گلاب کی کاشت سے معاشی خوشحالی کا سفر
(Shahid Afraz Khan, Islamabad)
|
گلاب کی کاشت سے معاشی خوشحالی کا سفر تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چند برس پہلے تک چین کے بعض دور دراز پہاڑی علاقوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع نہایت محدود تھے اور بیشتر خاندانوں کا انحصار صرف روایتی زراعت پر تھا۔ تاہم زرعی شعبے میں جدت، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور دیہی صنعتوں کے فروغ نے نہ صرف مقامی معیشت کو نئی زندگی دی بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی آمدنی بڑھانے اور دیہی ترقی کو نئی سمت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج یہی تبدیلی چین کے مغربی علاقوں میں دیہی احیاء اور مشترکہ خوشحالی کی ایک نمایاں مثال بن چکی ہے۔
چین کے مغربی علاقوں، خصوصاً سیچوان، یون نان اور شیزانگ میں زرعی صنعتوں کے فروغ کے ساتھ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنایا بلکہ ان افراد کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے جو ماضی میں ترقی کے ثمرات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے تھے۔
جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کی شیاو جن کاؤنٹی، جو جیاجن پہاڑ کے دامن میں واقع ہے، سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار میٹر کی بلندی پر آباد ہے۔ ماضی میں یہاں کے بیشتر خاندان آلو، مٹر اور دیگر روایتی فصلوں پر انحصار کرتے تھے، لیکن جنگلی جانور اکثر ان فصلوں کو تباہ کر دیتے تھے، جس کے باعث کسانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔
وقت کے ساتھ یہاں کے کسانوں نے گلاب کی کاشت کو ذریعہ معاش بنایا۔ اس علاقے میں وسیع و عریض گلاب کے کھیت نہیں بلکہ گھریلو سطح پر چھوٹے چھوٹے قطعات میں گلاب اگائے جاتے ہیں۔ اس ماڈل کی بدولت خواتین اور بزرگ افراد اپنے گھروں کے قریب رہتے ہوئے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور گھریلو ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھاتے ہیں۔
مقامی خواتین کا کہنا ہے کہ پہلے گھریلو اخراجات کا زیادہ تر انحصار مردوں کی آمدنی پر ہوتا تھا، لیکن اب گلاب کی کاشت نے انہیں خود بھی باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ فراہم کر دیا ہے، جس سے ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوا ہے۔
اس تبدیلی کا آغاز تقریباً پندرہ برس قبل ایک مقامی خاتون نے کیا، جنہوں نے گلاب کی کاشت کے معاشی امکانات کو دیکھتے ہوئے اس شعبے کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گلاب کے پودے خریدے، زرعی ماہرین کو مدعو کر کے کسانوں کو جدید طریقۂ کاشت کی تربیت دلوائی اور بعد ازاں ایک زرعی تعاون تنظیم قائم کی، جس کے ذریعے کسانوں سے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر گلاب خریدنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
مقامی انتظامیہ اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اس علاقے کے گلاب اپنی بہتر کوالٹی، موٹی پنکھڑیوں، بڑے پھولوں اور زیادہ کلیوں کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ برفانی پانی سے آبپاشی اور قدرتی نامیاتی کھاد کے استعمال نے بھی ان کی معیار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بعد ازاں مقامی سطح پر قائم کیے گئے کارخانوں میں ان گلابوں کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تازہ اور اعلیٰ معیار کے پھولوں سے گلاب کی چائے تیار کی جاتی ہے جبکہ دیگر پھولوں سے گلاب کا عرق، ضروری تیل اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، جنہیں کاسمیٹکس اور غذائی صنعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق صرف ایک قطرہ خالص گلابی تیل تیار کرنے کے لیے تقریباً تین سو گلاب درکار ہوتے ہیں، اسی لیے اسے دنیا بھر میں نہایت قیمتی قدرتی مصنوعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آج شیاو جن کے یہ گلاب اور ان سے تیار کردہ مصنوعات چین کی سرحدوں سے نکل کر جاپان، جنوبی کوریا، بلغاریہ اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ جو پہاڑی علاقہ کبھی محدود معاشی سرگرمیوں کا حامل تھا، وہ اب عالمی تجارت سے منسلک ہو چکا ہے۔بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاشت، پروسیسنگ اور معیار کے تمام مراحل کو مزید سخت بنایا گیا ہے تاکہ مصنوعات عالمی معیار پر پورا اتریں اور برآمدات میں مزید اضافہ ہو سکے۔
شیاو جن کاؤنٹی میں گلاب کی کاشت کی یہ کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مقامی وسائل، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور معیاری منصوبہ بندی کے ذریعے دیہی علاقوں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ اس ماڈل نے نہ صرف خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا بلکہ دیہی معیشت کو نئی توانائی، عالمی منڈیوں تک رسائی اور پائیدار ترقی کی ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کی ہے، جو چین کے دیہی احیاء کے سفر کی ایک نمایاں مثال بن چکی ہے۔ |
|