چین میں زرعی جدت اور کسانوں کی نئی امید

چین میں زرعی جدت اور کسانوں کی نئی امید
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

زرعی شعبے میں جدید تحقیق اور سائنسی ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین بھی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے ایسے علاقوں میں نئی فصلیں متعارف کرا رہا ہے جہاں قدرتی حالات روایتی زراعت کے لیے سازگار نہیں سمجھے جاتے تھے۔ اسی سلسلے میں شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے کے صحرائی علاقے میں پھلوں کی کامیاب کاشت نے زرعی ماہرین اور مقامی آبادی دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

سنکیانگ میں صحرائے تکلامکان کے جنوبی کنارے پر واقع ایک علاقے میں، جہاں دنیا کے خشک ترین خطوں میں شمار ہونے والے حالات پائے جاتے ہیں، گرین ہاؤسز کے اندر کیلے، پپیتے اور انناس جیسے پھل کامیابی سے اگائے جا رہے ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں ماضی میں بنیادی طور پر کپاس اور گندم جیسی خشک سالی برداشت کرنے والی فصلیں ہی کاشت کی جاتی تھیں۔

صحرائی ماحول، شدید دھوپ، انتہائی کم بارش اور نمکیات سے متاثرہ زمین کے باعث اس علاقے میں زرعی پیداوار ہمیشہ محدود رہی، جس کی وجہ سے مقامی کسانوں کی آمدنی بھی نسبتاً کم تھی۔ ایسے حالات میں دو سال قبل جب متعلقہ ماہرین نے یہاں مہنگے پھل اگانے کی تجویز پیش کی تو ابتدا میں اس منصوبے کی کامیابی کے بارے میں خود ماہرین کو بھی مکمل یقین نہیں تھا۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت سنکیانگ انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی اینڈ جیوگرافی کے محققین نے 2024 میں اس منصوبے کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق سنکیانگ میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق اور طویل دھوپ پھلوں میں قدرتی مٹھاس پیدا کرنے کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوتی ہے، تاہم سب سے بڑا مسئلہ نمکیات سے بھرپور سخت زمین تھی۔

روایتی طریقوں میں زمین سے نمکیات نکالنے کے لیے زیادہ پانی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس سے زمین دلدلی ہو جاتی ہے اور پودوں کی جڑیں مناسب انداز میں نشوونما نہیں کر پاتیں۔ مزید برآں، بڑی مقدار میں نامیاتی کھاد کا استعمال مقامی کسانوں کے لیے معاشی طور پر ممکن نہیں تھا۔

مسلسل تحقیق کے بعد ماہرین نے ایک نسبتاً کم لاگت اور مؤثر طریقہ اختیار کیا۔ اس میں گائے اور بھیڑ بکریوں کی کھاد کو زمین پر پھیلایا گیا، اخروٹ کے چھلکوں کو مٹی میں شامل کر کے ہوا کی آمدورفت بہتر بنائی گئی، ہلکا پانی دیا گیا تاکہ قدرتی طور پر جڑی بوٹیاں اگ سکیں، اور بعد ازاں انہیں دوبارہ زمین میں ملا دیا گیا۔ اس عمل کو کئی مرتبہ دہرانے سے نمکیات نیچے منتقل ہوتے گئے جبکہ نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ ہوتا گیا، جس سے زمین کی زرخیزی بحال ہونے لگی۔

اس طریقہ کار کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زرعی فضلے کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی بحالی ممکن بنائی گئی، جس سے اخراجات بھی کم ہوئے۔آج ، اس علاقے میں 18 گرین ہاؤسز میں 10 مختلف اقسام کے پھل اگائے جا رہے ہیں۔

تاہم اصل چیلنج زمین کی بحالی نہیں بلکہ جدید گرین ہاؤس زراعت کے لیے مقامی افرادی قوت کی تربیت تھا۔ ابتدا میں مقامی کسانوں کو گرین ہاؤسز میں کام پر رکھا گیا، مگر ان کا تجربہ صرف کھلے کھیتوں میں روایتی فصلوں تک محدود تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا نہ رہے۔



بعد ازاں مقامی کالج طلبہ کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا، جنہوں نے جدید زرعی تکنیک، درجہ حرارت کے انتظام، پودوں کی نشوونما کی نگرانی اور اعداد و شمار پر مبنی سائنسی طریقہ کار سیکھ کر گرین ہاؤسز کو ایک عملی تربیتی مرکز میں تبدیل کر دیا۔

گزشتہ سال ان نوجوانوں نے پہلی کامیاب فصل حاصل کی، تاہم منصوبے کے ذمہ دار ماہرین کے نزدیک اصل کامیابی صرف پیداوار نہیں بلکہ یہ ہے کہ مقامی افراد اس منصوبے کے اختتام کے بعد بھی خود اس نظام کو کامیابی سے چلا سکیں۔

اسی مقصد کے تحت رواں سال جنوری میں نوجوان کسانوں نے 10 گرین ہاؤسز خود لیز پر لے کر غیر موسمی انگور کی کاشت شروع کی، جس سے انہیں مسلسل آمدنی حاصل ہونا شروع ہوئی اور ان کے خاندانوں نے بھی اس شعبے کی حمایت کی۔

حکومت بھی اس منصوبے کی بھرپور سرپرستی کر رہی ہے۔ وزارتِ زراعت اور سنکیانگ کی علاقائی انتظامیہ کے مشترکہ منصوبے کے مطابق جنوبی سنکیانگ میں 2028 کے اختتام تک گرین ہاؤس زراعت سے سالانہ 9 ارب یوان آمدنی حاصل کرنے اور دو لاکھ دیہی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس زراعت نے انہیں اپنے علاقے میں باعزت روزگار فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق شہروں میں ملازمت کرنے کے بجائے اپنی زمین پر جدید زراعت کرنا زیادہ بہتر اور پائیدار ذریعہ معاش ثابت ہو رہا ہے۔

سنکیانگ کے صحرائی علاقے میں پھلوں کی کامیاب کاشت اس بات کی روشن مثال ہے کہ سائنسی تحقیق، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال سے ناممکن دکھائی دینے والے اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف بنجر زمین کو زرخیز بنانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار، آمدنی اور دیہی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے، جو پائیدار زرعی ترقی اور چینی طرز جدیدیت کی عملی جھلک پیش کرتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1147843 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More