پاکستان چین مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعاون کا فروغ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
پاکستان چین مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعاون کا فروغ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کے میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے تحفظ اور عوامی سلامتی جیسے اہم شعبوں میں بھی اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چین نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر عوامی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں موسمی خطرات سے بروقت آگاہی فراہم کرنے والے جدید نظام بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ سیلاب اور دیگر موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین موسمیات چین کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر الجہتی ابتدائی انتباہی نظام مازو اربن سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔
چین کے محکمہ موسمیات کی جانب سے تیار کردہ یہ نظام ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی آفات کے اثرات کم کرنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ سیلاب، طوفان، زرعی خطرات اور دیگر ہنگامی حالات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہنگامی منصوبے بھی تیار کرتا ہے۔
چین میں تیار کردہ یہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈل مقامی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث مختلف ممالک اپنے موسمی حالات اور ضروریات کے مطابق اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستان محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق یہ نظام مستقبل میں موسم کی پیش گوئی کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے مزید نظام تیار کیے جا سکتے ہیں جو شدید موسمی واقعات، سیلاب، خشک سالی اور دیگر خطرناک صورتحال کے بارے میں زیادہ بہتر انداز میں پیشگی معلومات فراہم کر سکیں۔
چین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس کا بنیادی مقصد ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے جو انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو جدید سہولیات تک رسائی فراہم کرے۔چین ہمیشہ عوام پر مبنی مصنوعی ذہانت کے تصور پر عمل پیرا رہا ہے، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک کھلی رسائی اور محفوظ استعمال کو فروغ دیا ہے اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں تعاون کیا ہے۔
چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے میدان میں کھلے تعاون، آزادانہ جدت اور سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ یہ ٹیکنالوجی بہتر انداز میں انسانی معاشرے کی خدمت کر سکے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین کے تیار کردہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈلز کو دنیا بھر میں 10 ارب سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ تعداد ہے۔ دنیا بھر کے کاروباری ادارے اور تحقیقی ٹیمیں چینی لارج اے آئی ماڈلز کو اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کر رہی ہیں، جبکہ اوسطاً ہر روز 200 سے زائد نئے ماڈلز ان سے تیار کیے جا رہے ہیں۔
چین نے ہمیشہ کھلے پن اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی حمایت کی ہے اور ایسا متنوع و کھلا اختراعی ماحول قائم کرنے کی کوشش کی ہے جو عالمی مصنوعی ذہانت کے بہتر نظم و نسق میں کردار ادا کر سکے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کا تعاون صرف موسمیاتی پیش گوئی تک محدود نہیں بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک تک بھی پھیل رہا ہے۔ افریقی ملک زمبابوے میں چینی حکومت کے تعاون سے قائم کیا گیا سپر کمپیوٹنگ مرکز ملک میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک اہم بنیاد بن چکا ہے۔
یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین مصنوعی ذہانت کو عالمی ترقی کے لیے ایک مشترکہ وسیلہ بنانے، ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے اور مختلف ممالک کو جدید سائنسی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ |
|