حضرت تقی عثمانی اور عربی زبان
(Dr wali khan muzaffar, Karachi)
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی عربی کے احیاء کی ایک عالمی صدا
جامعہ دارالعلوم کراچی میں عربی زبان کے حوالے سے ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جسے محض ایک تعلیمی تقرری یا کسی ایک ادارے کی داخلی سرگرمی سمجھنا اس کی اصل معنویت کو محدود کردینا ہوگا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی نے ڈاکٹر خالد اور ڈاکٹر سیف الدین کو، جو دراساتِ لغویہ عربیہ کے ماہر اور اس میدان میں تخصص و ڈاکٹریٹ کی علمی قابلیت رکھتے ہیں، عربی دنیا سے خصوصی طور پر طلب کرکے دارالعلوم کی تعلیمی خدمت پر مامور کیا ہے۔ یہ یقیناً ایک قابلِ تحسین اور امید افزا قدم ہے۔
اس اقدام کے پسِ پشت جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر، عالمِ اسلام کی معروف علمی شخصیت، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی عربی زبان سے دیرینہ محبت، علمی بصیرت اور مستقبل بین نگاہ کارفرما ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: جب دارالعلوم کراچی کے لیے عربی کے ماہرین باہر سے بلانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے تو کیا یہی ضرورت پاکستان اور عالمِ اسلام کے دوسرے مدارس کے لیے بھی نہیں ہے؟ میری یہ گزارش کسی اعتراض کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک طالب علم، ایک ادنیٰ شاگرد اور حضرت شیخ الاسلام کی خدمت سے وابستہ ایک شخص کی حیثیت سے ایک عاجزانہ، مخلصانہ اور طالب علمانہ درخواست ہے۔ دارالعلوم کراچی سے وفاق المدارس تک حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف جامعہ دارالعلوم کراچی کے سربراہ نہیں، بلکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر بھی ہیں۔ لہٰذا دارالعلوم کراچی میں عربی کے سلسلے میں اٹھایا جانے والا یہ قدم اپنی نوعیت میں صرف دارالعلوم کراچی کا قدم نہیں رہتا؛ اس کے اندر پورے پاکستان کے دینی مدارس کے لیے ایک مثالی نمونہ بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے وابستہ ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان سب کا بنیادی علمی سرمایہ قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر اور اسلامی علوم سے وابستہ ہے، اور ان علوم کا اصل سرچشمہ عربی زبان ہے۔ ہم عربی کو صرف ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھاتے رہیں اور پھر یہ توقع کریں کہ ہمارے فضلاء عربی کے حقیقی اہلِ علم بن جائیں گے، تو یہ کافی نہیں۔ عربی کو زندہ زبان بنانا ہوگا۔ طالب علم عربی سنے، عربی بولے، عربی میں سوال کرے، عربی میں جواب دے، عربی میں تقریر کرے، عربی میں مضمون لکھے، عربی کتاب براہِ راست پڑھے اور عربی اہلِ علم سے بلاواسطہ علمی استفادہ کرے۔ اسی مقصد کے لیے ڈاکٹر خالد اور ڈاکٹر سیف الدین جیسے متخصصینِ دراساتِ لغویہ عربیہ کی خدمات کا حصول ایک نہایت قابلِ قدر قدم ہے۔ ہم دیدہ ودل فرش راہ کئے ہوئے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں،اور اپنے شیخ واستاذ حضرت صدر وفاق دامت برکاتھم تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ لیکن یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں یہاں ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی علمی حیثیت صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے دینی مدارس، جامعات اور علمی حلقے حضرت سے استفادہ کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مدارس ہوں، ملیشیا کے دینی ادارے ہوں، مصر وخلیجی ممالک کے علمی مراکز ہوں، ترکیہ کے مدارس ہوں، انڈونیشیا کے دینی حلقے ہوں یا جنوبی افریقہ کے مسلمان اور مدارس—حضرت کی علمی شخصیت ان سب کے لیے قابلِ احترام اور مرجعِ استفادہ ہے۔وہ صحیح معنوں میں عرب وعجم کے شیخ ہیں۔ حضرت حالیہ عرصے میں جنوبی افریقہ، فیجی آئی لینڈ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے دورے بھی کرچکے ہیں۔ ہندوستان کے دیوبندی اور دیگر دینی مدارس کے علماء، افغانستان کے مدارس اور علماء، ایران کے علمی حلقے اور برصغیر کے بے شمار دینی مراکز بھی حضرت کی علمی شخصیت کو غیر معمولی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ حضرت کی ذمہ داری اور اثر صرف پاکستان کے دائرے تک محدود نہیں۔ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صرف پاکستان کے شیخ الاسلام نہیں؛ عالمِ اسلام کے ایک بڑے علمی مرجع اور امت کے ایک عالمی شیخ الاسلام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے دارالعلوم کراچی میں عربی کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم بھی ایک عالمی ماڈل بن سکتا ہے۔ کیوں نہ ایک عالمی عربی کانفرنس ہو؟ میری حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم سے ایک طالب علمانہ گزارش ہے کہ اس موقع کو ایک بڑے علمی منصوبے میں تبدیل کیا جائے۔ کیوں نہ کراچی یا اسلام آباد میں ایک عظیم الشان عالمی کانفرنس برائے عربی زبان و تعلیمِ دینی منعقد کی جائے؟ دنیا کے مختلف ممالک کے مدارس اور دینی جامعات کے سربراہان، عربی زبان کے ماہرین، جامعہ ازہر کے اساتذہ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے متخصصین، عرب دنیا کی دیگر جامعات کے اساتذہ اور مختلف ممالک کے دینی تعلیمی اداروں کے نمائندگان کو دعوت دی جائے۔رابطہ جامعات اسلامیہ، رابطہ عالم اسلامی سے معاونت لی جائے۔ اس کانفرنس میں صرف تقریریں نہ ہوں؛ بلکہ ایک عملی عالمی منصوبہ تشکیل دیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف ممالک کے مدارس میں عربی زبان کے ماہر اساتذہ بھیجے جائیں۔ جہاں ضرورت ہو، وہاں ایک یا دو ماہرینِ عربی مستقل یا طویل المدت بنیادوں پر تعینات کیے جائیں۔ جامعہ ازہر، مدینہ یونیورسٹی اور دیگر عرب جامعات سے اہل اور تربیت یافتہ اساتذہ و مبعوثین حاصل کیے جائیں۔ یہ کام اگر ایک منظم منصوبے کے تحت شروع ہوجائے تو چند سالوں میں عالمِ اسلام کے ہزاروں مدارس میں عربی کا ایک نیا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔ وفاق المدارس میں ’’مدیر الشؤون العربیہ‘‘ کیوں نہ ہو؟ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم اور قابلِ تقلید مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ مفتی عبدالرحیم صاحب نے اپنے بورڈ کے نظام میں عربی امور کے لیے ایک مستقل عہدہ قائم کیا ہے، جسے ناظم امورِ عربیہ / مدیر الشؤون العربیہ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ ایک نہایت اہم ادارہ جاتی پیش رفت ہے۔ اگر مجمع جیسا نوخیز ایک تعلیمی بورڈ اپنے نظام میں عربی کے لیے مستقل ذمہ دار مقرر کرسکتا ہے تو وفاق المدارس العربیہ پاکستان میں بھی عربی کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم ہونا چاہیے۔بلکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ میں بھی۔ مثلاً: مدیر الشؤون العربیہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اس کے تحت عربی نصاب، عربی تدریس، عربی اساتذہ، عربی ماحول، عرب دنیا کی جامعات سے روابط، اساتذہ کی تربیت، عربی بول چال کے پروگرام، عربی تحقیق اور عالمی سطح پر عربی کے تعلیمی منصوبوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ اور یہی نظام دیگر دینی مدارس کی تنظیمات میں بھی قائم ہونا چاہیے۔
عالمی جامعات کے سربراہان کی کانفرنس—ایک خوب صورت مثال: اسی سلسلے میں مفتی عبدالرحیم صاحب کی ایک اور قابلِ ذکر کاوش سامنے آرہی ہے۔
11 اور 12 اکتوبر کو عالمی سطح پر ’’المؤتمر العالمي لرؤساء الجامعات‘‘، یعنی International Conference for Chancellors of Universities، منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ہمارے دینی اور تعلیمی ادارے اگر عالمی سطح پر سوچیں تو عالمی علمی روابط کے لیے بڑے پلیٹ فارم قائم کیے جاسکتے ہیں۔ تو پھر وفاق المدارس العربیہ پاکستان بھی کیوں نہ اپنی سطح پر عالمی کانفرنس برائے عربی زبان منعقد کرے؟ کیوں نہ عالمِ اسلام کے مختلف مدارس اور دینی جامعات کے سربراہان کو ایک جگہ جمع کیا جائے؟ کیوں نہ یہ طے کیا جائے کہ آنے والی نسل کے علماء کو عربی زبان میں عالمی سطح کا اہلِ علم کیسے بنایا جائے؟ یہ وقت عربی کے لیے بڑا فیصلہ کرنے کا ہے آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اسلامی دنیا کے درمیان فاصلے کم ہورہے ہیں۔ علمی روابط بڑھ رہے ہیں۔ عرب دنیا کی جامعات، تحقیقی مراکز اور علمی ادارے عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر پاکستان اور عالمِ اسلام کے مدارس کے علماء عربی زبان میں مضبوط ہوجائیں تو ان کے لیے علم کے بے شمار دروازے کھل سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے علماء چاہئیں جو صرف عربی کتاب کا ترجمہ نہ کرسکیں، بلکہ عربی میں براہِ راست علم حاصل کرسکیں، عربی میں تحقیق کرسکیں، عربی میں لکھ سکیں، عربی میں تقریر کرسکیں اور عربی دنیا کے اہلِ علم سے براہِ راست علمی مکالمہ کرسکیں۔ یہ کام کسی ایک مدرسے کا کام نہیں۔ یہ کسی ایک ملک کا کام بھی نہیں۔ یہ عالمِ اسلام کا مشترکہ علمی منصوبہ ہونا چاہیے۔ ایک شاگرد کی اپنے شیخ سے درخواست میں اپنے سب سے بڑے استاد، اپنے شیخ الاساتذہ، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی خدمت میں، پورے ادب، محبت اور عقیدت کے ساتھ ایک عاجزانہ طالب علمانہ درخواست پیش کرنا چاہتا ہوں: حضرت! دارالعلوم کراچی کے لیے جو قدم آپ نے اٹھایا ہے، اسے پورے وفاق المدارس تک لے جائیے۔ وفاق المدارس سے آگے اسے عالمِ اسلام تک لے جائیے۔ پاکستان کے ہزاروں مدارس، بنگلہ دیش کے مدارس، ہندوستان کے مدارس، افغانستان، ایران، ترکیہ، ملیشیا، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور دنیا کے دیگر دینی اداروں کو ایک عالمی عربی منصوبے کے تحت جمع کیجیے۔ ایک عالمی کانفرنس بلائیے۔ عالمِ اسلام کے مدارس کے سربراہان کو جمع کیجیے۔ جامعہ ازہر، مدینہ منورہ، اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور عرب دنیا کی دیگر جامعات سے متخصصینِ عربیہ بلائیے۔ ہر بڑے مدرسے میں ایک، دو یا حسبِ ضرورت ماہر اساتذہِ عربی مقرر کرنے کا منصوبہ بنائیے۔ وفاق المدارس میں مدیر الشؤون العربیہ کا مستقل شعبہ قائم کیجیے۔ اور پھر ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیجیے جس سے آنے والی نسل کے علماء صرف اپنے ملک کے نہیں بلکہ پوری امت کے علمی ترجمان بن سکیں۔ دارالعلوم کراچی میں ڈاکٹر خالد اور ڈاکٹر سیف الدین کی آمد شاید ایک چھوٹا سا قدم دکھائی دیتی ہو، لیکن بڑے خواب اکثر چھوٹے قدموں ہی سے شروع ہوتے ہیں۔ آج دارالعلوم کراچی ہے؛ کل پاکستان کے ہزاروں مدارس ہوسکتے ہیں؛ اور پرسوں پورا عالمِ اسلام۔ یہ صرف عربی زبان کا احیاء نہیں ہوگا؛ یہ قرآن کی زبان کے ساتھ امت کے علمی رشتے کی تجدید ہوگی۔ اور شاید آنے والے وقت میں تاریخ یہ لکھے کہ کراچی سے عربی کے احیاء کی ایک ایسی عالمی تحریک اٹھی جس نے مدارس کی پوری دنیا کو نئی لسانی اور علمی زندگی عطا کردی۔ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کو صحت، عافیت، قوت اور اخلاص کے ساتھ اس عظیم علمی خدمت کے لیے مزید مواقع عطا فرمائے، اور ان کے ذریعے پوری امت کو بالخصوص لغة القرآن ولغة الحبيب المصطفى صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم کے حوالے سے ایسا علمی سرمایہ عطا فرمائے جو آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔ أبو لبيد Dr Wali Khan Muzaffar |