اوراق کائنات پر لکھی حکمتیں مضمون از فاروق طاہر

کائنات ایک عظیم خاموش درس گاہ ہے دن اور رات کا بدلنا موسموں کی تبدیلی اور مناظر قدرت یہ سب انسان کو زندگی گزارنے کے خاموش درس دیتے ہیں
اوراق کائنات پر لکھی حکمتیں
فاروق طاہر ،حیدرآباد
[email protected],9700122826
دنیا کی سب سے عظیم درسگاہ کمرہ جماعت کی چار دیواری نہیں جہاں صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ وہ ہے جس کی چھت آسمان ہے، جس کی دیواریں افق تک پھیلی ہوئی ہیں، اور جہاں کائنات کا ہر منظر زندگی کی کسی نہ کسی حقیقت کو خاموشی سے آشکار کرتا ہے۔قدرت کبھی تقریر نہیں کرتی، لیکن اس کی خاموشی انسان کے اندر ایسی آواز پیدا کرتی ہے جو عمر بھر خاموش نہیں ہوتی۔
سورج ہر صبح افق سے ابھرتا ہے۔ وہ کسی سے داد کا طلبگار نہیں ہوتا، نہ اپنی روشنی کا اعلان کرتا ہے۔ وہ بس اپنا کام کرتا ہے۔ شاید زندگی کا پہلا اصول بھی یہی ہے کہ روشنی پھیلانے والے اپنی روشنی کا چرچا نہیں کرتے، ان کی کرنیں خود ان کا تعارف بن جاتی ہیں۔
درختوں کو دیکھئے۔ جتنا وہ بلند ہوتے ہیں اتنا ہی زمین کے اندر اپنی جڑیں گہری کرتے جاتے ہیں۔ گویا بلندی کا راز اوپر اٹھنے میں نہیں، بلکہ اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھنے میں ہے۔ پھل سے لدے ہوئے درخت جھک جاتے ہیں، جیسے قدرت ہر کامیابی کے ساتھ عاجزی کا ایک باب بھی لکھ دیتی ہو۔
دریا کا سفر بھی عجیب ہے۔ راستے میں چٹانیں آتی ہیں، موڑ آتے ہیں، کھائیاں آتی ہیں، مگر دریا رکنا نہیں جانتا۔ وہ ہر رکاوٹ کو راستہ بنا لیتا ہے۔ شاید اسی لیے منزل ہمیشہ چلنے والوں کو ملتی ہے، ٹھہر جانے والوں کو نہیں۔
پہاڑ صدیوں سے اپنی جگہ کھڑے ہیں۔ طوفان آتے ہیں، برف گرتی ہے، موسم بدلتے ہیں، مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا۔ زندگی بھی انہی لوگوں کے نام لکھی جاتی ہے جو حالات کے بدلنے سے اپنے اصول نہیں بدلتے۔
پھولوں کی زندگی مختصر ہوتی ہے، مگر ان کی خوشبو مدتوں یاد رہتی ہے۔ خوبصورتی عمر کی محتاج نہیں ہوتی، کردار کی ہوتی ہے۔ چند لمحوں کی مہک بھی بعض اوقات صدیوں کی یاد بن جاتی ہے۔
سمندر اپنی وسعت کا شور نہیں مچاتا۔ اس کی اصل طاقت اس کی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔ انسان بھی جب اندر سے وسیع ہو جائے تو چھوٹی باتیں اسے بے چین نہیں کرتیں۔
اور موسم... وہ تو قدرت کی سب سے خوبصورت حسین تفسیر ہیں۔ بہار یہ یقین دلاتی ہے کہ خزاں ہمیشہ نہیں رہتی، اور خزاں یہ سمجھاتی ہے کہ ہر بچھڑنے کے بعد ایک نئی ملاقات کا موسم بھی آتا ہے۔ یوں قدرت ہر سال امید کا سبق دہراتی ہے، مگر افسوس کہ انسان اکثر اسے پڑھ نہیں پاتا۔
جو شخص مناظر فطرت کو صرف دیکھتا ہے، وہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے؛ لیکن جو فطرت (کائنات)کو پڑھتا ہے، وہ زندگی کا فہم حاصل کر لیتا ہے۔ یہی فہم انسان کو سکھاتا ہے کہ نشوونما وقت مانگتی ہے، مضبوطی آزمائشوں سے جنم لیتی ہے، اور ہر نئی صبح اپنے دامن میں ایک نئی ابتدا کا امکان لے کر طلوع ہوتی ہے۔
فطرت کی یہی خاموش تعلیم انسان کو بتاتی ہے کہ زندگی جینے کا ہنر شور میں نہیں، بلکہ شعور میں پوشیدہ ہے۔ 
farooq tahir
About the Author: farooq tahir Read More Articles by farooq tahir: 138 Articles with 306229 views I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More