آن لائن فراڈ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
آن لائن فراڈ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں دنیا کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہیں آن لائن جرائم اور ٹیلی کام فراڈ جیسے مسائل بھی عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں بیٹھے جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سرحدوں سے ماورا مالی دھوکہ دہی کی کارروائیاں انجام دیتے ہیں، جس کے باعث کسی ایک ملک کے لیے ان جرائم پر قابو پانا آسان نہیں رہا۔ اسی لیے عالمی سطح پر مشترکہ تعاون اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
اسی تناظر میں چین نے ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی باضابطہ تشکیل آئندہ سال منعقد ہونے والے گلوبل پبلک سکیورٹی کوآپریشن فورم کے دوران متوقع ہے۔
یہ اتحاد مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وسیع شمولیت پر مشتمل ایک بین الحکومتی پلیٹ فارم ہوگا، جس کا مقصد سرحد پار ہونے والے ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے خلاف مشترکہ اور مؤثر کارروائیوں کو فروغ دینا ہے۔
اب تک 40 سے زائد ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ چین نے تمام ممالک کو اس اقدام میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ معلومات کے تبادلے، مشترکہ کارروائیوں اور مربوط حفاظتی اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر آن لائن فراڈ کے خلاف زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جو نہ صرف عوام کے مالی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ مختلف ممالک کے سماجی نظم و نسق اور سائبر سکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔اسی لیے چین نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایسے جرائم کے خلاف کارروائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ متعلقہ اداروں کے مطابق اس وقت ایسے فراڈ نیٹ ورکس کی بڑی تعداد سرحد پار کام کرتی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔بین الاقوامی تعاون کے نظام اور نئے مجوزہ اتحاد کے ذریعے مشترکہ کارروائیوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے جا سکیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران چین نے مختلف ممالک کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں سرحد پار ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔بعض مشترکہ کارروائیوں میں بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا، جبکہ مختلف ممالک کے درمیان پہلی مرتبہ مشترکہ قانون نافذ کرنے کی کارروائیاں بھی عمل میں آئیں، جن کے نتیجے میں سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اسی طرح مختلف ممالک کے ساتھ جاری تعاون کے نتیجے میں رواں سال 20 ہزار سے زائد ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا جو ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ میں ملوث تھے۔
ماہرین کے مطابق آن لائن فراڈ کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جعلی ویب سائٹس، فرضی سرمایہ کاری، جعلی کال سینٹرز اور سوشل میڈیا کے ذریعے مالی دھوکہ دہی جیسے نئے طریقے دنیا بھر میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف قومی سطح کے اقدامات کافی نہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان فوری معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقات اور مربوط قانونی کارروائیوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
چین کی جانب سے مجوزہ بین الاقوامی اتحاد اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا، جدید جرائم سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے میں مشترکہ کردار ادا کرنا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کے تیزی سے فروغ کے اس دور میں سائبر جرائم کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ عالمی چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اسی لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ ہی ایسے جرائم کے تدارک اور عوام کے اعتماد کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ |
|