غربت کے خاتمے سے دیہی احیاء تک
(Shahid Afraz Khan, Islamabad)
|
غربت کے خاتمے سے دیہی احیاء تک تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
غربت کا خاتمہ انسانی ترقی کے سب سے بڑے اہداف میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک آج بھی غربت، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں، جبکہ بعض خطوں میں لاکھوں افراد بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔ ایسے ماحول میں چین کی غربت کے خلاف جدوجہد اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیاں عالمی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں چین نے نہ صرف لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا بلکہ انتہائی غربت کے مکمل خاتمے کا ہدف بھی مقررہ وقت سے ایک دہائی قبل حاصل کر لیا، جسے انسانی تاریخ کی ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق چین نے صرف آٹھ برسوں کے دوران تقریباً 10 کروڑ افراد کو انتہائی غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی، جو رفتار اور پیمانے دونوں اعتبار سے ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے میں انتہائی غربت کے خاتمے کو اولین ہدف قرار دیا گیا تھا، تاہم چین نے یہ مقصد دس سال پہلے ہی حاصل کر لیا۔
اس کامیابی کے پس منظر میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی طویل المدتی منصوبہ بندی، سائنسی حکمت عملی اور عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی فلسفہ کارفرما رہا۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق غربت کے خلاف جنگ میں سب سے اہم عنصر مسلسل اور دور اندیش پالیسی سازی تھی، جس کے ذریعے مختلف ادوار میں ضروری اقدامات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔
2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد غربت کے خاتمے کو حکمرانی کی ایک بنیادی ترجیح بنایا گیا۔ اس کے بعد 2020 تک جاری رہنے والی آٹھ سالہ مہم کے ذریعے صدیوں سے موجود انتہائی غربت کے مسئلے کو بنیادی طور پر ختم کر دیا گیا۔ تاہم اس کامیابی کو مستقل بنانے کے لیے 2021 سے 2025 تک پانچ سالہ عبوری مرحلہ بھی متعارف کرایا گیا تاکہ غربت سے نکلنے والے افراد دوبارہ معاشی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں غربت زدہ شمار ہونے والے اضلاع میں دیہی آبادی کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی 2025 میں 18 ہزار 627 یوان تک پہنچ گئی۔ اسی دوران ان علاقوں میں آمدنی میں اوسط سالانہ اضافہ قومی دیہی اوسط سے زیادہ رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غربت کے خاتمے کے اقدامات صرف عارضی نہیں بلکہ پائیدار نتائج کے حامل تھے۔
2026 سے، جو چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا پہلا سال ہے، غربت کے خاتمے سے متعلق پالیسیوں کو دیہی احیاء کی قومی حکمت عملی کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی اور دیہی علاقوں کی جدید خطوط پر ترقی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
چین نے غربت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے یکساں اور عمومی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے حالات کے مطابق متحرک اور اہدافی اقدامات کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا طویل المدتی نظام تشکیل دیا گیا جو انتہائی غربت کے خاتمے سے لے کر غربت میں دوبارہ واپسی کی روک تھام اور پھر دیہی ترقی تک تمام مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔
چین کی "اہدافی غربت کے خاتمے" کی حکمت عملی کو عالمی سطح پر ایک اہم جدت تصور کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے پانچ بنیادی سوالات کے واضح جواب فراہم کیے: مدد کس کو دی جائے، مدد کون فراہم کرے، کس طریقے سے دی جائے، غربت سے نکلنے کا معیار کیا ہو اور دوبارہ غربت میں جانے سے کیسے بچایا جائے۔
اسی مقصد کے لیے ایک جامع قومی معلوماتی نظام قائم کیا گیا جس میں غریب خاندانوں اور دیہاتوں کی مکمل تفصیلات درج کی گئیں۔ اس نظام کے ذریعے ہر غریب فرد اور خاندان کی معاشی صورتحال، مشکلات اور ضروریات کی باقاعدہ نشاندہی ممکن ہوئی۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اقدام تھا جس نے امدادی وسائل کو درست افراد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
غربت کے خاتمے کی اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو خود انحصاری کو فروغ دینا بھی تھا۔ مختلف علاقوں میں رہائش، فنی تربیت، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور دیگر ضروری معاونت فراہم کی گئی تاکہ خاندان مستقل بنیادوں پر اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔ متعلقہ ماہرین کے مطابق مکمل نگرانی اور مرحلہ وار جائزے کے نظام نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حاصل شدہ کامیابیاں دیرپا ثابت ہوں۔
چین کی حکمت عملی صرف غربت کے خاتمے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد مشترکہ خوشحالی کا فروغ بھی تھا۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ مشرقی علاقوں اور نسبتاً کم ترقی یافتہ مغربی علاقوں کے درمیان تعاون کا ایک جامع نظام قائم کیا گیا۔ اس تعاون کے تحت سرمایہ، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل اور منڈیوں تک رسائی فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی سابقہ پسماندہ علاقے نئی صنعتی سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل ہو گئے۔
بعض دیہی علاقوں میں زرعی معیشت کے ساتھ جدید صنعتوں کو فروغ دے کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے گئے۔ اس عمل نے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کیا بلکہ نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں رہ کر ترقی کے مواقع بھی فراہم کیے۔ترقیاتی امور سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان تعاون کا یہ ماڈل محض مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ ترقیاتی صلاحیتوں کی منتقلی کا ایک مؤثر نظام ہے، جس نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں پائیدار معاشی سرگرمیوں کی بنیاد رکھی۔
آج چین کا تجربہ قومی سرحدوں سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ غربت کے خاتمے، دیہی ترقی اور عوامی فلاح کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مؤثر منصوبہ بندی، عوام پر مرکوز گورننس اور عوامی ضروریات کو مرکزیت دینے والی پالیسیاں بڑے سے بڑے سماجی اور معاشی چیلنج کا حل پیش کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کا یہ ماڈل دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک قابلِ مطالعہ اور قابلِ تقلید تجربہ بن چکا ہے، جو غربت سے پاک اور زیادہ خوشحال معاشروں کی تعمیر کے لیے نئی راہیں متعین کر رہا ہے۔ |
|