‎آخر پاکستانی معاشرے کے کچھ مردوں کو ہو کیا گیا ہے؟

‎آخر پاکستانی معاشرے کے کچھ مردوں کو ہو کیا گیا ہے؟

‎ہر چند دن بعد ہراسگی، جنسی استحصال یا بدتمیزی کا ایک نیا واقعہ سامنے آتا ہے۔ ہم چند دن غصہ کرتے ہیں، چند پوسٹیں لکھتے ہیں، پھر سب کچھ بھول کر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

‎لیکن شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک مشکل سوال پوچھیں۔

‎آخر ہمارے معاشرے کے کچھ مردوں کو ہو کیا گیا ہے؟

‎کیا یہ تعلیم کی کمی ہے؟

‎شاید نہیں، کیونکہ ایسے بہت سے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔

‎کیا یہ مذہب کی کمی ہے؟

‎یہ جواب بھی مکمل نہیں، کیونکہ کئی لوگ مذہب اور اخلاقیات کی باتیں کرتے ہیں مگر نجی زندگی میں انہی اصولوں کو پامال کرتے ہیں۔

‎تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

‎شاید مسئلہ تربیت کا ہے۔ کردار کا ہے۔ جوابدہی کے فقدان کا ہے۔

‎آج ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ کسی بھی خاتون سے پوچھ لیجیے، یا کسی نوجوان لڑکے سے بات کر لیجیے۔ ان سے کہیے کہ اپنے انسٹاگرام، فیس بک یا اسنیپ چیٹ کے ڈی ایمز کھولیں۔ آپ کو ایسی کہانیاں ملیں گی جو شرمناک بھی ہیں اور خوفناک بھی۔

‎بغیر اجازت فحش تصاویر بھیجنا، جنسی نوعیت کے پیغامات کرنا، بار بار رابطہ کرنا، انکار کے باوجود پیچھا نہ چھوڑنا، ذاتی معلومات مانگنا، جذباتی دباؤ ڈالنا، بلیک میل کرنا—یہ سب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ اسے معمول سمجھنے لگے ہیں۔

‎اور یہ صرف خواتین کے ساتھ نہیں ہوتا۔

‎لڑکے بھی اس ہراسگی کا شکار ہوتے ہیں۔ کم عمر بچے بھی۔ شکاری ذہنیت رکھنے والے لوگ جنس نہیں دیکھتے، وہ صرف ایسا شکار تلاش کرتے ہیں جسے خاموش کرایا جا سکے۔

‎سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے افراد کو اکثر یقین ہوتا ہے کہ ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ وہ ایک اکاؤنٹ بلاک ہونے پر دوسرا بنا لیتے ہیں۔ ایک جگہ سے نکالے جائیں تو دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں متاثرہ فرد کو بولنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔

‎یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔

‎کیا ہمارے پاس ایسے مؤثر ادارے، نظام یا پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں متاثرہ افراد بلا خوف و خطر ایسے لوگوں کی نشاندہی کر سکیں؟

‎کیا ایسا کوئی محفوظ نظام ہے جہاں ہراسگی کا شکار ہونے والا شخص ثبوت جمع کرا سکے، شکایت درج کرا سکے اور اسے انصاف ملنے کی امید بھی ہو؟

‎یا پھر ہم ہر بار یہی کہیں گے کہ "نظر انداز کر دو"، "بلاک کر دو"، "خاموش رہو"، اور شکاری اگلے شکار کی تلاش میں نکل جائے گا؟

‎جب تک ہراسگی کرنے والوں کو سماجی اور قانونی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تب تک یہ رویہ ختم نہیں ہوگا۔

‎ہمیں ایسے نظام درکار ہیں جہاں متاثرہ افراد کی بات سنی جائے، ان کی شناخت محفوظ رکھی جائے، اور ثبوت کی بنیاد پر کارروائی ہو۔ ہمیں اپنے گھروں میں بھی بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ عزت صرف اپنی بہن یا بیٹی کی نہیں، ہر انسان کی ہوتی ہے۔ رضامندی، حدود اور احترام کوئی مغربی تصورات نہیں، بلکہ بنیادی انسانی اقدار ہیں۔

‎اصل بحران صرف چند بیمار ذہنوں کا نہیں، بلکہ اس خاموشی کا ہے جو انہیں طاقت دیتی ہے۔

‎اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف واقعات پر غصہ کرنے کے بجائے ان رویّوں کو بے نقاب کرنا ہوگا، متاثرہ افراد کا ساتھ دینا ہوگا، اور ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں شکاری کو خوف ہو، شکار کو نہیں۔ 
Muhammad Siddiqui
About the Author: Muhammad Siddiqui Read More Articles by Muhammad Siddiqui: 38 Articles with 25014 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.