شیخ ولی خان اور ہم

14 اگست کے موقع پر پاکستانی پرچم کا مفلر گلے میں ڈالتے ہوئے
"شیخ ولی خان اور ہم"

الغزالی یونیورسٹی میں انٹرا یونیورسٹی مقابلہ جاری تھا ۔ شیخ ولی خان المظفر تشریف لائے ۔ بندے کو دیکھا تو مسکرائے اور اپنے پاس بلایا اور "دو پٹہ" اوڑھانے کا حکم دیا ۔ بندے نے حکم کی تعمیل کی ۔
شیخ ولی خان المظفر سے تعارف اس سے بہت پرانا ہے ۔ عربی ادب کا ذوق رکھنے والا ہر طالب علم شیخ کو یقیناً جانتا ہے ۔ معہد میں پڑھنے کی وجہ سے علم الصیغہ کی تعریب پر شیخ کا نام لکھا ہوا دیکھا ۔ لیکن اس سے بھی پہلے ۔۔۔
استاذ محترم مولانا عبداللہ شاہ مظہر المعروف ب شاہ جی ایک دفعہ شیخ ولی خان کو جامعۃ الانور لے کر آئے ۔ شاہ جی اپنے انداز میں شیخ کے پاس مختلف طلبہ لے کر آئے ۔ کسی نے قرآنی عربی پیش کی اور کسی نے تقریر اور اناشید کی مہارت دکھائی ۔ کسی نے کراٹے کے جوہر دکھائے اور کسی نے اپنی معلومات کا اظہار کیا ۔ مجھے مزاحیہ تقریر کا حکم ملا۔ میں نے شعیب عزیز کی معروف مزاحیہ تقریر "دال میں کچھ کالا ہے" شیخ کو سنائی ۔ شیخ بہت ہنسے اور پھر حکم دیا کہ یہ تقریر مجھے عربی میں لکھ کر دے دو ۔ شاہ جی نے میرا قابل ذکر تعارف ہر جگہ کرانے کی قسم کھائی تھی سو انہیں بھی بتایا کہ یہ ہمارے مدرسے کا بدمعاش ہے ، ٹائیگر ہے ۔ یہ شیخ سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔
بول کے سیٹ پہ ہم مقابلے کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ تب لڈن جعفری مرحوم اور شیخ ولی خان وغیرہ بول کے سیٹ پر مہمان آتے تھے ۔ ہم نے انہیں ہمیشہ ان کے خاص رومال اور عربی انداز میں دیکھا تھا ۔ دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب سیٹ پر تشریف لائے اور سب ان سے اٹھ اٹھ کر ملاقاتیں کررہے ہیں ۔ ٹوپی پہنی ہوئی نہیں تھی ۔ دراز قامت ۔ جانے پہچانے معلوم ہوتے تھے لیکن میں نے کہا کہ اب کون ملے ۔ اتنے میں قبلہ مابدولت کی جانب خود آئے اور مخاطب کیا : ہاں ٹائیگر، بدمعاش ۔ کیسے ہو ۔ اور پلک جھپکتے میں مجھے یاد آیا کہ یہ شیخ ولی خان ہیں ۔
شیخ تعریف کرنے میں بخیل نہیں ۔ مبالغہ ضرور کر جاتے ہوں گے ۔ معہد کا جب پہلا ترانہ بندے نے لکھا تو الیون العالمی کی تقریب میں شیخ مدعو تھے ۔ تب وہ جامعہ کا باقاعدہ حصہ نہیں تھے ۔ شیخ تقریب کے بعد مجھے ملے تو گلے لگا کر کہا : دا کافر بچہ دے ۔او کما قال فی البشتویة۔
پچھلے سال کا امیر معاویہ رض والا واقعہ ہو یا پارلیمانی مباحثوں میں ہماری حالیہ کامیابیاں۔ شیخ کو ہم نے ہمیشہ ناصح اور فکر مند پایا ۔
وہ خوش ذوق اور خوش مزاج آدمی ہیں ۔ ہنس مکھ ہیں ۔ ہمیشہ محبت کرتے ہیں ۔ فجر کی نماز کے بعد ایگزاسٹ فین کے سامنے بیٹھے بیٹھے جب بھی مجھے چپت پڑتی ہے ۔ ایک مسکراتا دراز قد آدمی اونچائی کی جانب نظر آتا ہے ۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ شیخ ولی خان ہوں گے ۔
محبتیں سلامت رہیں ۔ ❤️

محمد بن فیصل ♥️
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 456 Articles with 986323 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More