’’طوق منگھ یا منگھوپیر‘‘ ، یہاں کے باسی آج بھی قدیم روایات کو سینے سے لگائے جی رہےہیں سیکڑوں سال سے منعقد ہونے والا شیدی میلہ، طوق منگھ علاقے کی ثقافتی شناخت ہے مگرمچھ خوں خوار آبی درندہ، منگھوپیر کے تالاب میں سیکڑوں مگرمچھوں کی موجودگی کےباوجود کسی جاندار کو نقصان نہیں پہنچا (رپورٹ: رفیع عباسی، کراچی) کراچی کا شمار دنیا کے جدید شہروں میں ہوتا ہے جہاں موجود دو بندرگاہیں، اسکائی اسکریپر طرز کی بلند و بالا عمارتیں اس شہر کی ترقی اورخوش حالی کی کہانیاں سناتی ہیں ۔ شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی ٹیلوں اور کیکر کی جھاڑیوں و جنگلات سے گھرا ہوا ’’طوق منگھ یا منگھوپیر‘‘ کا قصبہ ہے، جس کے بارے میں قدیم آثار کے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ علاقہ ہزاروں سال قدیم ہے۔ ماضی بعید میں یہ آباد اور ہنستا بستا شہر تھا جو قدرتی آفت یا حادثے کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سےمٹ گیا لیکن اس کے آثار ابھی بھی نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ کراچی کے شمال مشرق میں صوبہ بلوچستان کےضلع خضدار میں واقع بلاول شاہ نورانی کی درگاہ کی جانب جانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔ منگھوپیر کے پہاڑی ٹیلوں پر واقع چوکنڈی طرز کی نقوش و نگار سے مزین قبریں، قدیم طرز کے مکانات، تالاب اور دیگر آثار اس کی قدامت کی گواہی دیتے ہیں۔ سیکڑوں سال قبل یہ علاقہ مکران اور ایران کے ساتھ تجارت کے لیے راہ داری کا کام دیتا تھا۔اسلام کے نور سے منور ہونے کے بعد ایران اور مکران کے راستے عربوں کی سندھ میں آمد و رفت شروع ہوئی۔ ان کے قافلے اسی راستے سے گزر کر سندھ کی طرف جایا کرتے تھے۔ دوران سفر، ان کا پڑائو لسبیلہ اور اس کے گردونواح کے قصبات میں ہوتا تھا،جن میں سے ایک طوق منگھ کا علاقہ بھی تھا۔ منگھوپیر یا طوق منگھ کی پہاڑیوں کے دامن میں کئی قدیم قبرستان واقع ہیں جن میں موجود ٹوٹی پھوٹی پرانی قبریں صدیوں سے موجود ہیں، ان میں چوکنڈی طرز کی قبریں بھی شامل ہیں۔ یہاں تمام قبریں زرد رنگ کے راجستھانی پتھروں سے تعمیر کی گئی تھیں۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق یہاں ایسی قبریں بھی دیکھی گئیں جن پر تلوار اور نیزہ بازی، گھڑ سواری اور آلا ت حرب کی تصاویر منقش تھیں جبکہ خواتین کی قبروں پر خوبصورت زیورات کنندہ کئے گئے تھے۔بعض قبریں بلندچبوتروں پر تعمیر کی گئیں۔ چند میں طاق بنائے گئے تھے جن کے آر پار دیکھا جاسکتا تھا۔ گھڑ سواری اور خنجر وغیرہ کے نقوش بھی کندہ کئے گئے تھے۔ یہ قبریں تعمیراتی فن کا اعلیٰ شاہ کار تھیں لیکن اس طرز تعمیر کی زیادہ تر قبریں ناپید ہوچکی ہیں۔ چند سال قبل میں نے منگھو پیر کے مزار کے احاطے میں چوکنڈی طرز کی چار قبریں دیکھی تھیں لیکن محکمہ آثار قدیمہ و قومی ورثہ کی عدم توجہی کی وجہ سے ان میں سے دو ناپید ہوچکی ہیں۔ صرف دو قبریں شکستہ حالت میں باقی بچی ہیں۔ 13ویں صدی عیسوی میں یہاں حجاز مقدس سے حضرت حافظ سخی سلطان تشریف لائے۔ اس زمانے میں یہاں حضرت بابا فرید گنج شکر چلہ کشی میں مصروف تھے۔ بابا فرید کے حکم پرخواجہ حسن سخی سلطان یہاں رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دینے لگے۔ دن رات کی ریاضت سے انہیں بابا فرید کی طرف سے پیر۔طریقت کا رتبہ مرحمت کیا گیا جس کے بعدوہ منگھو پیر بابا کہلانے لگے اور یہ تمام علاقہ ان کے نام سے موسوم ہوگیا۔ حضرت خواجہ حسن سخی سلطان کا تذکرہ سندھ کے معروف مؤرخ میر علی شیر قانع نے اپنی تصنیف ’’تحفتہ الکرام‘‘ میں بھی کیا ہے ۔ میر شیر علی قانع کے مطابق خواجہ حسن سخی سلطان نے جس مقام کو اپنی جائے قیام بنایا اور چلہ کشی کرتے رہے ، وہ جگہ ان کے نام سے موسوم ہوگئی۔علاقےکےقدیم افراد کی روایت کے مطابق منگھوپیر بابا کی آمد سے قبل یہاں کسی بزرگ کی قبر تھی جس کی زیارت کے لیے دور و دراز کے علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ آیا کرتے تھے۔ ایک دن سخت سردی کے موسم میں خواجہ حسن سخی سلطان کا اس علاقے سے گزر ہوا ، انہیں سطح سمندر سے تقریباً چھ سو فٹ بلند پہاڑی چوٹی، وہاں کا پرسکون ماحول انہیں اتنا پسند آیا کہ وہ یہیں مقیم ہوگئے۔ مقامی آبادی کو ان کی آمد ناگوار گزری اور انہیں خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے گھاس پھوس سے آگ جلانے سے بھی منع کیا۔ ان کے اس طرز عمل سے بابا سخی سلطان جلال میں آگئے اور اپنی روحانی کرامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو مگرمچھوں میں تبدیل کردیا۔ اس کرامت سے علاقے کے لوگ ان کے معتقد ہوگیے۔ ان کی وفات کےبعد مقامی افراد نے اسی جگہ پران کا چھوٹا سا مزار تعمیر کر دیا۔ان کے مسکن کے نزدیک گندھک ملے پانی کا گرم چشمہ جاری ہو گیا ہے جہاں آج بھی زائرین جلدی امراض سے شفایابی کی امید کے کر غسل کرنے جاتے ہیں اور شفا پاتے ہیں۔ ہر سال 8 ذوالحج کو ہزاروں عقیدت مند سلطان سخی منگھوپیر کا عرس مناتے ہیں۔ بعض معتقدین کی روایت کے مطابق منگھوپیر بابا نے تالاب میں پھول پھینکے جو مگر مچھ بن گئے۔ تالاب میں موجود مگرمچھوں میں سے بعض کی عمر 100 سال سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ان مگرمچھو ں کے بارے مختلف النوع داستانیں مشہور ہیں جن میں سے ایک میں انہیں منگھوپیر بابا کےسر کی جوئیں بتایا گیا ہے جو ان کی روحانی کرامت سے مگر مچھوں میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ نمائندہ امریکن ٹائمز شگاگو نے اس کہانی کی تصدیق کے لئے مگرمچھوں کے تالاب کے انچارج خلیفہ سجاد سے رابطہ کیا۔ خلیفہ ، سجاد منگھوپیر کے مزار کے سجادہ نشین بھی ہیں۔ ان کے آباء و اجداد صدیوں سے مگرمچھوں کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وہ محکمہ اوقاف سندھ کے باقاعدہ ملازم بھی ہیں، ان کا شمار مگرمچھوں کے خدمت گاروں کی گیارھویں پشت میں ہوتا ہے۔ انہوں ان تمام روایات کو گمراہ کن اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی ٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہمیشہ پاکیزہ حالت میں رہتی ہیں اور ان کے سر میں جوؤں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بعض محققین نے مگرمچھوں سے متعلق روحانیت کےمفروضوں کوقطعی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طوق منگھ کے علاقے میں ہندو مت کے پیروکاروں کی آمد کا سلسلہ ہزاروں سال سے جاری ہے۔ ا س مقام کو ہندوؤں کے نزدیک مذہبی حیثیت حاصل تھی۔ وہ دوردراز کے علاقوں سے زیارت کی غرض سے آتے اور مگرمچھوں کی پوجا کرتے تھے۔ ہندو یاتری مگرمچھوں کے سردار ’’لالہ جراج‘‘ کو دیوتا کے اوتار کا درجہ دیتے ہیں۔ منگھوپیر کی درگاہ کے قریب پانی کے دو چشمے ہیں جبکہ اس سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر نارتھ کراچی کی طرف جانے والے راستے پرحضرت جلیل شاہ کے مزار کے قریب دو اور چشمے ہیں جہاں جلدی امراض کے مریضوں کے علاج کیلئے غسل کا انتظام کیا گیا ہے جسے ’’ماما باتھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق،علاقے کے ایک سماجی رہنما آسومل نے یہاں مسافروں کے قیام کیلئے ایک ’’لانڈھی‘‘ یعنی ’’سرائے‘‘تعمیر کرائی جہاں بستر اور ضروری سامان کا بھی انتظام کیا گیا۔اب یہ لانڈھی بھی قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اس کے قریب ہی جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک اسپتال بھی موجود ہے جو 125 سال قبل چند سماجی شخصیات کی جانب سے تعمیر کرایا گیا تھا۔ صدیو ں پہلےطوق منگھ کا علاقہ ہندوئوں کیلئے بھی متبرک مقام تھا۔ ہندو یاتری یہاں اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کیلئے آتے تھے اور تالاب میں موجود مگرمچھوں کی پوجا کرتے تھے، خاص طور سے مگرمچھوں کے سردار ’’لالہ جراج‘‘ کی جسے وہ دیوتا کا اوتار سمجھتے تھے۔آثار قدیمہ کے ماہرین منگھوپیر کی تہذیب کو کانسی کے دور سے بھی قدیم قرار دیتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہر ط"کاربن ڈیٹنگ کے مطابق یہاں ملنے والی ہڈیاں کانسی کے دور (3300-1200 قبلِ مسیح) سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں یہاں پیتل سے بنے برتن اور قدیم اشیا ءبھی ملی ہیں جن پر موجود نقش و نگار سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس قصبے میں ہزاروں سال پہلے کانسی دورمیں آباد ایک قدیم گاؤں رہا ہوگا جہاں لوگ مگرمچھوں کی عبادت کرتے تھے۔یہ علاقہ چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، ایک پہاڑ کے دامن میں حوض ہے جس میں ہمہ وقت گرم پانی موجود رہتا ہے۔ اس علاقے میں موجود سمہ دور کے مقبرے، مکانات، قدیم کتبے، تالاب ، چشمے تحقیق و تفتیش کی دعوت دیتے ہیں۔1925تک اس ہل اسٹیشن تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سندھ کی فتح سے قبل برطانوی سرکار کی ریزروڈ فورسز نے کراچی کےدور افتادہ علاقے کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ انگریز کمانڈر کارلیس نے 1838ء میں یہاں کا دورہ کیا تھا ، وہ منگھوپیر کے مگر مچھوں کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے ، ’’یہاں تالاب میں مگر مچھ موجود ہیں جن کی تعداد سیکڑوں تک ہے ۔ ان میں سے سب سے پرانےاور بزرگ مگر مچھ کو ’’مورثواب ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ مور ثواب یہاں کے تمام مگر مچھوں کا جد امجد ہے ۔ یہ مزار کے مجاوروں کا سدھایا ہوا اور ان سے اتنا آشنا ہے کہ نام پکارنے پر یہ فوراً پانی سے باہر آجاتا ہے ۔ منت مانگنے والےافراد ان مگرمچھوں کے لیے بکرے لے کر آتے ہیں جنہیں یہ ذراسی دیر میں ہڑپ کرجاتے ہیں‘‘ ۔ کارلیس کی آمد کے ایک سال بعد ہی یہاں ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آیا۔ برینکنڈ گرینڈیئر رجمنٹ BNIایک شام منگھوپیر کے علاقے کا جائزہ لینے کے لیے نکلی کہ وہاں جرائم پیشہ افراد نے کارلیس کو قتل کر دیا ۔ 1925میں برطانوی سرکار نے پاک کالونی سے منگھوپیر تک پختہ سڑک تعمیر کرائی حالانکہ اس دور میں موٹر گاڑیوں اور بسوں کی سہولت نہیں تھی۔ لوگ بیل اور اونٹ گاڑیوں پر سفر کرتے تھے لیکن فوجی گاڑیوں کے سفر کیلئے پختہ سڑک تعمیر کی گئی تھی۔قیام پاکستان کے بعد منگھوپیر سے لی مارکیٹ تک بسیں چلنے لگیں اور یہاں کے گوٹھوں کو پھل، سبزیاں اور اشیائے ضرورت کی خرید و فروخت کیلئے سفری ذریعہ میسّر آ گیا۔60نمبر کی بس ایک عشرے قبل تک لی مارکیٹ سے روانہ ہوتی تھی جو ریکسر لائن، بڑا بورڈ، سائٹ انڈسٹریل ایریا، قصبہ، بنارس سے ہوتی ہوئی منگھوپیر کے مزار تک جاتی تھی وہاں سے تنگ پگڈنڈیوں پر سفر کرتی ہوئی نارتھ کراچی نکلتی اور سندھی ہوٹل کے قبرستان کے پاس اس کا آختتام ہوتا تھا۔مگر مچھ کا شمار دنیا کےخوں خوار آبی درندے میں ہوتا ہے ، جو نہ صرف پانی کے اندر بلکہ خشکی پر بھی انتہائی تیزی سے حرکت کر سکتا ہے۔ مگرمچھ اپنے شکار کو جھپٹتے ہیں اور دبوچ کر ہلاک کردیتے ہیں،وہ اپنے تیز اور نکیلے دانتوں کو شکار کے جسم میں گاڑ کر اسے چیردیتے ہیں۔ جبڑے کے پٹھے اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ شکار کو دبوچے رکھتے ہیں۔ مگرمچھ کے جبڑوں میں کسی بھی دوسرے جانور کی نسبت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ یہ سالم بکرے اور ہرن نگل جاتے ہیں جب کہ کئی من وزنی بھینسوں اور زیبرا کو اپنے جبڑوں میں دبا کر اس کے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات دنیا بھر کے جنگلی حیات کے ماہرین کے لئے حیران کن ہے کہ اس خون آشام آبی درندے کے اعزاز میں منگھوپیر کے پہاڑی علاقے میں ایک چار روزہ رنگارنگ تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جس میں مگرمچھوں کی نازبرداریاں کی جاتی ہیں اور ان سے منت مرادیں مانگی جاتی ہیں۔ اس میلے کو ’’لعل شاہ واگو‘‘ یا ’’شیدی ‘‘میلہ کہا جاتاہے۔ ’’واگو‘‘ مقامی زبان میں مگرمچھ کو کہتے ہیں، لعل شاہ مگرمچھوں کا سردار کہلاتا ہے۔ اس میلے کا انعقاد شیدی قوم کی برادریاں کرتی ہیں، اس لیے یہ شیدی میلے کے نام سے معروف ہے۔اس میلے کا انعقاد گزشتہ ساڑھے چار سو سال سے ہورہا ہے۔منگھوپیر کےقصبے میں شیدی محلہ کے نام سےایک پسماندہ علاقے میں افریقی نسل کےسیاہ فام اور گھونگریالے بالوں والے افراد بڑی تعداد میں آباد ہیں جو ان مگرمچھوں کو متبرک تصور کرتے ہیں۔ شیدی باشندوں کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب عرب سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا تو ان کی فوج میں شیدی سپاہی بھی موجود تھے جو جنگ کے اختتام پر کراچی کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے تھے۔ شیدیوں کی جانب سے ہر سال لعل شاہ واگو یا شیدی میلے کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس میلے میں شیدیوں کے علاوہ کسی اور برادری کے افراد کو شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مگرمچھوں کے اعزاز میں یہ عظیم الشان ضیافت کو دیکھ کر کسی افریقی میلے کا گمان ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر سال مزار پر’’شیدی میلہ‘‘ سجاتے ہیں۔چار دن تک جاری میلے میں دور دراز مقامات سے شیدی یہاں آتے ہیں۔ اس کے شرکا ءمیلے کے دوران ایسی رسومات ادا کرتے ہیں، جن سے ان پر افریقی تہذیب سے گہرے رشتے کا گمان ہوتا ہے۔ میلہ کا آغاز صبح کے وقت منگھوپیر کے مزار سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک میدان میں کیا جاتا ہے، جو شام تک جاری رہتا ہے۔ پہلے دن کی رسومات کے دوران دھمال کی تقریبات شروع کی جاتی ہیں ، ’’مگرمان‘‘ بجایا جاتا ہے جو بڑا سا مخصوص ڈھول ہوتا ہے۔ اس کی آواز سے شرکاء مسحور ہوجاتے ہیں۔اس کے بعد وہ ایک مخصوص مقام پر اکٹھا ہوکر شیدی میلے کی رسم (ٹکہ) کی تیاری کرتے ہوئے ایک بڑے سے تھال میں مکئی کے دانے، دال ،چنے و دیگر اناج، بادام ، اخروٹ ،کھوپرا ملا کر دیسی گھی کی چوری ( کٹی) بناتے ہیں۔ اسے سات تھالیوں میں ڈالتے ہیں۔ شیدی قبیلے کی سات چھوٹی لڑکیوں کے سروں پران تھالیوں کو رکھ کر انہیں سب سے آگے روانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دیسی شربت بنا کر ہر شخص کو تبرک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔چار سے پانچ فٹ مگرمان ڈھول کی تھاپ پر لوبان کی دھونی دیتے ہوئے، شیدی قبیلے کی خواتین، مرد اور بچے ایک ہی قطار میں عجیب و غریب آوازوں میں گشتی دھمال ڈالتےہوئے انتہائی تپتی ہوئی دھوپ میں ننگے ،پیر مزار کے سامنے سے ہوتے ہوئے مگر مچھوں کے تالاب کے قریب جاتے ہیں اور تمام دن دھمال کرتے ہیں۔ مزید عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہوئے مگر مچھوں کے گرد جاکر اپنے شیدی میلے مگرمچھ (ٹکہ) کی رسم کو مکمل کیا جاتا ہے۔ آخرمیں منگھوپیر بابا کے مزار پر پھول چڑھاتے ہیں۔ڈھول تاشوں کی آوازوں سے ’’مور ثواب یا لال شاہ واگو" تالاب میں واقع اپنے مسکن سے نکل کر کنارے پر آجاتا ہے۔ مگرمچھوں کےتالاب کا انچارج ،خلیفہ سجاد ڈنڈوں کی مدد سے اس کا منہ کھول کر تازہ بکرا ذبح کر کے اس کے شانے کا گوشت مگرمچھ کے منہ میں ڈالتے ہیں، اسی بکرے کے خون میں سیندور ملا کر مور ثواب کے سر پر تلک لگایا جاتا ہے جسے ٹیکا کہا جاتا ہے۔ ٹیکے کی رسم کی ادائیگی کے بعد دھمال کے شرکاء تالاب سے نصف میل کے فاصلے پر گرم چشمے کے قریب جلیل شاہ جان کے مزار پر حاضری دیتے ہوئے نعرہ لگاتے ہیں۔’’جلیل شاہ جان۔ڈینڈومکھن مان۔‘‘شیدیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر مور ثواب ان کا دیا ہوا گوشت نہ کھائیں تو ان کا وہ سال اچھا نہیں گزرتا اور اس سال میلہ بھی نہیں ہوتا۔ اگر مور ثواب گوشت کھالیں تو میلہ کا آغاز جاتا ہے اور اس خوشی میں تالاب سے کچھ فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے میدان میں ایک ڈرم نما ڈھول بجنے لگتا ہے۔ مگرمان شیدیوں کے لیے صرف ناچنے گانے کا سامان نہیں بلکہ ان کا روحانی ساز بھی ہے۔اس کی آواز کے ساتھ سیاہ فام مرد اور خواتین مخصوص انداز میں رقص کرنے لگتے ہیں۔ اس دوران ان پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے گلے بھی لگ جاتے ہیں، جلوس کے تمام شرکاء کے پاؤں ننگے ہوتے ہیں اور سر پر رومال بندھا ہوتا ہے جبکہ ہاتھوں میں فقیری ڈنڈے ہوتے ہیں۔مگرمان کی تھاپ کے ساتھ ساتھ یہ مرد اور عورتیں ایک خاص ورد کرتے ہیں جس کے اکثر الفاظ شاید وہ خود بھی نہیں جانتے مگر پرکھوں سے سنی ہوئی یہ آوازیں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں۔ خلیفہ سجاد کے مطابق میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ سواحلی زبان کے الفاظ ہیں جو افریقہ میں بولی جاتی ہے۔اس موقع پر دھمال کرنے والے فقیروں کو لوگ پھولوں کے ہار پہناتے ہیں، ان کے بارے میں عقیدہ ہے کہ ان کے اندر جنات یا روحیں سمائی ہوئی ہوتی ہیں۔ لوگ ان سے اپنی حاجات، پریشانیوں اور مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ وہ تبرک کے طور پر دعا کے دھاگے اور تعویذ بھی دیتے ہیں۔میلے میں توجہ کا مرکز جادو کے ماہرین اور روحوں و جنات سے گفتگو کرنے والے وہ مرد و خواتین ہوتے ہیں، جنہیں "گواتی ماں" کہا جاتا ہے۔ ان کے عمل اور طریقے افریقہ کے روحانی عاملوں سے بڑی حد تک ملتے ہیں۔ گواتی ماں اجنبی زبان کے الفاظ بڑبڑا کر آسیب زدہ خواتین و مرد کا علاج کرتے ہیں۔ ایسی مریضہ یا مریض کے ماتھے پر جانور کا خون بھی لگاتے ہیں۔ یہ طریقہ افریقہ میں رائج وچ ڈاکٹروں کے روحانی علاج’ ’ووڈو‘‘ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔کراچی میں شیدیوں کی چار بڑی برادریاں اہمیت کی حامل ہیں جنھیں مکان کہا جاتا ہے۔ ان چار مکانوں کی نسبت سے شیدی میلہ چار دنوں تک جاری رہتا ہے ۔ چاروں برادریاں میلے کے چار دنوں کے انتظامات باری باری کرتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو شیدی میلہ شیدی دھمال منگھوپیر میں تاریخی حوالے سے دنیا بھر میں مقبول ترین منفرد ایونٹ ہے۔ تفریحی لحاظ سے منگھوپیر کے باسیوں کے لیے بھی رونق کا باعث ہے۔ خلیفہ سجاد کا کہنا ہے کہ میرا خاندان کئی صدیوں سے یہ فریضہ نبھاتا چلا آ رہا ہے۔ منگھو پیر بابا کے مزار پر سال بھر زائرین آتے ہیں، لیکن سندھ اور بلوچستان کے سیاہ فام رنگت،گھونگریالے بالوں والےشیدیوں کو مزار سے خاص عقیدت ہے۔ یہ لوگ ہر سال مزار پر’’شیدی میلہ‘ ‘سجاتے ہیں۔ ایک ہفتے تک جاری میلے میں دور دراز مقامات سے شیدی یہاں آتے ہیں۔شیدی میلے یا لال شاہ واگو میلے کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں ہے اس کا انحصار برادری کے بزرگوں کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ خلیفہ سجاد نے منگھوپیر مزار کے مگرمچھوں کی چند خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے آٹھ سو سال سےاس تالاب میں مگرمچھ موجود ہیں لیکن یہاں ان کے ہاتھوں ہلاکت کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ لوگ انہیں گوشت کھلانے کے لیے بلاجھجھک تالاب کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں لیکن اب باؤنڈری وال بنادی گئی ہے۔ چند سال پیشتر تالاب کے کچھ مگرمچھ باؤنڈری وال عبور کرکے قریبی آبادی کی طرف نکل گئے تھے جنہیں بعد میں پکڑ لیا گیا لیکن ان سے کسی انسان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ چند ماہ قبل اس باؤنڈری وال کے ساتھ کھڑی خاتون کے ہاتھ سے ایک شیر خوار بچہ تالاب میں گرگیا تھا، لیکن مگرمچھ اس کے قریب نہیں آئے، بعد میں رضاکاروں نے اسے تالاب سے نکال لیا تھا۔ لوگ سوکھے کے مرض میں مبتلا بچوں کو تالاب کے کنارے کھڑے ہوکر مگرمچھوں کے سروں پرجھلاتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر مریض بچے صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ |