ریاست اور عوام کا سماجی معاہدہ: پاکستان کے مستقبل کا اصل امتحان

ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے، نہ کہ صرف اس کی فوج، معیشت یا سرحدیں۔ تاریخ اور سیاسیات کا سوشل کنٹریکٹ کا نظریہ یہی بتاتا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کو انصاف، مساوات، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے تو عوام بھی ریاست کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ ماضی کے اسباق سے سیکھتے ہوئے محرومیوں کو کم کیا جائے، قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط بنایا جائے، کیونکہ مضبوط سماجی معاہدہ ہی ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے
ریاست اور عوام کا سماجی معاہدہ: پاکستان کے مستقبل کا اصل امتحان

تاریخ کے اوراق پر اگر ایک حقیقت بار بار لکھی گئی ہے تو وہ یہ ہے کہ ریاستیں صرف سرحدوں، فوجوں، ہتھیاروں یا آئین کے بل بوتے پر قائم نہیں رہتیں۔ ان کی اصل طاقت عوام کے دلوں میں ہوتی ہے۔ جب عوام اپنے آپ کو ریاست کا حصہ سمجھیں، جب انہیں یقین ہو کہ یہ ریاست ان کی عزت، جان، مال، شناخت اور مستقبل کی محافظ ہے، تبھی ریاست مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار میں دراڑیں پڑنے لگیں تو سب سے مضبوط ریاستیں بھی اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
سیاسیات میں اس تعلق کو سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) یا سماجی معاہدہ کہا جاتا ہے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے مفکرین تھامس ہابز، جان لاک اور ژاں ژاک روسو نے اس نظریے کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کی۔ ہابز کے مطابق لوگ انتشار سے بچنے کے لیے ریاست قائم کرتے ہیں، جان لاک کے نزدیک ریاست کا بنیادی فرض شہریوں کے جان، مال اور آزادی کا تحفظ ہے، جبکہ روسو کا خیال تھا کہ ریاست کی اصل طاقت عوام کی اجتماعی رضامندی سے جنم لیتی ہے۔ ان تینوں مفکرین کے نظریات کا خلاصہ ایک ہی ہے: ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہی ریاست کی اصل طاقت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید سیاسیات میں Legitimacy یعنی ریاستی جواز کو سب سے اہم تصور سمجھا جاتا ہے۔ جب عوام محسوس کریں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے، ان کی آواز سنی جا رہی ہے، قانون سب کے لیے برابر ہے اور ترقی کے مواقع یکساں ہیں، تو وہ ریاست کو اپنی ریاست سمجھتے ہیں۔ لیکن جب محرومیاں بڑھنے لگیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو، قانون کمزوروں کے لیے الگ اور طاقتوروں کے لیے الگ ہو، یا لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں، تو ریاست اور عوام کے درمیان سماجی معاہدہ کمزور ہونے لگتا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ فرانسیسی انقلاب صرف بھوک کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ انصاف کی عدم موجودگی کا ردعمل بھی تھا۔ روسی انقلاب محض حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ عوامی بے اعتمادی کا اظہار تھا۔ دنیا کی بے شمار ریاستیں اس لیے کمزور ہوئیں کہ انہوں نے اپنے عوام کے دل جیتنے کے بجائے صرف طاقت کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، لیکن وفاداری کبھی پیدا نہیں کر سکتی۔
پاکستان بھی اس عالمی اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ ہمارا ملک مختلف زبانوں، ثقافتوں، قومیتوں اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ یہی تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہر پاکستانی کو یہ احساس ہو کہ اس کی شناخت، اس کے حقوق اور اس کا مستقبل اس ریاست کے لیے برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ ریاست کی کامیابی کا معیار صرف بڑے منصوبے یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اعتماد ہوتا ہے جو ایک عام شہری کے دل میں اپنی ریاست کے لیے موجود ہوتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک باب 16 دسمبر 1971 ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب پر مؤرخین مختلف زاویوں سے بحث کرتے ہیں، لیکن اس بات پر کافی حد تک اتفاق پایا جاتا ہے کہ سیاسی اختلافات، نمائندگی کے مسائل، اعتماد کے فقدان اور بڑھتی ہوئی دوریوں نے اس سانحے کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے تو دشمن سرحدوں سے پہلے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔
یہی سبق ہمیں آج بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس وقت کسی نئے سماجی معاہدے کی نہیں بلکہ اپنے موجودہ سماجی معاہدے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار کے مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کا اعتماد مزید مضبوط کریں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچائی، ذمہ داری اور قومی مفاد کو ترجیح دے۔ اساتذہ، دانشوروں اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ قوم کو جوڑنے والی زبان استعمال کریں، نہ کہ تقسیم کرنے والی۔
اسی طرح عوام بھی اس سماجی معاہدے کے برابر کے شریک ہیں۔ قانون کی پابندی، قومی اداروں کا احترام، اختلافِ رائے میں شائستگی، ٹیکس کی ادائیگی، قومی املاک کا تحفظ اور معاشرتی ہم آہنگی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ حقوق اور فرائض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ اگر ایک کمزور ہو جائے تو دوسرا بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
ہم اپنے اردگرد کی دنیا سے بھی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ ایران کے اندر برسوں سے سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید موجود رہی ہے، لیکن جب بیرونی خطرات نے ریاست کی خودمختاری کو چیلنج کیا تو قومی سلامتی کے معاملے پر بڑی تعداد میں عوام نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اختلافات کے باوجود جب شہری اپنے وطن کو اپنا سمجھتے ہیں تو وہ ریاست کے دفاع کے لیے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ اعتماد ہے جسے ہر ریاست کو مسلسل مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نفرت وقتی تالیاں تو بجا سکتی ہے، مگر مستقل قومیں نہیں بنا سکتی۔ تقسیم وقتی سیاسی فائدہ دے سکتی ہے، مگر آنے والی نسلوں سے ان کا محفوظ مستقبل چھین لیتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست اپنے ناقدین کو دشمن نہیں سمجھتی بلکہ ان کی جائز آواز کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ بناتی ہے، اور ایک ذمہ دار قوم اختلاف کو نفرت میں تبدیل نہیں ہونے دیتی۔
آج اگر پاکستان کے کسی حصے میں کوئی شہری محرومی محسوس کرتا ہے تو اسے خاموش کر دینے کے بجائے اس کی بات سننا زیادہ دانشمندانہ راستہ ہے۔ زخموں پر پردہ ڈالنے سے زخم ختم نہیں ہوتے؛ ان کا علاج کرنے سے ہوتے ہیں۔ انصاف، مساوات، شفافیت اور مکالمہ وہ مرہم ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو دوبارہ مضبوط کرتے ہیں۔
ریاست اور عوام کا تعلق ایک عظیم عمارت کی بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ مضبوط بنیاد پر کھڑی عمارت صدیوں تک آندھیوں اور زلزلوں کا مقابلہ کرتی ہے، لیکن جب بنیاد میں دراڑیں پڑ جائیں تو معمولی جھٹکے بھی اسے گرا دیتے ہیں۔ پاکستان کو آج نئی عمارت بنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بنیاد انصاف، اعتماد، مساوات، مکالمہ، آئین کی بالادستی اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوگی۔
اگر ہم اپنے ہر شہری کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ اس وطن کا برابر کا مالک ہے، اس کے دکھ ریاست کے دکھ ہیں، اور اس کے خواب پاکستان کے خواب ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو کمزور نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر ہم نے نفرت، تعصب، محرومی اور تقسیم کو پروان چڑھایا، تو پھر ہمیں کمزور کرنے کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوگی؛ ہمارے اندر پیدا ہونے والی دراڑیں ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گی۔
قومیں زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں، قومیں دلوں کے رشتوں سے بنتی ہیں۔ اور جب دل ریاست کے ساتھ دھڑکنے لگیں تو تاریخ گواہ ہے کہ پھر کوئی طاقت اس ریاست کو جھکا نہیں سکتی۔.

 

 

Ejaz Hussain
About the Author: Ejaz Hussain Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.