فیض عیسیٰ اور جسٹس دوست محمد خان شامل تھے۔ بلاشبہ نفاذِ اردو کے حوالے سے یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا اور اس کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی تھی۔ پہلی مرتبہ آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ کی عملی تشریح کی گئی تھی اور اردو زبان کے نفاذ کو محض ایک لسانی مطالبہ نہیں بلکہ ایک آئینی فریضا قرار دیا گیا تھا۔ یہ بھی بڑا غیر معمولی تھا کہ اس فیصلے کا ایک بڑا حصہ اردو میں لکھا گیا اور اردو میں ہی پڑھ کر سنایا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان جیسے اتنے بڑے عدالتی پلیٹ فارم کا فیصلہ بالکل واضح تھا اور اس پر سختی سے عملی قدامات اٹھانے کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں تو پھر ابھی تک اردو زبان کا عملی نفاذ کیوں نہ ہوسکا اور بدستور آج بھی پاکستان کےسرکاری ادارے اور صوبائی حکومتیں اپنی مراسلت اور دیگر امور انگریزی میں کیوں چلا رہے ہیں، تو ہم میں سے اکثریت اردو زبان کے نفاذ میں حائل ان رکاوٹوں سے بخوبی واقف ہے، جو کہ ایک الگ کالم کی متقاضی ہیں ۔۔۔تحریرِ ہذا کا محور کوکب اقبال صاحب اور ان کا یہ تاریخی مقدمہ ہیں، ایک ایسی محبِ وطن اور اقبال دوست شخصیت جن کی جدوجہد دراصل پاکستان کے آئین کی بالادستی کی جدوجہد تھی، ان کی درخواست نے ایک ایسی آئینی شق کو پھر سے زندہ کیا اور اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کرائی جسے ریاست یکسر فراموش کر چکی تھی۔ یہ مقدمہ پاکستان کی آئینی، عدالتی اور لسانی تاریخ میں ایک تاریخی مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔کوکب اقبال صاحب کے اس جذبہ حب الوطنی اور کاوش کو سرخ سلام۔۔۔۔
ڈاکٹر شہباز حسین
|