خاندانی رشتوں میں بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور تشدد: ایک سماجی و اخلاقی بحران
(انس طالب علم، دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا, malappuram)
خاندانی رشتوں میں بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور تشدد: ایک سماجی و اخلاقی بحران
کسی بھی معاشرے کی صحت کا اندازہ اُس کے خاندانی نظام کی مضبوطی سے لگایا جاتا ہے۔ گھر کی چار دیواری، جو کبھی محبت، سکون اور تحفظ کا استعارہ ہوا کرتی تھی، آج بتدریج خوف، شک اور بے اعتمادی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ اخبارات کے صفحات، ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائنیں تقریباً روزانہ ایسی خبروں سے بھری ہوتی ہیں جن میں میاں بیوی، والدین اور اولاد، یا بہن بھائیوں کے درمیان تعلقات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ نوبت تشدد اور بعض اوقات ناقابلِ تلافی سانحات تک جا پہنچتی ہے۔ یہ صورتِ حال محض چند واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر سنجیدہ، ٹھنڈے دل و دماغ اور تحقیقی انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بگڑتے رشتوں کی تصویر
حالیہ برسوں میں گھریلو تشدد سے متعلق رپورٹ ہونے والے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کہیں شریکِ حیات کے درمیان معمولی نوک جھونک انتہائی نوعیت اختیار کر جاتی ہے، کہیں والدین اور بالغ اولاد کے مابین جائیداد یا زندگی کے فیصلوں پر اختلافات تلخی میں بدل جاتے ہیں، اور کہیں شک و شبہ کی فضا اس قدر گہری ہو جاتی ہے کہ برسوں کا ساتھ چند لمحوں میں بکھر جاتا ہے۔ ہم یہاں کسی مخصوص واقعے یا شخصیت کا ذکر کرنے سے قصداً گریز کر رہے ہیں، کیونکہ مقصد سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ اس رجحان کے پیچھے کارفرما اسباب کو سمجھنا اور اس کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ایسے واقعات اب کسی ایک طبقے، علاقے یا معاشی حیثیت تک محدود نہیں رہے بلکہ تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانوں میں بھی اسی نوعیت کی اندرونی کشیدگی نظر آتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ مسئلہ محض معاشی تنگ دستی یا جہالت کا نہیں بلکہ کہیں زیادہ گہرا، اخلاقی اور نفسیاتی سطح کا ہے۔
اعتماد کیوں کمزور پڑ رہا ہے؟
خاندانی رشتوں کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے، اور جب یہ بنیاد ہلنے لگے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ اس بے اعتمادی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے، تیزی سے بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے جس میں مادی کامیابی کو انسانی رشتوں پر فوقیت دی جانے لگی ہے۔ جب دولت اور نمود و نمائش زندگی کا محور بن جائیں تو محبت، ایثار اور قربانی جیسے اوصاف پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ دوسرا اہم عامل سوشل میڈیا ہے، جس نے ایک طرف رابطوں کو آسان بنایا تو دوسری طرف موازنے، حسد اور غیر حقیقی توقعات کو بھی جنم دیا۔ دوسروں کی نمائشی زندگی دیکھ کر اپنے گھر سے عدم اطمینان پیدا ہونا، اور نجی معاملات کا سرِعام تذکرہ، دونوں ہی اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
تیسرا عامل نفسیاتی دباؤ اور معاشی عدم استحکام ہے۔ روزگار کی غیر یقینی صورتِ حال، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں انسان کو چڑچڑا اور بے صبر بنا دیتی ہیں، اور یہی بے صبری گھر کی چار دیواری میں غصے اور تلخی کی صورت میں پھوٹتی ہے۔ چوتھا عامل مشترکہ خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ پہلے بزرگوں کی موجودگی میں چھوٹے موٹے اختلافات بروقت سلجھا لیے جاتے تھے، مگر اب انفرادیت پسندی کے فروغ سے تنہائی اور مشاورت کا فقدان بڑھ گیا ہے۔ پانچواں اور شاید سب سے بنیادی عامل اخلاقی و روحانی زوال ہے، جس کے باعث صبر، عفو، رواداری اور خوفِ خدا جیسی اقدار کمزور پڑ گئی ہیں، اور ان کی جگہ انا، انتقام اور فوری ردِعمل نے لے لی ہے۔
دونوں فریقین کی ذمہ داری: انصاف اور اعتدال کا تقاضا
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ گھریلو ناچاقی اور تشدد کا مسئلہ کسی ایک صنف تک محدود نہیں۔ معاشرے میں بعض مرد اپنی قوت اور اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شریکِ حیات یا اہلِ خانہ پر جسمانی و ذہنی تشدد روا رکھتے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دوسری طرف بعض گھرانوں میں زبان کی تلخی، طعنہ زنی، بلاجواز شک اور جذباتی تشدد کا رویہ بھی رشتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ منصفانہ تجزیہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم کسی ایک فریق کو مجموعی طور پر مورد الزام نہ ٹھہرائیں بلکہ ہر انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، کو اپنے قول و فعل کا ذمہ دار سمجھیں۔ حقیقی اصلاح تب ہی ممکن ہے جب مرد اپنی قوت کو تحفظ اور رحمت کے لیے استعمال کریں، اور عورتیں بھی صبر، حکمت اور خوش اسلوبی سے گھر کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں کی باہمی مشاورت اور احترام ہی خاندان کو مضبوط بنیادوں پر استوار رکھ سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی زندگی
اسلام نے خاندانی نظام کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی و اخلاقی رشتہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں نکاح کے مقصد کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔" (سورۃ الروم: 21)
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح کا اصل مقصد سکون، محبت اور رحمت ہے، نہ کہ خوف، تسلط یا جبر۔ اسی طرح میاں بیوی کے حسنِ سلوک کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ "اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔" (سورۃ النساء: 19)
یہ حکم مردوں کو خاص طور پر مخاطب کر کے دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کریں، چاہے کسی بات پر ناپسندیدگی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اسی آیت میں آگے فرمایا گیا کہ ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو مگر اللہ اسی میں بھلائی رکھ دے۔ نبی کریم ﷺ نے حسنِ سلوک کو ایمان کے ساتھ جوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي" "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر ہوں۔" (ترمذی)
غصے پر قابو پانے کے حوالے سے آپ ﷺ کی تعلیم انتہائی جامع ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا تَغْضَبْ" یعنی "غصہ نہ کیا کرو"، اور اسی بات کو آپ ﷺ نے بار بار دہرایا۔ اسی طرح حقیقی طاقتور انسان کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ" "طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طور پر طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔" (بخاری و مسلم)
عدل، احسان اور باہمی مشاورت کو بھی قرآن نے خاندانی زندگی کا بنیادی اصول قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ" (سورۃ النحل: 90)، یعنی اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو باہمی مشورے سے معاملات طے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے: "فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ" (سورۃ البقرہ: 233)، یعنی اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورے سے کوئی فیصلہ کرنا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ اصول محض دودھ چھڑانے کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ خاندانی زندگی کے ہر پہلو پر لاگو ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی اس بات کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے کہ رحمت، نرمی اور خوش طبعی کیسے گھریلو زندگی کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اپنی ازواجِ مطہرات کا ہاتھ بٹاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگاتے اور خوش طبعی سے پیش آتے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی زوجہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا، اور صحیح احادیث میں یہ بات واضح طور پر مذکور ہے کہ آپ ﷺ کا ہاتھ کبھی کسی عورت یا خادم پر نہیں اٹھا۔ یہ اسوہ اس بات کی دلیل ہے کہ طاقت اور اختیار کا حقیقی مظہر تحمل اور رحمت میں ہے، نہ کہ سختی اور تشدد میں۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ اسلام کسی بھی صورت میں ظلم، تشدد، انتقام یا خودساختہ سزا کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ناحق کسی جان کو نقصان پہنچانے کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا: "مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا" (سورۃ المائدہ: 32)، یعنی جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانیت کو قتل کر دیا۔ اسلام نے ہر قسم کے نزاع کے حل کے لیے عدل و انصاف اور باقاعدہ طریقۂ کار مقرر کیا ہے، خودساختہ انصاف یا انتقام کی ہرگز اجازت نہیں دی۔ خاندانی تنازعات کے حل کے لیے بھی قرآن نے ثالثی اور مصالحت کا حکم دیا: "وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا" (سورۃ النساء: 35)، یعنی اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا خدشہ ہو تو دونوں طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کیا جائے تاکہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو۔
نفسیاتی پہلو: غصہ، دباؤ اور جرائم کا تعلق
جدید نفسیات بھی اسلامی تعلیمات کی تصدیق کرتی ہے کہ بے قابو غصہ، دائمی ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور عدمِ برداشت انسان کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کرتے ہیں، جس سے وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں شدید پچھتاوا ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب انسان کو اپنے جذبات کے اظہار کا صحت مند ذریعہ میسر نہ ہو، اور وہ اپنے مسائل کسی سے بانٹ نہ سکے، تو دباؤ اندر ہی اندر جمع ہوتا رہتا ہے اور بالآخر کسی نہ کسی صورت میں پھٹ پڑتا ہے۔ اس کے عملی حل میں یہ بات شامل ہے کہ خاندان میں کھلے مکالمے کی روایت پروان چڑھائی جائے، ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا خاندانی مشیر سے رجوع کرنے کو معیوب نہ سمجھا جائے، غصے کے وقت فوری ردِعمل کے بجائے وقفہ لینے کی عادت اپنائی جائے، اور روحانی مشاغل جیسے نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت کو ذہنی سکون کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہ تمام تدابیر مل کر انسان کو اندرونی توازن بخشتی ہیں اور اسے تشدد آمیز ردِعمل سے بچاتی ہیں۔
حکومتی ذمہ داریاں: ادارہ جاتی اصلاح کی ضرورت
اس بحران سے نمٹنے میں حکومت اور ریاستی اداروں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے، ہر ضلعی سطح پر خاندانی کونسلنگ سینٹرز کا قیام ناگزیر ہے جہاں تربیت یافتہ ماہرین مفت یا مناسب فیس پر گھریلو مسائل میں رہنمائی فراہم کریں۔ دوسرا، ذہنی صحت کی سہولیات کو ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت تک وسعت دی جائے، کیونکہ ابھی بھی ہمارے معاشرے میں نفسیاتی علاج کو بدنما داغ سمجھا جاتا ہے۔ تیسرا، گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے موجود قوانین کو محض کاغذی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ چوتھا، عدالتی نظام میں خاندانی مقدمات کے لیے تیز رفتار کارروائی کا طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت انصاف مل سکے اور معاملات برسوں تک لٹکے نہ رہیں۔
پانچواں اہم قدم تعلیمی نصاب میں اخلاقیات، جذباتی ذہانت اور خاندانی تربیت سے متعلق مضامین شامل کرنا ہے، تاکہ نئی نسل بچپن ہی سے صبر، برداشت اور احترام جیسی اقدار سیکھے۔ چھٹا، حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر عوامی آگاہی مہمات چلانی چاہئیں جو خاندانی تشدد کے نقصانات اور اس کی روک تھام کے طریقوں سے متعلق شعور اجاگر کریں۔ ساتواں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشدد آمیز اور سنسنی خیز مواد کی اشاعت کو محدود کرنے کے لیے مؤثر ضابطہ کاری کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسا مواد نہ صرف معاشرتی حساسیت کو کم کرتا ہے بلکہ بعض کمزور ذہنوں کے لیے تقلید کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
علماء، میڈیا، تعلیمی اداروں اور والدین کا کردار
اس اصلاحی عمل میں علماءِ کرام کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ خطباتِ جمعہ اور دینی مجالس میں محض عبادات تک محدود رہنے کے بجائے حسنِ معاشرت، حقوقِ زوجین اور خاندانی مسائل پر بھی باقاعدہ رہنمائی دی جانی چاہیے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھریلو تشدد کے واقعات کو غیر ضروری تفصیلات اور سنسنی خیزی کے بغیر، ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کرے، اور اصلاحی پہلوؤں کو اجاگر کرے۔ تعلیمی ادارے نصاب کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت کے ذریعے بچوں میں جذباتی توازن اور برداشت پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں محبت، احترام اور مکالمے کی فضا قائم کریں، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے گھر میں دیکھتے ہیں۔ نوجوان نسل پر بھی لازم ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی نمائشی دنیا کے دباؤ سے نکل کر حقیقی رشتوں کی قدر کرنا سیکھے۔
اختتامیہ: امید کا چراغ
خاندانی رشتوں میں بڑھتی بے اعتمادی اور تشدد کوئی لاعلاج مرض نہیں بلکہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا حل ہمارے اپنے دین، اخلاقیات اور اجتماعی دانش میں پہلے سے موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر خود احتسابی کا راستہ اپنائیں، صبر اور عفو کو کمزوری نہیں بلکہ حقیقی قوت سمجھیں، اور اپنے گھروں کو رحمت و محبت کا مسکن بنانے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ حکومت، علماء، میڈیا، تعلیمی ادارے اور والدین سب اگر اپنا اپنا کردار خلوصِ نیت سے ادا کریں تو یہ ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں ایسے گھرانوں میں پروان چڑھیں جہاں اختلاف رائے تشدد میں نہیں بلکہ افہام و تفہیم میں بدل جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے ایک مینارۂ نور کی طرح موجود ہے، جس میں محبت بھی ہے، رحمت بھی، اور عدل بھی۔ اگر ہم اسی روشنی میں اپنے گھروں کو سنوارنے کی کوشش کریں تو یقیناً یہ بحران، جو آج پریشان کن دکھائی دیتا ہے، کل ایک مضبوط اور پُرسکون خاندانی نظام میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ امید ہے جو ہمیں مایوسی کے بجائے عمل کی طرف مائل کرتی ہے۔
انس طالب علم، دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا |
|