چین کا شخصیت سازی پر مبنی تعلیمی نظام
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا شخصیت سازی پر مبنی تعلیمی نظام تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، استحکام اور روشن مستقبل کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعلیمی نظام اب صرف نصابی علم یا امتحانات تک محدود نہیں رہے بلکہ طلبہ کی اخلاقی تربیت، جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی مہارتوں کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔ چین بھی اسی سوچ کے تحت اپنے بنیادی تعلیمی نظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے، جہاں مقصد صرف اچھے امتحانی نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ ہر بچے کی متوازن اور ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر ہے۔
چین نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے سب سے بڑے اور مضبوط بنیادی تعلیمی نظاموں میں سے ایک قائم کیا ہے، جو پری اسکول سے لے کر سینئر ہائی اسکول تک لاکھوں تعلیمی اداروں اور کروڑوں طلبہ پر مشتمل ہے۔ اب ملک نے اس وسیع نظام کو مزید معیاری، متوازن اور طالب علم کی مجموعی نشوونما سے ہم آہنگ بنانے کی نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ حال ہی میں بنیادی تعلیم کے آئندہ مرحلے کے لیے متعدد ترجیحات کا تعین کیا گیا، جن میں کردار سازی، صحت کو اولین ترجیح دینا، تعلیمی وسائل کی بہتر تقسیم اور اسکول، خاندان اور معاشرے کے درمیان مؤثر تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
چین کے تعلیمی نظام میں اس وقت تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار کنڈرگارٹن، پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی ادارے شامل ہیں، جہاں 22 کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ بنیادی تعلیم کے معیار کے مختلف اشاریے اب اعلیٰ آمدنی والے ممالک کی اوسط سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار پر مبنی ایک تجزیے کے مطابق بنیادی تعلیم کے جائزے میں شامل متعدد اشاریوں میں چین نے اعلیٰ آمدنی والے ممالک کی اوسط کارکردگی حاصل کی، جبکہ کئی شعبوں میں اس سے بھی بہتر نتائج ریکارڈ کیے گئے۔ اسی طرح عالمی سطح پر طلبہ کی تعلیمی صلاحیت جانچنے والے مختلف پروگراموں میں چینی طلبہ مسلسل ریاضی، مطالعہ اور سائنس جیسے مضامین میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ تعلیمی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم تعلیمی ماہرین اس بات پر بھی توجہ دلا رہے ہیں کہ مستقبل کا تعلیمی نظام صرف امتحانات اور نمبروں کے گرد نہیں گھومنا چاہیے۔ اسی لیے اب تعلیم میں کردار سازی، اخلاقی تربیت، جسمانی صحت اور ذہنی آسودگی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئی پالیسیوں کا مقصد ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہے جہاں طلبہ نہ صرف علمی میدان میں کامیاب ہوں بلکہ جسمانی طور پر صحت مند، ذہنی طور پر مضبوط، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال اور عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بھی ہوں۔
اس نئی سوچ کے تحت اسکولوں میں جسمانی سرگرمیوں، فنونِ لطیفہ، عملی تربیت اور ذہنی صحت سے متعلق سہولتوں کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ میں اعتماد، برداشت، تعاون اور مثبت طرزِ فکر کو فروغ مل سکے۔
چین کے تعلیمی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایک کامیاب تعلیمی ادارہ وہی ہے جہاں صرف کلاس روم کی خاموشی ہی نہیں بلکہ کھیل کے میدانوں میں بچوں کی سرگرمیاں، خوشی اور تخلیقی صلاحیتیں بھی نمایاں نظر آئیں۔
چین جیسے وسیع اور متنوع ملک میں معیاری تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اسی لیے حالیہ برسوں میں کم ترقی یافتہ، دور دراز اور وسائل سے محروم علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
حکام کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں، مختلف خطوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کے لیے مسلسل وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہی اقدامات کے نتیجے میں لازمی تعلیم کے شعبے میں ملک بھر کے تمام ضلعی انتظامی علاقوں میں بنیادی توازن حاصل کر لیا گیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے 97 فیصد خصوصی ضروریات کے حامل بچے اب لازمی تعلیم کے نظام میں شامل ہیں، جبکہ ملک کے تمام اسکول انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت کے باعث دور دراز علاقوں کے طلبہ بھی آن لائن کلاسوں اور جدید تدریسی وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں۔
تعلیم میں مساوات کے فروغ کے لیے مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بھی بڑھایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں تدریسی معیار میں بہتری اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
چین کی تعلیمی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو اسکول، خاندان اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعاون بھی ہے کیونکہ کسی بچے کی شخصیت صرف کلاس روم میں نہیں بنتی بلکہ گھر، سماجی ماحول، ثقافتی سرگرمیوں اور عملی تجربات بھی اس کی تربیت میں برابر کا کردار ادا کرتے ہیں۔اسی سوچ کے تحت مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں نے عجائب گھروں، سائنسی مراکز، ثقافتی اداروں اور دیگر عوامی سہولتوں کے ساتھ اشتراک بڑھایا ہے تاکہ طلبہ کو نصابی کتابوں سے آگے بڑھ کر عملی اور تجرباتی انداز میں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔موسم گرما کی تعطیلات کے دوران بھی مختلف سائنسی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، سائنسی ایجادات اور عملی تجربات سے براہِ راست آشنائی کا موقع ملا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کی بنیاد ایک مضبوط، باصلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والا تدریسی عملہ ہے۔ اسی لیے اساتذہ کی تربیت، عملی تدریسی مہارت، مختلف مضامین کے باہمی ربط اور طلبہ کی ذہنی و جسمانی فلاح پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اس وقت چین میں بنیادی تعلیم کے شعبے میں ایک کروڑ 57 لاکھ 60 ہزار سے زائد کل وقتی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ملک کے مجموعی تدریسی عملے کا بڑا حصہ ہیں۔ آئندہ مرحلے میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مؤثر بنانے، کلاس روم کی عملی تدریس کو مضبوط کرنے اور طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
چین کے بنیادی تعلیمی نظام میں جاری یہ اصلاحات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدید تعلیم کا مقصد صرف معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ ایسے بااعتماد، صحت مند، باکردار اور باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ جب تعلیم میں مساوات، معیار، کردار سازی، صحت اور تخلیقی صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے تو یہی نظام کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔ |
|