کیا محبت، عزت اور توجہ ملنے کے باوجود بھی مرد یا عورت غیر ازدواجی تعلقات کی طرف جا سکتے ہیں؟؟؟؟ ایک تحقیقی جائزہ!! غیر ازدواجی تعلقات! اصل مسئلہ شوہر یا بیوی نہیں، بلکہ وہ وجوہات ہیں جو نظر نہیں آتیں

کثر لوگ "اضافی شوہر" یا "اضافی بیوی" نہیں ڈھونڈتے، بلکہ وہ کسی ایسی چیز کی تلاش میں ہوتے ہیں جو انہیں اپنی شادی شدہ زندگی میں محسوس نہیں ہو رہی ہوتی۔ بعض اوقات وہ محبت ہوتی ہے، کبھی عزت، کبھی توجہ، کبھی جذباتی سکون اور کبھی صرف اپنی اہمیت کا احساس۔

Extra Marital Affair

جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ "کیا شادی شدہ عورت یا مرد کسی دوسرے شخص کی طرف مائل ہو سکتے ہیں؟" تو سب سے پہلے ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ یہ صرف عورتوں کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی صرف مردوں کا۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جو مختلف حالات، کمزوریوں، نفسیاتی عوامل، تربیت، ماحول اور بعض اوقات ذاتی کردار سے جڑا ہوتا ہے۔

اکثر لوگ "اضافی شوہر" یا "اضافی بیوی" نہیں ڈھونڈتے، بلکہ وہ کسی ایسی چیز کی تلاش میں ہوتے ہیں جو انہیں اپنی شادی شدہ زندگی میں محسوس نہیں ہو رہی ہوتی۔ بعض اوقات وہ محبت ہوتی ہے، کبھی عزت، کبھی توجہ، کبھی جذباتی سکون اور کبھی صرف اپنی اہمیت کا احساس۔

مثال کے طور پر ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے۔ شوہر گھر کا خرچ بھی دیتا ہے، بچوں کی ذمہ داری بھی پوری کرتا ہے، لیکن اگر وہ بیوی کی بات سننے، اس کے احساسات سمجھنے اور اس کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی نہیں لیتا تو بیوی اندر سے تنہائی محسوس کر سکتی ہے۔ اگر ایسے میں کوئی دوسرا شخص اس کی بات سن لے، اس کی تعریف کر دے یا اس کی اہمیت محسوس کرا دے تو اس کے دل میں جھکاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوراً اپنے شوہر کو چھوڑنا چاہتی ہے، بلکہ وہ اس احساس کی طرف کھنچتی ہے جو اسے عرصے سے نہیں ملا۔

اسی طرح ایک مرد اگر گھر میں مسلسل تنقید، بے عزتی، بے رخی یا جذباتی سرد مہری محسوس کرے تو وہ بھی باہر کسی ایسی جگہ سکون تلاش کر سکتا ہے جہاں اسے عزت، تعریف یا توجہ ملے۔

لیکن یہ بات بھی درست نہیں کہ ہر غیر ازدواجی تعلق کی وجہ شوہر یا بیوی کی کوتاہی ہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان کے اندر ہی کمزوریاں موجود ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ نئی چیزوں کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں، بعض کو مسلسل تعریف اور توجہ کی عادت ہوتی ہے، بعض اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اچھے ازدواجی تعلق میں ہونے کے باوجود بھی غلط راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت کو شوہر کی طرف سے محبت، عزت، مالی سہولت، وقت، توجہ اور جذباتی تعاون سب کچھ مل رہا ہو تو کیا پھر بھی وہ غیر ازدواجی تعلق کی طرف جا سکتی ہے؟

جواب ہے: ہاں، لیکن ایسے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں وجہ اکثر شادی نہیں بلکہ فرد کی اپنی شخصیت، کردار، نفسیاتی کمزوری، مسلسل تعریف کی خواہش، سنسنی کی تلاش یا اپنی حدود کا خیال نہ رکھنا ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر ایک مرد کو گھر میں محبت، عزت، سکون اور اچھا تعلق سب کچھ مل رہا ہو تو کیا پھر بھی وہ غلط راستہ اختیار کر سکتا ہے؟

جی ہاں، بعض مرد بھی ایسا کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں وجہ اکثر نفسیاتی کمزوری، خواہشات پر قابو نہ ہونا، غلط صحبت، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اثرات یا کردار کی کمزوری ہوتی ہے، نہ کہ لازماً ازدواجی زندگی کا مسئلہ۔

اب سوال آتا ہے کہ کیا یہ صرف نفسیاتی مسئلہ ہے یا اس میں حیاتیاتی (Biological) عوامل بھی شامل ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ دونوں عوامل موجود ہوتے ہیں۔

انسان کے جسم میں مختلف ہارمونز اور کیمیائی نظام موجود ہوتے ہیں جو کشش، محبت اور جنسی رغبت کو متاثر کرتے ہیں۔ مرد اور عورت دونوں فطری طور پر کشش محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن اسلام اور عقل انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہر کشش پر عمل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کشش فطری ہے، مگر اس پر قابو رکھنا کردار اور تقویٰ کا حصہ ہے۔

اس لیے حیاتیاتی عوامل کشش پیدا کر سکتے ہیں، لیکن غیر ازدواجی تعلق کا فیصلہ صرف حیاتیات نہیں بلکہ انسان کی سوچ، تربیت، ایمان، کردار اور ماحول بھی متاثر کرتے ہیں۔

اب خاندانی تربیت کی طرف آتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق بچہ بچپن میں اپنے والدین کے رویوں کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اگر ایک لڑکی اپنی ماں کو اپنے شوہر سے عزت سے بات کرتے، اختلاف کے باوجود احترام کرتے اور گھر کو سنبھالتے دیکھتی ہے تو اس کے ذہن میں ازدواجی تعلق کا ایک مثبت نقش بنتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ مسلسل جھگڑے، بے عزتی یا نفرت دیکھتی ہے تو اس کے ذہن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

لیکن یہ کوئی لازمی قانون نہیں۔ ہر بیٹی اپنی ماں جیسی اور ہر بیٹا اپنے باپ جیسا نہیں بنتا۔ بہت سے لوگ اپنے والدین کی غلطیوں سے سبق لے کر بالکل مختلف زندگی گزارتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ بیٹی اپنے باپ سے محبت، احترام اور خیال کرتی ہے، پھر شوہر کے ساتھ ویسا رویہ کیوں نہیں رکھتی؟

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ باپ اور شوہر کا رشتہ مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ باپ عموماً تحفظ، شفقت اور غیر مشروط محبت کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ شوہر اور بیوی کے تعلق میں روزمرہ زندگی کی ذمہ داریاں، اختلافات، توقعات، مالی معاملات اور بچوں کی پرورش جیسے مسائل شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے دونوں رشتوں کا تقابل مکمل طور پر درست نہیں۔

اسی طرح ایک بیٹا اپنی ماں سے محبت کرتا ہے لیکن اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ ویسا رویہ نہیں رکھتا۔ کیونکہ ماں اور بیوی کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اور دونوں میں مختلف ذمہ داریاں اور توقعات شامل ہوتی ہیں۔

معاشرتی دباؤ بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر ہر وقت دوسروں کی زندگیوں کو مثالی انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ لوگ اپنے شریکِ حیات کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ فلمیں، ڈرامے اور بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر حقیقی توقعات پیدا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے موجودہ رشتے کی خوبیوں کو نظر انداز کر کے صرف کمیوں پر توجہ دینے لگتا ہے۔

اسلام اس معاملے میں بہت واضح رہنمائی دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔"

(سورۃ الروم 30:21)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کا مقصد سکون، محبت اور رحمت ہے، نہ کہ صرف قانونی تعلق۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔"

(سنن الترمذی، حدیث 3895)

یہ حدیث مرد اور عورت دونوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ اچھا کردار سب سے پہلے گھر میں نظر آنا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ازدواجی زندگی میں محبت، عزت، توجہ یا کسی اور چیز کی کمی ہو تو کیا غیر ازدواجی تعلق جائز یا درست ہو جاتا ہے؟

ہرگز نہیں۔

کمی موجود ہو تو اس کا حل بات چیت، مشاورت، اصلاح، خاندان کے بزرگوں کی مدد، ازدواجی مشاورت (Marriage Counseling) اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا ہے، نہ کہ کسی تیسرے شخص کی طرف جانا۔

کیونکہ غیر ازدواجی تعلق وقتی طور پر خوشی دے سکتا ہے لیکن اکثر اس کا نتیجہ اعتماد کی تباہی، گھریلو مسائل، بچوں کی نفسیاتی مشکلات، طلاق، پشیمانی اور معاشرتی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔

حل دونوں طرف سے یہ ہے کہ شوہر بیوی کی عزت کرے، اس کی بات سنے، وقت دے، محبت کا اظہار کرے اور جذباتی طور پر موجود رہے۔ اسی طرح بیوی شوہر کی عزت کرے، اس کی کوششوں کو سراہے، اس کی ضروریات کو سمجھے اور گھر میں سکون کا ماحول پیدا کرے۔

دونوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کامیاب شادی صرف محبت سے نہیں چلتی بلکہ محبت، احترام، اعتماد، قربانی، برداشت، اچھی گفتگو، اللہ کا خوف اور مسلسل کوشش سے چلتی ہے۔

غیر ازدواجی تعلقات کا اصل حل دوسرا مرد یا دوسری عورت نہیں بلکہ ایک مضبوط کردار، صحت مند سوچ، اچھی تربیت، کھلی گفتگو، ازدواجی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل ہے۔

تحریر و تحقیق: آئی بی وائی 
Ismail Bin Yousuf
About the Author: Ismail Bin Yousuf Read More Articles by Ismail Bin Yousuf: 3 Articles with 664 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.