پروفیسر مظہر حسین ہاشمی
(Mazhar Hussain Hashmi, Islamabad)
حسین مولا ؑ 626ء سے 680ء تک اپنے کریم اورشفیق ناناکی حدیث حُسینُ مِنی (حسین ؑمجھ سے ہے )کاعملی نمونہ بن کررہے اور680ء کے بعد وَاَنَامِنَ الحُسَین(اورمَیں حسین ؑسے ہوں)کی عملی تفسیر بن گئے۔امام ِوقت نے اسلام اورانسانیت کواپنے،نوجوانانِ بنوہاشم اوراصحاب باوفاکے مقدس خون سے ایسا آبِ حیات پلادیاکہ ہر باشعوراورغیرت مردمسلمان اورانسان تاقیامت امام حسین ؑکامشکوراورمقروض ہوگیااورکائنات کے مظلوم،کمزوراورمستضعف انسان کو حریت اورآزادی کاایساانقلابی درس دے گئے کہ وہ اپنی ناتوانی اورکمزوری کوایک طرف رکھ کروقت کے یزید،اِبن ِزیاد،شمراورمروان سے بے خوف و خطرٹکرارہے ہیں اورٹکراتے رہیں گے۔
بِنائے لاالہ است حسین ؑ پروفیسرمظہرحسین ہاشمی
اِسلام کی تاریخ کابغورمطالعہ کیاجائے تو اِسلام کابچپن جناب ِابوطالب ؑ کی گودمیں بہلتانظرآئے گا، اِسلام کی جوانی رحمتہ اللعالمینؐ کے دامن کی چھائوں تلے آرام کرتی نظرآئے گی اوراِسلام کابڑھاپامولاعلی ؑکے طاقتوربازوئوں کے آنگن میں سانس لیتانظرآئے گا۔لیکن ایک وقت ایسابھی آیاکہ اِسلام کوخودکوبچانے کیلئے حسین ؑجیسے لجپال کاسہارااورپناہ لیناپڑی۔ حسین مولاکی زندگی پرطائرانہ نظرڈالیں تومعلوم ہوتاہے کہ آپ 8جنوری626ء بدھ کی صبح ،خاتون ِجنت فاطمہ زہراؑ کی آغوش طاہرہ میں تشریف لائے۔ نانارسول ؐکی زُبان ِمبارک چوس چوس کرعلم لدّنی کے وار ث بنتے رہے۔باباعلی ؑکی گودمیںبیٹھ کردرس ِتوحید لیتے رہے۔حبش کی شہزادی اماں فضہ ؓکے ہاتھوں جھولا جھولتے ہوئے لوری کی شکل میں ناطق قران ہوکرصامت قران کی تلاوت سنتے رہے۔627ء میں جنگ ِخندق میںنانارسول ؐ کونہ صرف یہ کہتے سنا کہ "قَد بَرَزَالِایمَان کلِّہ اِلَی الکُفرِکُلِّہ " (باتحقیق کل ِایمان، کل ِکفرکے مقابلے میں جارہاہے )بلکہ باباعلی ؑ کے ہاتھوں عمروابن ِعبدودکی گردن ہوامیں بھی اُڑتے ہوئے دیکھی ۔628ء میںجنگ خیبرمیں ایک ہزارآدمیوں سے اکیلے لڑنے والے اور39دن تک مسلمانوں کوڈراکرماربھگانے والے پہلوان مرحب وعنترکواپنے باباکی ذوالفقارسے دوٹکڑے ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ 630 ء میں فتح مکہ کے دن اسلام کے ازلی دشمنوں کونانارسول ؐاورباباعلی ؑکے سامنے سرجھکائے کھڑادیکھا۔ اورجب چلناشروع کیا تو631ء میںنجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے اور نانارسول ؐکی صداقت ورسالت کی گواہی دینے کیلئے اپنی طاہرہ ماں،ابوتراب بابا اور عظیم بھائی امام حسن ؑکے ساتھ خودچل کرگئے۔کبھی اللہ کے صادق رسول ؐکی زُبان ِمبارک سے حُسَیْنُ مِنّی وَاَنَامِنَ الْحُسَیْن (حسین مجھ سے ہے اورمَیں حسین سے ہوں)جیسی فضیلت سنی،توکبھی اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْن سَیَّدہ شَبَابِِ اَہْلَ الْجَنّہ (حسن اورحسین جوانان جنت کے سردارہیں)کی بشارت سنی۔کبھی جبریل ِامین ؑکوفطرس کے ساتھ اُس کاسفارشی بن کرآتے ہوئے دیکھاتوکبھی درزی بن کرجنت سے عیدکے کپڑے لے کرآتے ہوئے دیکھا۔ 632ء میں پنجتن پاک کے پانچویں بن کرزیر ِ کساء آیہ تطہیرکے مصداق بنے۔چندماہ بعدمیدان ِخم ِغدیرپرسوالاکھ کے حاجیوں کے مجمع میں اپنے باباعلی ؑکابازو نانارسولؐ کے ہاتھ میں نہ صرف بلندہوتے ہوئے دیکھا بلکہ مَنْ کُنْتُ مَولَاہُ فَھَذَاعَلی مَولَاہ (جس کامَیں مولاہوں اُس کاعلی مولاہے)کا اعلان بھی سنااوربَخِن بَخِن (مبارک مبارک )کی آوازیں بھی بلندہوتے ہوئے سنیں۔پھردوماہ بعد25مئی 632ء کواپنے شفیق ناناکی رحلت کاکبھی نہ بھلاسکنے والاغم بھی روتی آنکھوں سے دیکھا۔وہ کریم ناناجواپنی واللیل زلفیںننھے ہاتھوں میں پکڑاکرسواری بن جاتے تھے، وہ شفیق ناناجوحسین ؑکوگرتادیکھ کرمسجدنبوی کے منبرپرخطبہ دینابھول جاتے تھے،وہ نمازی ناناجونمازکے سجدہ میں 70دفعہ سُبْحَانَ رَبّ الْاَعْلیٰ پڑھناتوگواراکرلیتے تھے لیکن حسین ؑکواپنی پشت سے اُٹھاناپسندنہیںکرتے تھے۔آپ نے اپنے بچپنے کے سات سال اپنے کریم ناناکی شفقت ومحبت کے سائے میں گزارے۔وہ رحمتہ اللعالمین نانااب آپ کواپنی اُمت کے رحم وکرم پرچھوڑکرداغ مفارقت دے گئے۔ابھی ناناکوگئے عرصہ ہی کیاگزرا تھاکہ معصوم روتی آنکھوں سے اُس دروازے کونہ صرف آگ لگتے دیکھابلکہ اُس دروازے کواپنی ماںزہراؑکے پہلوپہ گرتے اور چھوٹے بھائی محسن کوماں کے پیٹ میں شہیدہوتے بھی دیکھا ۔ جس دروازے پرنانارسول ؐرُک کرآیہ تطہیر پڑھا کرتے تھے ،جس پر سردارِملائکہ جبرائیل ؑاورملک الموت عزرائیل ؑبھی اجازت لے کرآتے تھے ،اُس عظیم اورمقدس گھرپرنہ صرف یلغارکی گئی بلکہ اپنے مولائے کائنات بابااورسیدۃالنساء العالمین ماں پرظلم وناانصافی کے بادل برستے ہوئے بھی دیکھے۔ بقول شبنم شکیل ؔ جس کی خاطر سے بنائی گئی دُنیاساری اہلِ دُنیاسے وہی گھر ،نہیں دیکھاجاتا
حسین ؑمولاکوبچپن میں ہی سمجھ آگئی کہ سقیفہ میں کربلاکی پہلی اینٹ رکھ دی گئی ہے۔ابھی یہ غم تازہ تھاکہ سات سال کی عمرمیں26اگست 632ء کوسب سے محبوب ہستی اورپناہ گاہ ،اماں فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاکی جدائی کاسامناکرناپڑا۔حسین مولاؑکے کانوں میں اپنی ماں کے وہ الفاظ گونج رہے تھے کہ ثُبّتْ عَلَیّ مَصَائِب لَوْاَنّہَاثُبّتْ عَلَی الْاَیّامِ صِرنا لیا لیا ...... ... . (جتنی مصیبتیں مجھ پر آئیں اگریہ روشن دنوں پرآتیں تووہ تاریک راتوں میں تبدیل ہوجاتے)۔اب نانا بھی نہ تھے کہ اُمتی ظاہراً لحاظ کرتے اورنہ ماںجیسی شفیق ممتا کہ پریشانی میں7سالہ معصوم حسین ؑکودلاسااورتسلی دیتی۔اور باباعلی ؑ ؑنے تورسول ِپاک ؐکی وصیت پرعمل کرتے ہوئے صبراورخاموشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیاتھا۔632ء سے لے کر656ء تک یعنی 25سال تک اپنے باباعلی ؑکے ساتھ خانہ نشین ہوکرزمانے کی سنگدلی کاجائزہ لیتے رہے۔لیکن جب اورجہاں اسلام کوضرورت پڑی،اپنے باباعلی ؑاوربھائی امام حسن ؑکے ساتھ مل کراسلام اورمسلمانوں کی ہرممکن مددکرتے رہے۔اِس گوشہ نشینی اورتنہائی کے دَور میں،گھرمیںقران کی جمع آوری کامنظربھی دیکھااورگھرسے باہرچاہنے والوں پرمصائب کی یورش کوبھی دیکھا۔جواعلان نانارسول ؐنے باباعلی ؑکی خلافت کا 16مارچ 632ء کومیدان ِخم میں کیاتھااُسے 25سال بعد17جون 656ء میںباباعلی ؑکے ہاتھ پربیعت کرنے والوں کے ہجوم کی شکل میں پوراہوتے ہوئے بھی دیکھا۔آپ ؑکے بابانے ظاہری خلافت کومسلمانوں کی بھلائی اوراِنصاف قائم کرنے کی خاطر قبول توکرلیالیکن بہت سوں نے اِس خلافت ِراشدہ کوتسلیم نہ کیا۔مختلف حیلے بہانوں سے برپاہونے اورایک سال تک جاری رہنے والی جنگ جمل کونومبر 656ء سے نومبر 657ء تک میدان جنگ میں رہ کرفتح ہوتے دیکھا۔ابھی جنگ جمل کی دُھول نہیں بیٹھی تھی کہ مارچ657ء میں آپ ؑکواپنے بھائیوں سمیت ابویزیدحاکم شام کی بغاوت کچلنے کیلئے باباعلی ؑکی کمان میںصفین آناپڑا۔اِس جنگ میںآپ ؑنے اپنے 12سالہ چھوٹے بھائی عباس علمدارؑکے ساتھ شامی باغیوں سے پانی کے گھاٹ پرقبضہ چھڑاکے سب کیلئے پانی بھرنے کااعلان کیا۔110روزتک جاری رہنے والی اِس جنگ میں لشکرشام کوچال بازی اورمکاری سے اپنی جان بچانے کیلئے قران مجیدکونیزوں پر اٹھائے اورحکمین مقررکرتے ہوئے دیکھا ۔حکمین کے مہمل،لغواورمکارانہ فیصلے کوجب مستردکیاگیاتوپھرخارجیوں کے 18ہزارافرادکوراہ راست پر لانے کیلئے مارچ 658ء میںآپ کوباباعلی کی قیادت میں نہروان بھی جاناپڑا۔جس میں باباعلی ؑکے سمجھانے پر6ہزارخارجی گھروں کولوٹ گئے لیکن 12 ہزارخارجیوںسے جنگ ہوئی اورصرف9آدمی زندہ بچے اورمولاؑکی فوج میںسے صرف9آدمی شہیدہوئے ۔کچھ عرصہ بعداپنے باباعلی ؑکے سپہ سالارمالک ِاشترکوزہرملے دودھ دئیے جانے اور 27سالہ محمدابن ابوبکر کی حاکم شام کے سفاکانہ حکم کی بنیادپر گدھے کی کھال میں زندہ جلائے جانے کی اندوہ ناک خبریںبھی سنیں۔پھر28جنوری661ء کو نمازصبح کے سجدے میں اپنے باباعلی ؑ کوعبدالرحمن ابن ملجم کی زہرآلودتلوارسے زخمی ہوتیدیکھااورہاتف غیبی کی یہ اندوہناک ندابھی سنی قَدْقُتِلَ اَمِیرَ الْمُومِنِین ۔۔ ۔ ۔ امیرالمومنین قتل کردئیے گئے ، ارکان ِہدایت گرادئیے گئے۔پھر ستمبر661ء میں وقت کے امام اور بڑے بھائی امام حسن ؑ کواسلام کی سربلندی اوراپنوں کی بیوفائی کی وجہ سے خلافت سے دستبردارہوتے ہوئے دیکھااور سب وشتم کی جوقبیح اورمسموم رَسم حاکم شام نے باباعلی ؑپر ملک شام سے شروع کی تھی،اُس مکروہ رسم کو 72ہزارمنبروں تک پھیلتے ہوئے بھی دیکھا۔اور ایک دن ایسابھی آیاکہ آپ کو بچپن کے ساتھی اورغمخواربھائی امام حسن ؑکواُموی چال سے اُن ہی کی بیوی جعدہ کے ہاتھوں27مارچ 670ء کو نہ صرف مسموم دیکھناپڑابلکہ کریم ناناکے ساتھ دفن کرنے کی وصیت کے بدلے میں جسدمبارک سے 70تیربھی نکالنے پڑے۔ابایزیدسے دس سال تک توبھائی امام حسن ؑکی امامت میں صلح نامے کاپاس رکھااوربھائی امام حسن ؑکی شہادت کے بعد مزید دس سال یعنی 28اپریل 680ء تک ابایزیدکی موت ہونے پراُس عہدپرکاربندرہے۔ لیکن حالات نے یکدم پلٹاکھایااورامام ؑنے دیکھاکہ 632ء میں نانارسول ؐکی رحلت کے بعدباباعلی ؑسے جوبیعت کامطالبہ کیاگیاتھاوہی مطالبہ آج پھر680ء میں ہورہاتھا۔حسین مولاؑنے طے کرلیاتھاکہ جب مَیںنے پہلے اپنے بزرگوں کی روش سے علیحدگی اختیارنہیں کی توآج علیحدگی کاکیاسوال پیداہوتاہے۔مجھے توآج یہ ثابت کرناہے کہ مَیں امام بھائی کی صلح کے احترام میں خاموش تھاورنہ مجھ حسین ؑمیں ناناکاعزم،داداکاحوصلہ ،ہاشم کاخون اورعبدالمطلب کاجوش سلامت ہے۔
صبرزہراؑکاتقاضاتھاجواَب تک تھاخاموش ورنہ پہلو میں دل ِحیدرکرار ؑبھی ہے
حاکم شام کاشرابی اورفاسدبیٹایزیدجب خلافت جیسے مقدس منبرپرمتمکن ہواتو3مئی 680ء کواپنے والدکی وصیت کی روشنی میںمدینہ کے گورنرولیدبن عتبہ کے ذریعہ امام حسین ؑسے بیعت طلب کی۔امام حسین ؑ نے مروان کے سامنے کہہ دیا"مِثلِی لَایُبَایِعُ مِثلَ یَزِید "( مجھ جیسایزیدجیسے کی بیعت نہیں کرسکتا)۔آپ ؑنے اُسی روز اپنے ناناؐاوراماں زہراؑکے مزارات ِمقدسہ سے مدینہ چھوڑنے کی اجازت طلب کی ۔ جوانانِ بنی ہاشم اورمخدرات ِعصمت وطہارت کے ہمراہ 4مئی 680ء کومدینہ سے مکہ کی طرف عازم ِسفر ہوئے۔ 435 کلومیڑکافاصلہ طے کرکے چھٹے دن یعنی 9مئی کومکہ کی پرامن سرزمین پر پہنچے۔عراق کے شہرکوفہ کی طرف سے ہزاروں کی تعدادمیں حسین مولاؑکوعراق بلانے کیلئے خط موصول ہونے شروع ہوگئے۔(یادرہے کہ 20سال پہلے مولاعلی ؑکی خلافت کادارلخلافت کوفہ رہاتھا)۔آپ ؑنے حالات کاجائزہ لینے کیلئے اپنے چچازادبھائی مسلم بن عقیل ؑکو19جولائی 680ء کوکوفہ بھیجا۔حسین مولاؑکوعراق میں حالات اچھے ہیں کی خبردی گئی۔پھرستمبرمیں حج کاموسم آگیا۔آپ ؑنے حج کی نیت کی اوردورانِ حج آپ ؑکومعلوم ہواکہ 30یزیدی گماشتے حاجیوں کے لباس میں عمربن سعدکی امارت میں آپ ؑکوقتل کرنے کے ارادے سے مکہ آچکے ہیں ۔آپ ؑنے حج کے احرام توڑدئیے تاکہ حرمت کعبہ پامال نہ ہو،لاکھوں کے مجمع میں اُموی چال کامیاب نہ ہوسکے اورقاتل زیرنقاب نہ چلے جائیں۔ آپ ؑ 9ستمبر680ء کوعراق کی طرف راہی سفر ہوئے۔آپ ؑکوپانچویں منزل زابلہ پر10ستمبرکومسلم بن عقیل ؑکی شہادت کی خبرسنی کیونکہ کوفہ میں مسلمان توبہت تھے لیکن مسلم ایک تھا۔آپ بہت رنجیدہ ہوئے لیکن بحکم خدا اپناسفر جاری رکھا۔نویں منزل ذوحسم پریزیدکے ایک ہزارفوجیوں نے حربن یزید ریاحی کی قیادت میں آپ ؑ کاراستہ روکا۔لیکن آپ ؑچلتے رہے اور2 اکتوبرکوچودہویں منزل کرب وبلاپہنچے۔آپ ؑنے وہیں پرخیمے لگانے کاحکم دیا ۔شامی اورکوفی فوجوں کی آمدشروع ہوئی۔عمربن سعدآئے،شمربن ذی ا لجوشن پہنچے ۔ 7اکتوبرکوپانی بندکردیاگیااور9 اکتوبرکوکم سے کم 30ہزارفوجِ یزیدوابن ِزیادنے جنگ کاطبل بجادیا۔حسین مولاؑنے اپنے اورجانثاران کیلئے عبادت ِخدا کی خاطر ایک دن کی مہلت لے کر یزیدی فوج کوایک دن مزیدسوچ لینے کی مہلت دی کہ اب بھی جہنم کاایندھن بننے سے بچ سکتے ہوتوبچ جائوکیونکہ جوانانِ جنت کے دو سرداروں میںسے ایک سردارمَیں خودہوں۔لیکن عقل کے اندھوں اورناعاقبت اندیشوں پراِس نصیحت کاکوئی اثرنہ ہوا سوائے حربن یزیدریاحی اوراُس کے گھروالوں کے جومعافی کے بعد جنت کے حقدارٹھہرے۔ 10 اکتوبر کو مختلف مراحل میں جنگ ہوتی رہی ، کچھ اصحابؓ صبح کی نمازکے وقت،کچھ ظہرکی نمازاورباقی اصحاب ؓا وربنوہاشم ؑایک ایک کرکے دادِشجاعت دیتے ہوئے اِسلام پر قربان ہوتے رہے۔ آخرمیں6ماہ کے علی اصغر ؑکوباباکے ہاتھوں پرحرملہ کاتیرسیراب کرگیا۔خیام میں آخری سلام کرکے آپ ؑ میدان ِجنگ میں آئے، حملے پہ حملہ کیا۔تھوڑی دیرمیں زمین ِکربلامیں بھونچال آیااورآوازبلندہوئی اَلَاقُتِلَ الحُسَینِ بِکَربَلا،اَلَاذبح الحُسَین بِکربلا۔۔۔حسین ؑکربلامیں قتل ہوگئے،حسین ؑ ؑکربلامیں ذبح ہوگئے۔۔۔۔۔ حسین مولا ؑ 626ء سے 680ء تک اپنے کریم اورشفیق ناناکی حدیث حُسینُ مِنی (حسین ؑمجھ سے ہے )کاعملی نمونہ بن کررہے اور680ء کے بعد وَاَنَامِنَ الحُسَین(اورمَیں حسین ؑسے ہوں)کی عملی تفسیر بن گئے۔امام ِوقت نے اسلام اورانسانیت کواپنے،نوجوانانِ بنوہاشم اوراصحاب باوفاکے مقدس خون سے ایسا آبِ حیات پلادیاکہ ہر باشعوراورغیرت مردمسلمان اورانسان تاقیامت امام حسین ؑکامشکوراورمقروض ہوگیااورکائنات کے مظلوم،کمزوراورمستضعف انسان کو حریت اورآزادی کاایساانقلابی درس دے گئے کہ وہ اپنی ناتوانی اورکمزوری کوایک طرف رکھ کروقت کے یزید،اِبن ِزیاد،شمراورمروان سے بے خوف و خطرٹکرارہے ہیں اورٹکراتے رہیں گے۔ حسین تم نہیں رہے تمہاراگھر نہیں رہا مگرتمہارے بعدظالموں کا ڈرنہیں رہا
|
|