چین میں حیاتیاتی تنوع کے فروغ کی نئی کوشش
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں حیاتیاتی تنوع کے فروغ کی نئی کوشش تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کا فروغ دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ چین بھی گزشتہ چند برسوں سے جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی ماحول کی بحالی اور ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ملک نے اب پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں سے متعلق جرائم کے خلاف ایک نئی ملک گیر مہم شروع کر دی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی شکار، اسمگلنگ اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کا خاتمہ کرنا ہے۔
جون سے دسمبر تک جاری رہنے والی اس خصوصی مہم کے دوران پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں سے متعلق جرائم کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس مہم میں غیر قانونی شکار، خصوصاً آتشیں اسلحے اور ڈرونز کے ذریعے شکار، نیز انٹرنیٹ کے ذریعے جنگلی حیات کی خرید و فروخت اور خوراک کے طور پر استعمال کے لیے ہونے والی غیر قانونی تجارت کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
چینی حکام کے مطابق کارروائیوں کا دائرہ غیر قانونی تجارت کے پورے سلسلے پر محیط ہوگا، جس میں شکار، خریداری، نقل و حمل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو بھی ختم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سرحد پار جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی روک تھام کے لیے دیگر ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین دنیا کے نو بڑے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستوں میں سے چار اہم راستوں پر واقع ہے اور یہاں 1,505 اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں، جن میں 800 سے زائد اقسام ہجرت کرنے والے پرندوں کی ہیں۔
یہ نئی مہم چین میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نایاب اور خطرے سے دوچار پرندوں کی آبادی میں استحکام اور اضافہ دیکھا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ملک بھر میں پرندوں کے غول نہ صرف تعداد میں بڑھے ہیں بلکہ ان میں انواع کا تنوع بھی پہلے سے زیادہ ہوا ہے۔اس وقت چین میں 98.4 فیصد پرندوں کی اقسام قانونی تحفظ حاصل کر چکی ہیں، جبکہ 394 اقسام کو قومی سطح پر خصوصی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
پرندوں کے تحفظ کی کامیاب مثالوں میں کلغی دار آئبس نمایاں ہے، جسے ایک وقت میں چین میں معدوم تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم 1981 میں شمال مغربی چین کے ایک علاقے میں اس کی چند جنگلی نسلیں دوبارہ دریافت ہوئیں۔ 2025 کے اختتام تک اس پرندے کی عالمی آبادی 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کا قدرتی مسکن بڑھ کر 20 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اسی پیش رفت کے باعث بین الاقوامی فہرست میں اس پرندے کی حیثیت انتہائی خطرے سے دوچار سے تبدیل کر کے خطرے سے دوچار قرار دی جا چکی ہے۔
گزشتہ سال کی مہم کے دوران جنگلی حیات سے متعلق 9 ہزار 700 سے زائد فوجداری مقدمات کی تحقیقات کی گئیں، جن میں 3 ہزار 500 سے زیادہ مقدمات پرندوں سے متعلق تھے۔چینی حکام نے دریائے زرد کے بالائی سے زیریں حصوں تک مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں بھی انجام دیں، جن کے دوران نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے غیر قانونی شکار اور تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا۔
یہ نئی مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب چین سبز ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے اور پریفیکچر سطح اور اس سے بڑے شہروں میں باریک ذرات کی مقدار مجموعی طور پر 20 فیصد کم ہوئی ہے، جس کے باعث صاف نیلا آسمان اب زیادہ عام منظر بنتا جا رہا ہے۔
اسی دوران دریاؤں کی بحالی اور شہری سبز رقبے میں اضافے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ بڑے شہروں میں بدبو دار اور آلودہ آبی ذخائر کا مسئلہ بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے، جبکہ نئے پارکس اور گرین ویز کی تعمیر کے باعث شہری تعمیر شدہ علاقوں میں سبز رقبے کا تناسب 40 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
دریائے یانگسی میں نافذ کردہ دس سالہ ماہی گیری پر پابندی کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پانی کے معیار میں بہتری کے ساتھ دریائے یانگسی کی بغیر پَر والی ڈولفن، جسے دریا کے ماحولیاتی نظام کی صحت کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، کی آبادی میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کے باوجود چینی حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ماحولیاتی اور حیاتیاتی تحفظ کے شعبے میں ابھی بھی کئی چیلنجز موجود ہیں اور ماحولیات میں مقداری بہتری کو پائیدار معیاری تبدیلی میں تبدیل کرنے کے لیے مزید مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔
اسی مقصد کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں غیر قانونی ماہی گیری اور غیر قانونی ریت نکالنے کے خلاف خصوصی مہمات بھی چلائی گئیں، جن کے دوران 2024 میں 5 ہزار 200 سے زائد فوجداری مقدمات حل کیے گئے اور 710 سے زیادہ جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا۔
وسیع تناظر میں ،چین میں پرندوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جاری نئی ملک گیر مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف سخت قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کی بحالی، سبز ترقی اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے اقدامات مستقبل میں حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور انسانیت و فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ |
|