کشمیر کا قرض
(Muhammad wajid AZIZ, Chishtian Mandi, Punjab, Pakistan)
جب بھی کشمیر کا ذکر آتا ہے تو یہ لفظ صرف ایک متنازعہ خطے کا نام نہیں رہتا، بلکہ یہ لاکھوں شہیدوں کے خون، ہزاروں ماؤں کے آنسوؤں اور ایک قوم کے اجتماعی عزم کی داستان بن جاتا ہے۔ آج جب آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے چند افراد، جو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور چند نام نہاد تنظیموں کے اشارے پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور پاکستانی افواج کو بھارتی فوج اور صیہونی ریاست سے بھی زیادہ ظالم قرار دیتے ہیں، تو ضروری ہو جاتا ہے کہ تاریخ کے اوراق کھول کر ان کے سامنے وہ حقیقت رکھی جائے جسے وہ یا تو بھول چکے ہیں یا جان بوجھ کر نظرانداز کر رہے ہیں۔ بات وہاں سے شروع ہوتی ہے جب اکتوبر انیس سو سنتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی قیادت میں کشمیر پر ظلم کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس وقت پاکستان کی اپنی مملکت نوزائیدہ تھی، وسائل کا شدید فقدان تھا، فوج کے پاس نہ مناسب اسلحہ تھا نہ منظم تیاری، مگر جب سرحد پار سے کشمیریوں کی چیخیں سنائی دیں تو قبائلی علاقوں کے پٹھان اور نوجوان فوجی رضاکارانہ طور پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بغیر جدید ہتھیاروں کے، محض جذبہ ایمانی اور کشمیر سے محبت کے سہارے، یہ لوگ پہاڑوں کو عبور کر کے سرینگر کے قریب تک جا پہنچے۔ یہ وہی لمحہ تھا جب پہلی بار دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا وہ خطہ معرضِ وجود میں آیا جہاں آج یہ نام نہاد "آزادی پسند" آرام سے بیٹھ کر پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں۔ اگر اس جنگ میں پاکستانی جوانوں اور قبائلیوں کی قربانیاں نہ ہوتیں، تو آج آزاد کشمیر کا نام و نشان تک نہ ہوتا اور یہ سارا خطہ بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح بھارتی فوج کے مکمل تسلط میں ہوتا۔ پھر انیس سو پینسٹھ کی جنگ آتی ہے، جب پاکستان نے دنیا کی تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ ایک چھوٹا اور محدود وسائل رکھنے والا ملک ایک بڑی طاقت سے براہ راست ٹکرانے جا رہا تھا، اور اس کی واحد وجہ کشمیر کی آزادی کا خواب تھا۔ آپریشن جبرالٹر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی، مگر افسوس کہ اسی دوران کچھ مقامی عناصر نے، جو بظاہر کشمیری تحریک کا حصہ تھے، بھارتی انٹیلیجنس کو معلومات فراہم کر کے اس مشن کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔ اس غداری کے نتیجے میں جنگ محدود دائرے سے نکل کر پنجاب کے میدانوں تک پھیل گئی، لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر شدید لڑائی ہوئی، اور پاکستانی افواج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ یہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی خاطر پاکستان نے اپنی بقا تک داؤ پر لگا دی، جبکہ اسی دوران کچھ لوگ اندر سے وار کرتے رہے۔ سب سے دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آج پاکستانی افواج پر تنقید کرتے ہیں اور انہیں دنیا کی سب سے ظالم فوج قرار دیتے ہیں، وہ انیس سو ننانوے کے کارگل واقعے کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے اندر مٹھی بھر مجاہدین بھارتی فوج کے خلاف نبرد آزما تھے۔ پاکستانی فوج نے ان کی مدد کے لیے کارگل کی برفانی چوٹیوں پر پیش قدمی کی، اور اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں پاکستان کو سفارتی تنہائی اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ سمیت کئی طاقتور ممالک نے پاکستان پر دباؤ ڈالا، مگر اس کے باوجود پاکستان نے یہ رسک اس لیے لیا کیونکہ کشمیریوں کی مدد اس کے لیے محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان واقعی کشمیریوں کا اتنا بڑا دشمن ہوتا، جیسا کہ یہ بیرون ملک بیٹھے چند افراد دعویٰ کرتے ہیں، تو وہ کبھی اپنی عالمی ساکھ داؤ پر لگا کر کارگل میں مداخلت نہ کرتا۔ اب آتے ہیں موجودہ دور کی طرف، جہاں یہ تضاد اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے کچھ خاندان، جن کی زمینیں منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران حکومت نے معاوضہ دے کر حاصل کیں، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے۔ آج انہی خاندانوں کی نئی نسل، جو برطانیہ اور امریکہ کی شہریت رکھتی ہے، جو مغربی ممالک کی سہولیات اور تحفظ سے مستفید ہو رہی ہے، وہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پاکستانی پرچم کی توہین کرتی ہے، پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کی حمایت کرتی ہے، اور مقامی سطح پر احتجاجی تحریکوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ان کے اپنے بچے کبھی پاکستانی فوج میں شامل نہیں ہوں گے، کبھی سرحد پر کھڑے ہو کر دشمن کا سامنا نہیں کریں گے، اور اگر خدانخواستہ کوئی قانونی مسئلہ بھی کھڑا ہو جائے تو ان کے پاس واپس جانے کے لیے برطانوی یا امریکی پاسپورٹ موجود ہے۔ نقصان صرف اس عام کشمیری کا ہوتا ہے جو مقامی سطح پر ان کے اشارے پر سڑکوں پر نکلتا ہے، جس کے پاس نہ دوہری شہریت ہے نہ بیرون ملک کوئی محفوظ ٹھکانہ۔ یہ منافقت اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے کہ جو لوگ خود عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ غریب اور سادہ لوح کشمیریوں کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بار بار اٹھایا جانا چاہیے کہ آخر ان چند تنظیموں اور افراد کی مالی معاونت کہاں سے آتی ہے۔ جب کوئی شخص برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان مخالف مہم کو منظم طریقے سے چلاتا ہے، بینرز چھپواتا ہے، احتجاج منظم کرتا ہے، اور مقامی سطح پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے وسائل خرچ کرتا ہے، تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اتنی مہنگی مہم کے اخراجات کہاں سے پورے ہو رہے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی کا کشمیر کے معاملے میں پراپیگنڈا نیٹ ورک قائم کرنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اور یہ عین ممکن ہے کہ کچھ عناصر لاعلمی میں یا جان بوجھ کر اس نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں حقیقی کشمیری، جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، وہ آج بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے دیہاتوں اور شہروں میں آج بھی وہ بزرگ موجود ہیں جنہوں نے انیس سو اڑتالیس اور انیس سو پینسٹھ کی جنگیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں، جنہوں نے پاکستانی فوجیوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی، زخمیوں کی تیمارداری کی، اور آج بھی وہ نسلیں پاکستانی پرچم کو عزت سے سینے سے لگاتی ہیں۔ یہی وہ حقیقی آواز ہے جو اصل کشمیری جذبات کی ترجمانی کرتی ہے، نہ کہ وہ چند لوگ جو لندن کی سڑکوں پر بیٹھ کر پاکستان مخالف بینر اٹھائے پھرتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس صورتحال میں کیا کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ ریاستی سطح پر ان عناصر کی سرگرمیوں، ان کے مالی نیٹ ورکس اور بیرونی روابط کو سفارتی اور قانونی ذرائع سے بے نقاب کیا جائے۔ میزبان ممالک کی حکومتوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ان کی سرزمین کو کس طرح پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور مبینہ فنڈنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکے۔ اسی طرح بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کا نقطہ نظر مؤثر انداز میں پیش کرنا از حد ضروری ہے، تاکہ دنیا کے سامنے حقائق واضح ہوں اور محض یک طرفہ پراپیگنڈا حاوی نہ رہے۔ آزاد کشمیر کے اندر مقامی سطح پر عوامی رابطہ مہم چلانا بھی اہم ہے، تاکہ نوجوان نسل بیرونی عناصر کے پراپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچ سکے اور انہیں تاریخی حقائق سے آگاہ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ جو عناصر براہ راست ریاستی اداروں یا سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں اور بین الاقوامی قانونی تعاون کے ذریعے ایسے افراد کا احتساب ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ پاکستان نے کشمیر کاز کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی معمولی سیاسی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قومی نظریے کا اظہار ہیں۔ ہزاروں جوانوں کی شہادتیں، دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ، عالمی سطح پر بار بار تنہائی کا سامنا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ جو لوگ آج آرام دہ زندگیوں میں بیٹھ کر ان قربانیوں کو فراموش کر کے پاکستان کے خلاف بولتے ہیں، انہیں تاریخ کا سامنا کرنا ہوگا، اور یہی تاریخ ان کے موقف کی حقیقت واضح کر دیتی ہے۔ پاکستان زندہ باد تھا، پاکستان زندہ باد ہے، اور پاکستان زندہ باد رہے گا |
|