پاکستان کا دوراہا: زخم، سوال اور امید

جب انسان اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑا ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے صرف اینٹیں اور دیواریں نظر نہیں آتیں، بلکہ وہ کہانیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جو ان دیواروں نے سہی ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہی گھر ہے۔ اٹھہتربرس پہلے جب یہ سرزمین معرضِ وجود میں آئی تھی تو لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، کئیوں نے اپنی جانیں دیں، اور بہت سوں نے صرف ایک خواب کی خاطر ہجرت کی — ایک ایسی سرزمین کا خواب جہاں وہ آزادی سے سانس لے سکیں۔ لیکن آج، ستتر برس بعد، اسی سرزمین کے کچھ کونے ایسے ہیں جہاں سے آوازیں اٹھتی ہیں، شکایتیں گونجتی ہیں، اور کہیں کہیں بندوقیں بھی بولتی ہیں۔ یہ سوال صرف سیاسی نہیں، یہ سوال دل کا بھی ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو ایک ماں کے آنگن کے کچھ بچوں کو اس آنگن سے بدظن کر دیتی ہیں، اور یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کیا ہر بدظنی خالص ہوتی ہے، یا کبھی کبھار اس میں کسی اور کا ہاتھ بھی شامل ہوتا ہے۔
بلوچستان کی بات کریں تو یہ صرف ایک صوبہ نہیں، یہ پاکستان کا سب سے وسیع اور سب سے قدیم خطہ بھی ہے۔ اس کی زمین کے نیچے سونا ہے، گیس ہے، معدنیات کا خزانہ ہے، اور اس کے ساحل پر گوادر جیسی بندرگاہ ہے جسے کبھی خطے کا دبئی بننے کا خواب دکھایا گیا تھا۔ مگر ستم یہ ہے کہ جس زمین کے نیچے اتنی دولت دفن ہے، اسی زمین کے اوپر بسنے والوں کی اکثریت آج بھی پینے کے صاف پانی کی بوند کو ترستی ہے۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس محرومی کی ذمہ داری صرف اسلام آباد پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ بلوچستان کے اندر صدیوں سے رائج سرداری نظام نے بھی اس خطے کو پیچھے دھکیلنے میں کم کردار ادا نہیں کیا۔ وہ سردار جنہیں اپنے علاقے میں سکول، ہسپتال اور بجلی کے منصوبے لانے کا اختیار اور موقع دونوں ملے، انہوں نے اکثر اپنی ذاتی جاگیریں بڑھائیں، اپنی اولاد کو بیرونِ ملک تعلیم دلوائی، شہروں میں کوٹھیاں بنوائیں، جبکہ انہی کے قبیلے کا عام آدمی آج بھی کچے گھر میں بجلی کے بغیر رات کاٹتا ہے۔ یہ تضاد صرف ریاست اور عوام کے درمیان نہیں، بلکہ خود بلوچ معاشرے کے اندر بھی موجود ہے، اور جب تک اس اندرونی نظام کو للکارا نہیں جاتا، صرف مرکز کو مورد الزام ٹھہرانا آدھا سچ ہی رہے گا۔ اس محرومی کو کچھ مسلح تنظیمیں ہتھیار بنا کر ریاست پر حملہ آور ہوتی ہیں، اور پاکستانی ریاست کا مؤقف رہا ہے کہ ان تنظیموں کو بیرونی ہاتھ، خاص طور پر بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی سب سے بڑی مثال کلبھوشن جادھو کا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ سچ چاہے جتنا بھی پیچیدہ ہو، ایک بات طے ہے کہ بلوچستان کے زیادہ تر عام لوگ آزادی نہیں چاہتے، وہ عزت چاہتے ہیں، وہ اپنے وسائل میں حصہ چاہتے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لاپتہ بیٹوں کا حساب کوئی دے، خواہ وہ حساب ریاست سے ہو یا اپنے ہی سرداروں سے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کی کہانی بھی الگ مگر اتنی ہی گھمبیر ہے۔ یہاں ایک نازک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ پختون قومیت پرستی اور دہشت گردی کی حمایت دو بالکل مختلف چیزیں ہیں، اور انہیں گڈمڈ کرنا ناانصافی ہوگی، کیونکہ تاریخ میں پختون قوم پرست جماعتیں اکثر طالبان کی سب سے بڑی مخالف رہی ہیں اور ان کے کارکنوں نے اس مخالفت کی بھاری قیمت اپنی جانوں سے چکائی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرحد پار کچھ قبائلی اور نظریاتی رشتے ایسے بھی ہیں جو تحریکِ طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کو مقامی سطح پر پناہ، معلومات اور سہولت فراہم کرتے ہیں۔ کچھ گھرانے، کچھ نیٹ ورک، نظریاتی ہمدردی یا خوف کی بنیاد پر ان عناصر کو تحفظ دیتے ہیں، سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کی خبر پہنچاتے ہیں، اور پھر یہی معلومات ایسے حملوں کی بنیاد بنتی ہیں جن میں بے گناہ فوجی جوان اور عام شہری دونوں شہید ہوتے ہیں۔ یہ چند لوگ پوری پختون قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، مگر ان کے اعمال کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ جب ایک قبیلے یا علاقے سے سہولت کاری کی خبر آتی ہے تو شک کا دائرہ پورے علاقے پر پھیل جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جتنے فوجی جوان اس جنگ میں شہید ہوئے، اتنے ہی عام پختون گھرانے بھی اجڑے، بے گھر ہوئے، اور اپنے بچوں کو کھو بیٹھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانی خود پختون عوام نے دی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اصل حل چند سہولت کار نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں ہے، نہ کہ پوری قوم کو ایک ہی نظر سے دیکھنے میں۔
اور اب بات کرتے ہیں کشمیر کی، جو ہمارے دلوں کا سب سے حساس ترین گوشہ ہے، اور جہاں حالیہ مہینوں میں جو کچھ ہوا وہ واقعی تشویشناک ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک شروع تو آٹے اور بجلی کی قیمتوں، اور مقامی وسائل پر خودمختاری جیسے خالص معاشی مطالبات سے ہوئی تھی، اور اس حد تک اس تحریک کے پیچھے عام کشمیری کی جائز تکلیف موجود تھی۔ مگر رفتہ رفتہ اس تحریک کا لہجہ بدلتا گیا۔ خواجہ مہران اور سردار امان اللہ جیسے رہنماؤں نے کھلے جلسوں میں فوجی جوانوں کو بغاوت پر اکسانے کی باتیں کیں، یہ نعرے بلند ہوئے کہ فوج یہاں سے نکل جائے اور کشمیری خود بھارت سے لڑیں گے، اور پھر راولاکوٹ میں سی ایم ایچ پر ایک منظم حملہ ہوا جس میں کئی پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں، وہ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس جدید ترین دفاعی نظام اور تربیت یافتہ فوج ہے، وہ ستتر برس میں کشمیر کو بھارت کے تسلط سے آزاد نہیں کروا سکا، تو کیا چند لاکھ وہ لوگ جن کے پاس نہ اسلحہ ہے نہ وسائل نہ تربیت، اکیلے بھارت جیسی بڑی فوجی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال منطق کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔ کچھ تجزیہ کار اسی بنیاد پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس نعرے بازی کے پیچھے خالص جذبات سے زیادہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کارفرما ہو سکتی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور کشمیر کاز کو ہی اندر سے کمزور کر دینا ہو، تاکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا اصل مسئلہ عالمی توجہ سے ہٹ جائے۔ یہ ایک قابلِ غور نکتہ ہے، اگرچہ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے وہاں طاقت کے استعمال اور صحافیوں و کارکنوں کی گرفتاریوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ سچ شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں کھڑا ہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ جب معاشی مطالبات کا رخ بغاوت اور مسلح تصادم کی طرف مڑ جائے، تو نقصان صرف ریاست کا نہیں، خود کشمیریوں کے اس تاریخی مقدمے کا بھی ہوتا ہے جو انہوں نے ستتر برس تک عالمی برادری کے سامنے رکھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ان تمام حالات پر کیسے قابو پا سکتا ہے۔ کیا کوئی ایسا نظام لایا جائے جہاں فیصلے سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر کیے جائیں، جیسا کہ چین کے یک جماعتی نظام میں ہوتا ہے؟ اس سوچ میں ایک کشش ضرور ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روز بروز کی سیاسی افراتفری سے تنگ آ چکے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی ہی تاریخ کا ورق پلٹیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان یہ تجربہ ماضی میں کر چکا ہے۔ ایوب خان کا دور ہو، ضیاءالحق کا مارشل لا ہو، یا مشرف کا اقتدار، ہر بار جب سیاسی عمل کو کمزور کیا گیا اور فیصلے چند ہاتھوں میں مرکوز ہوئے، تو بلوچستان اور پختون علاقوں کی محرومیاں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت اسی دور کی ایک ایسی یاد ہے جو آج بھی بلوچستان کے دلوں میں زخم بن کر تازہ ہے۔ چین کا ماڈل صرف ایک جماعت کے اقتدار پر کھڑا نہیں، اس کے پیچھے دہائیوں کی ادارہ جاتی نظم و ضبط، میرٹ پر مبنی ترقی، اور احتساب کے سخت نظام ہیں۔ صرف اپوزیشن کو خاموش کر دینا وہ نتائج نہیں دے سکتا جو چین کو ملے۔
یہاں یہ بات بھی دیانتداری سے تسلیم کرنی چاہیے کہ پاکستان کے اندرونی نظام، بشمول ریاستی اداروں اور فوج کے، ماضی میں کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ کبھی سیاسی عمل میں مداخلت ہوئی، کبھی معاشی فیصلے مقامی آبادی کے مفاد کے بجائے مرکزی مفاد کو مدِنظر رکھ کر کیے گئے، اور کبھی طاقت کا استعمال ایسے وقت پر ہوا جب مکالمے کی ضرورت تھی۔ یہ غلطیاں تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ پختگی کی نشانی ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ کہنا بھی حقیقت سے چشم پوشی ہوگی کہ ہر مسئلے کی جڑ صرف نظام میں ہے۔ سرداری نظام کا استحصال، کچھ قبائلی نیٹ ورکس کی سہولت کاری، اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت، یہ سب بھی اتنے ہی حقیقی عوامل ہیں جتنے ریاستی کوتاہیاں۔ کسی ایک عنصر پر سارا ملبہ ڈال دینا، خواہ وہ ریاست ہو یا کوئی اور فریق، اصل مسئلے کو سمجھنے کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
میرے نزدیک اصل حل نہ تو مکمل مرکزیت میں ہے اور نہ ہی مکمل انتشار میں، بلکہ اس اعتماد کی بحالی میں ہے جو کبھی ٹوٹ چکا ہے، اور یہ اعتماد دو طرفہ سڑک ہونا چاہیے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے وسائل کی آمدنی وہاں کے عام آدمی تک پہنچائے، نہ کہ صرف سرداروں کی جیب تک، لاپتہ افراد کے خاندانوں کو انصاف دے، اور خیبرپختونخوا میں سہولت کار نیٹ ورکس کے خلاف مقامی آبادی کے تعاون سے دانشمندانہ کارروائی کرے تاکہ بے گناہ نہ پسیں۔ اور دوسری طرف، جو لوگ اپنے جائز معاشی مطالبات کو مسلح بغاوت یا فوج مخالف نعروں میں بدلنے کی کوشش کریں، انہیں بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسی حرکتیں نہ صرف ریاست کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ خود ان کے اپنے مقدمے کی ساکھ کو بھی مجروح کرتی ہیں، اور ایسے میں دشمن کو صرف تماشا دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ محبت اور اعتماد کو بندوق سے نہیں خریدا جا سکتا، اور نہ ہی وفاداری کو حکم سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ وہ اپنے ہر رنگ، ہر زبان اور ہر خطے کو یہ احساس دلائے کہ یہ سرزمین سب کی برابر ماں ہے، اور ساتھ ہی وہ ہر اس سازش کو بھی پہچانے جو اس ماں کے آنگن میں پھوٹ ڈالنے کے لیے رچائی جاتی ہے۔
یہ وطن جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے دریا عبور کیے، جس کی خاطر لاشیں تک نہیں دفنائی جا سکیں، وہ کسی ایک زبان، کسی ایک صوبے یا کسی ایک طبقے کی میراث نہیں۔ یہ سب کا گھر ہے، اور گھر کی مضبوطی اس کی دیواروں میں نہیں، اس میں بسنے والوں کے دلوں کے سکون میں ہوتی ہے۔ شاید یہی وہ اصل جنگ ہے جو پاکستان کو لڑنی ہے، بندوق کے میدان میں نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور بیداری کے میدان میں۔ اور یہ جنگ اگر جیت لی گئی، تو باقی سب مسئلے خودبخود اپنی موت آپ مر جائیں گے

 

 

Muhammad wajid AZIZ
About the Author: Muhammad wajid AZIZ Read More Articles by Muhammad wajid AZIZ: 12 Articles with 18867 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.