مصنوعی ذہانت سے توانائی کے شعبے میں انقلاب
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
مصنوعی ذہانت سے توانائی کے شعبے میں انقلاب تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں توانائی کے شعبے کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور ماحول دوست بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس تبدیلی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے اور مختلف ممالک توانائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ چین بھی اسی سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو توانائی کے شعبے کے ساتھ مربوط کرنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل تبدیلی، سبز ترقی اور توانائی کے تحفظ کے اہداف کو مزید مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔
چینی حکام اور ماہرین کے مطابق عالمی توانائی کے منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر مصنوعی ذہانت اور توانائی کا گہرا انضمام توانائی کے نظام کو زیادہ مضبوط، محفوظ اور مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام چین کی صنعتی مسابقت، توانائی کے تحفظ اور اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد پالیسی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جنہوں نے مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبے کے انضمام کے لیے مضبوط رہنمائی فراہم کی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بجلی کے شعبے میں محدود ڈیجیٹل تجربات سے آگے بڑھ کر پوری صنعتی زنجیر میں مربوط ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جہاں بجلی کی پیداوار، ترسیل، استعمال اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کے بجلی کے شعبے نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر 42 ارب یوان سے زائد کی براہِ راست سرمایہ کاری کی، جو ملک کے مختلف صنعتی شعبوں میں نمایاں ترین سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتی ہے۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو بجلی کی ترسیل، نظام کی نگرانی، مرمت، بجلی کی تجارت اور آلات کے معائنے سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نئے طرز کے بجلی کے نظام کی تشکیل کو اہم تقویت ملی ہے۔
چین کی بڑی توانائی کمپنیاں بھی مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ماڈلز متعارف کرا چکی ہیں، جن کی بدولت بجلی کے نظام کی کارکردگی، وسائل کے استعمال اور انتظامی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔تیل اور گیس کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کو دریافت، پیداوار، حفاظتی اقدامات، ماحولیاتی تحفظ اور کاروباری انتظام میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں فیصلہ سازی روایتی تجربات کے بجائے اعداد و شمار پر مبنی جدید نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
اگرچہ اس شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کئی اہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ان میں توانائی کے شعبے کے لیے مخصوص لارج مصنوعی ذہانت ماڈلز کی کمی، معیاری صنعتی ڈیٹا کی محدود دستیابی اور مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے مؤثر نظام کا فقدان شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے کے لیے مخصوص مصنوعی ذہانت کی بنیادی ٹیکنالوجیز میں مزید پیش رفت، ڈیٹا کے یکساں معیارات کی تشکیل اور اداروں کے درمیان معلومات کے مؤثر تبادلے کے نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو وسیع پیمانے پر عملی طور پر استعمال کیا جا سکے۔
دوسری جانب بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت توانائی کے نظام میں زیادہ گہرائی سے شامل ہوگی، سائبر سیکیورٹی اور نظام کے تحفظ کی اہمیت بھی بڑھتی جائے گی۔ اگر خودکار نظام پر سائبر حملے کیے جائیں یا اسے غلط معلومات فراہم کی جائیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اسی لیے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ بجلی کے نظام کے لیے ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ذہین "ڈیجیٹل دماغ" تیار کیا جائے، جو مصنوعی ذہانت کے فیصلوں کی جانچ اور تصدیق کر سکے اور نظام کو زیادہ محفوظ بنائے۔
اس کے علاوہ متعلقہ اداروں نے بجلی کی طلب و رسد سے متعلق مختلف النوع ڈیٹا کو منظم کرنے، قابلِ اعتماد ڈیٹا شیئرنگ کے نظام قائم کرنے اور کمپیوٹنگ صلاحیت و بجلی کی فراہمی کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے پر بھی زور دیا ہے، تاکہ توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایک دوسرے کی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل میں پالیسی سازی، مارکیٹ، تکنیکی معیارات، ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، بجلی، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور عملی اطلاق پر مشتمل ایک مربوط نظام تشکیل دینا ضروری ہوگا، جس سے نہ صرف بجلی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ کاربن کے اخراج کے مؤثر انتظام میں بھی مدد ملے گی۔
حقائق کے تناظر میں ،چین میں مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبے کا بڑھتا ہوا انضمام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو سبز ترقی اور جدید توانائی نظام کی بنیاد بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ توانائی کے انتظام، بجلی کی ترسیل، صنعتی کارکردگی، کاربن کے اخراج میں کمی اور سائبر تحفظ جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ صرف توانائی کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گا بلکہ اعلیٰ معیار کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور چینی طرز جدیدیت کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ |
|