امریکہ کے ایپسٹین نہیں، اپنے اردگرد کے "ایپسٹین" دیکھنے ہوں گے
(Muhammad Siddiqui, Hyderabad)
امریکہ کے ایپسٹین نہیں، اپنے اردگرد کے "ایپسٹین" دیکھنے ہوں گے:
دنیا آج کل جیفری ایپسٹین کی فائلوں پر بحث کر رہی ہے۔ ہر طرف نام، افواہیں، سازشی نظریات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا بازار گرم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی؟
ہمیں امریکہ کے ایپسٹین تو یاد رہتے ہیں، مگر اپنے معاشرے کے چھوٹے چھوٹے "ایپسٹین" نظر نہیں آتے۔
یہاں "ایپسٹین" سے مراد کوئی ایک شخص نہیں، بلکہ وہ ہر شکاری ذہنیت رکھنے والا فرد ہے جو طاقت، اثرورسوخ، عمر، عہدے یا اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دوسروں کا جنسی استحصال کرتا ہے، انہیں ہراساں کرتا ہے یا ان کی رضامندی کو نظرانداز کرتا ہے۔
پاکستان میں ایسے لوگ کسی دور دراز جزیرے پر نہیں رہتے۔ یہ ہمارے دفاتر میں ہیں، یونیورسٹیوں میں ہیں، سوشل میڈیا پر ہیں، مذہبی اور سماجی حلقوں میں بھی مل جاتے ہیں، اور بعض اوقات ہمارے اپنے جاننے والوں میں بھی۔
کسی بھی خاتون سے پوچھ لیجیے، اس کے ڈی ایمز میں بغیر اجازت فحش پیغامات، برہنہ تصاویر اور ہراسانی کے واقعات عام ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں۔ بے شمار لڑکے، کم عمر بچے اور نوجوان بھی ایسے شکاریوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ انہیں لالچ دیا جاتا ہے، جذباتی طور پر قابو کیا جاتا ہے، بلیک میل کیا جاتا ہے اور خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد یا لڑکے کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال پر تو بات ہی نہیں کی جاتی۔ متاثرہ شخص شرمندگی، خوف اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے خاموش رہتا ہے، جبکہ شکاری آزادی سے اپنا اگلا شکار تلاش کرتا رہتا ہے۔
یہ صرف چند بیمار افراد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ذہنیت کا مسئلہ ہے جو سمجھتی ہے کہ طاقت مل جائے تو دوسروں کی عزت، جسم اور حدود کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
ہم امریکہ کے اسکینڈلز پر غصہ کرتے ہیں، لیکن اپنے اردگرد ہونے والی ہراسانی، استحصال اور بدسلوکی پر خاموش رہتے ہیں۔ اگر مجرم ہمارا دوست، رشتہ دار، استاد، ساتھی یا پسندیدہ شخصیت ہو تو ہم اس کے لیے بہانے تراشنے لگتے ہیں۔
ایپسٹین صرف ایک نام نہیں، ایک علامت ہے۔ اس ذہنیت کی علامت جو دوسروں کو انسان نہیں بلکہ شکار سمجھتی ہے۔
اگر واقعی ہمیں انصاف، اخلاقیات اور انسانی وقار کی فکر ہے تو ہمیں صرف امریکہ کی فائلوں پر شور مچانے کے بجائے اپنے معاشرے کے ان شکاریوں کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا جو ہر روز خواتین، لڑکیوں، لڑکوں اور بچوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔
دوسروں کے ایپسٹین گنوانا آسان ہے، اپنے درمیان موجود ایپسٹین کو پہچاننا مشکل۔ لیکن تبدیلی کا آغاز وہیں سے ہوگا۔ |
|