عالمی آٹو صنعت کا بدلتا منظرنامہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
عالمی آٹو صنعت کا بدلتا منظرنامہ تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں آٹو موبائل صنعت کا مستقبل سمجھی جا رہی ہیں۔ چین اس تبدیلی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جہاں برقی اور دیگر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت مسلسل ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے بلکہ عالمی آٹو صنعت کی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
چین کی آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فروخت ہونے والی مسافر گاڑیوں میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا شیئر انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ تیزی سے ماحول دوست اور ذہین ٹرانسپورٹ لے رہی ہے۔رواں سال کی پہلی ششماہی کا ہی تذکرہ کیا جائے تونئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار 74 لاکھ 38 ہزار جبکہ فروخت 74 لاکھ 46 ہزار یونٹس رہی۔ ان میں سے تقریباً 67 فیصد خالص برقی گاڑیاں تھیں۔ یوں ، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی صارفین اب تیزی سے برقی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی طرح چین نے مجموعی طور پر 50 لاکھ 96 ہزار گاڑیاں برآمد کیں، جن میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 46 فیصد سے زیادہ رہا۔
صنعتی ماہرین کے مطابق چین کی آٹو صنعت مسلسل مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جہاں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی مارکیٹ سکڑتی جا رہی ہے۔
چین نے 2012 سے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کے فروغ، توانائی کے تحفظ اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے مختلف ٹیکس مراعات اور حکومتی سہولیات فراہم کیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس صنعت کی ترقی کا انحصار صرف حکومتی مراعات پر نہیں بلکہ صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب پر بھی ہے۔
چینی صارفین برقی گاڑیوں کی بہتر ڈرائیونگ، ذہین فیچرز، کم آپریٹنگ اخراجات اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ان کی طرف زیادہ راغب ہو رہے ہیں، جس کے باعث یہ صنعت اب مکمل طور پر مارکیٹ کی طلب پر مبنی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی اس تیز رفتار ترقی نے عالمی آٹو صنعت کی حکمت عملی بھی تبدیل کر دی ہے۔ عالمی معروف کمپنیوں نے چین کو صرف ایک بڑی منڈی کے بجائے جدت، تحقیق اور ترقی کے عالمی مرکز کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
متعدد بین الاقوامی آٹو ساز اداروں نے چین میں اپنے تحقیق و ترقی کے مراکز کو وسعت دی ہے اور مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک بڑھایا ہے تاکہ چین میں حاصل ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر اپنی مصنوعات میں شامل کیا جا سکے۔
کئی عالمی کمپنیاں اب اپنی تحقیق، ذہین گاڑیوں کی تیاری، مصنوعی ذہانت اور جدید سافٹ ویئر کی ترقی میں چینی مہارت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، جبکہ بعض غیر ملکی ادارے مقامی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے بیرونی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی آٹو کمپنیاں چین میں سخت مسابقت کا سامنا کر رہی ہیں، تاہم ملک کی وسیع صارف مارکیٹ، مضبوط صنعتی سپلائی چین، جدید تحقیقی ماحول اور باصلاحیت افرادی قوت انہیں نئی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے مزید مواقع فراہم کر رہی ہے۔
چین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آٹو موبائل صنعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ماحول دوست ٹیکنالوجی، ذہین نظام اور ڈیجیٹل اختراع ترقی کے بنیادی محرک بن چکے ہیں۔ چین نہ صرف اپنی مقامی مارکیٹ میں اس تبدیلی کی قیادت کر رہا ہے بلکہ عالمی آٹو صنعت کی سمت بھی متعین کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار نقل و حمل کے فروغ کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔ |
|