مصنوعی ذہانت ، مقابلے کا میدان یا عالمی تعاون کا پل
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
مصنوعی ذہانت ، مقابلے کا میدان یا عالمی تعاون کا پل تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت محض ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ معیشت، سماج، صنعت، صحت، تعلیم اور عالمی حکمرانی کے مستقبل کو تشکیل دینے والی بنیادی قوت بن چکی ہے۔ جس رفتار سے مصنوعی ذہانت ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی، ٹیکنالوجی کے فوائد سب تک کیسے پہنچیں گے اور اس کے ممکنہ خطرات سے عالمی سطح پر کس طرح نمٹا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت میں ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کے طور پر چین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف تکنیکی برتری کا معاملہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کھلے تعاون، مشترکہ ترقی اور ذمہ دارانہ حکمرانی کے اصولوں پر زور دیا ہے۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے 2026 عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور گلوبل اے آئی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں جدت کے ایک غیر معمولی فعال دور میں داخل ہو چکی ہے، جس سے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی عالمی برادری کو نئے حکمرانی کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
شی جن پھنگ نے اس موقع پر چند بنیادی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مشینیں سوچنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں تو انسان ان کے ساتھ کس طرح بہتر تعلق قائم کریں گے؟ الگورتھمز پر مبنی فیصلوں کے دور میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کا حل کس طرح تلاش کیا جائے گا؟ اور جب دنیا میں ڈیجیٹل فرق موجود ہے تو مصنوعی ذہانت کے ثمرات تمام ممالک اور عوام تک کیسے پہنچائے جائیں گے؟یہ سوالات دراصل صرف کسی ایک ملک یا خطے کے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے مشترکہ چیلنجز ہیں، جن کے لیے تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی اور عالمی گورننس کے حوالے سے چینی صدر نے چار اہم اصول پیش کیے۔ پہلا اصول کھلے پن اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون ہے۔ چین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محدود دائرے میں رکھنے کے بجائے اوپن سورس ٹیکنالوجی، تحقیق کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
دوسرا اصول مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور قابلِ کنٹرول استعمال سے متعلق ہے۔ شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ انسانی نگرانی اور کنٹرول میں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ سلامتی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی ایک ملک کے مفاد کو عالمی سلامتی پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔
تیسرا اصول شمولیت اور تہذیبی تنوع کا احترام ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی دنیا کی مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور سماجی اقدار کو کمزور کرنے کے بجائے ان کے درمیان باہمی سیکھنے اور تعاون کو فروغ دینی چاہیے۔
چوتھا اصول عالمی اتحاد اور بہتر حکمرانی ہے۔ چین نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عالمی حکمت عملی، قوانین اور تکنیکی معیارات میں مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چینی صدر نے خصوصی طور پر گلوبل ساؤتھ ممالک کی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ نقطہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت صرف جدید ٹیکنالوجی کا حصول نہیں بلکہ تعلیم، صحت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
چین پہلے ہی کئی شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حل دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ موسمیاتی پیش گوئی، قدرتی آفات سے تحفظ، سمارٹ زراعت اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ترقی پذیر ممالک کو عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
وسیع تناظر میں، مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں اصل مقابلہ صرف جدید ترین الگورتھمز یا کمپیوٹنگ طاقت کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کون سا ملک ٹیکنالوجی کو زیادہ جامع، محفوظ اور انسانی ترقی کے لیے مفید بنا سکتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت صرف چند ممالک یا بڑی کمپنیوں تک محدود رہی تو عالمی ڈیجیٹل فرق مزید بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر اسے تعاون اور اشتراک کے اصول کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔چین کی جانب سے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب عالمی سطح پر تعاون اور رابطے کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔
مستقبل میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف ممالک مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مشترکہ اصول وضع کریں، تحقیق اور تجربات کا تبادلہ بڑھائیں، ڈیٹا کے محفوظ استعمال کو یقینی بنائیں اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس میں ٹیکنالوجی انسانی فلاح، امن اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال ہو۔
مصنوعی ذہانت ایک ایسی قوت ہے جو دنیا کے ترقی کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ لیکن اس تبدیلی کا اصل معیار یہ نہیں ہوگا کہ مشینیں کتنی ذہین ہو جاتی ہیں بلکہ یہ ہوگا کہ انسان اس ذہانت کو کتنی ذمہ داری اور دانش مندی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
چین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مقابلے کا میدان بنانے کے بجائے عالمی تعاون کا پل بنانا چاہیے۔ اگر دنیا کے ممالک اس سوچ کے تحت آگے بڑھیں تو مصنوعی ذہانت نہ صرف صنعتی اور اقتصادی ترقی کو تیز کر سکتی ہے بلکہ ایک زیادہ منصفانہ، مربوط اور مشترکہ ترقی کے حامل مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔ |
|