رشتوں میں گفتگو کا فقدان

عنوان: رشتوں میں گفتگو کا فقدان
کالم نگار: رابعہ ذوالفقار وٹو

کبھی ایسا گھر دیکھا ہے جہاں رشتوں کے درمیان پیار، محبت، اعتماد ہو۔ والدین اولاد کے لیے زندگیاں گھسا دیں۔ بہن بھائی ایک دوجے سے بےانتہا محبت کرتے ہوں۔ جان دینی ہو، مشکل اٹھانی ہو، کسی کے کام آنا ہو وہ کر لیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ مگر وہی رشتے ایک دوسرے کو "سمجھتے" نھیں۔ اُنھیں پتا ہے کہ گھر میں کس کو کیا پسند ہے مگر وہ اُس کی پسند اور ناپسند کو قبول نھیں کر پاتے۔ جہاں دل میں دوسرے کے لیے احترام اور پیار ہے وہی اُس کے لیے بہت سی شکایتیں ہیں۔ وہ شکایتیں عام دنوں پہ زبان کی نوک پہ نھیں آتیں بلکہ مروت اور لحاظ کے بوجھ سے اندر ہی دب کر رہ جاتی ہیں مگر وہ ختم نھیں ہوتیں۔ وہ بڑھتی ہیں اتنا کہ ایک ایک دن اُس لحاظ اور برداشت کے عزیم پہاڑ کو چیرتے لاوے کی طرح نکلتی ہیں۔ اُس وقت ساری مروت، عزت، احترام کہیں دور جا سوتا ہے۔ پھر تُو تُو، میں میں ہوتی ہے، جو زبان جی،جی کرتے نھیں تھکتی تھی وہ گالیاں بکتے دوسرے کے رتبے کو تیس نہس کرنے لگتی ہے۔ پھر ایک کا گریبان ہوتا ہے، دوسرے کا پنجا۔ آگ ہوتی ہے۔ اُس کے بعد کیا ہوتا ہے؟
آگ ٹھندی پڑتی ہے۔ غصہ سرد ہو جاتا ہے۔ پھر خاموش پچھتاوا ہوتا ہے، لمبی خاموشی ہوتی ہے، پھر کسی نہ کسی طرح سب ٹھیک ہو جاتا ہے مگر اب ٹھیک کبھی نھیں ہوتا۔ وہ شکایتوں، مروت اور لاوے کا سائیکل پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سائیکل کبھی نھیں ٹوٹے گا جب تک گھر والے اپنی "خاموشی" نھیں توڑیں گے۔ وہ خاموشی نھیں جسے توڑ کر بیچا چلایا جائے، الزام تراشی کی جائے، تُو تُو، میں میں کی جائے۔ بلکہ وہ خاموشی جسے ختم کر کے تحمل سے، عام سے لہجے میں، مختصراً نھیں تو تفصیلاً اپنی بات سمجھائی جائے۔ جب تک یہ خاموشی نھیں ٹوٹے گی، زندگیاں ختم ہو جائیں گی آپس کے یہ مسئلے ختم نھیں ہوں گے۔ مسئلہ ختم کرنے کا مطلب رشتہ ختم کرنا یا خراب کرنا نھیں ہوتا بلکہ اُسے حل کرنا ہوتا ہے۔
ایسے گھر میں ہر شخص کی اپنی ایک لمبی داستان ہوتی ہے۔ چوں کہ اُس نے یہ داستان کسی کو اُس کے حصے کی سنائی نھیں ہوتی نہ دوسرے کی داستان سنی ہوتی ہے تو وہ اُس کہانی کا مظلوم ہیرو اور باقی سب ولن ہوتے ہیں۔ ایسے گھر میں ہر شخص مظلوم ہوتا ہے، معصوم اور ہر شخص بے انصاف ہوتا ہے، ظالم، بے مروت۔ جس کی کہانی سنو وہ اپنے نقطہء نظر سے درست دیکھائی دیتا ہے اور دوسرے غلط۔ مسئلہ یہ ہے کہ اُس نے کبھی بھی درست وقت پر دوسرے کو اپنا نقظہ نظر سمجھانے کی کوشش کی نھیں کی۔ تب کی جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تب بھی سمجھانے کی کوشش نھیں کی بلکہ اپنا غصہ نکالا۔
اس نقطہء نظر سمجھانے، آپ ی کہانی بیان کرنے کو کمیونیکیٹ کرنا کہتے ہیں۔ یہ سیکھا جاتا ہے، سیکھایا جاتا ہے اور مشق کی جاتی ہے۔ جو لوگ کمیونیکیٹ نھیں کرتے وہ پھر جھگڑے کرتے ہیں۔
خود سے سوال کریں اگر دوسرے نے آپ کا خیال نھیں کیا تو کیا کبھی آپ نے خود سے اُسے اپنی حالت سمجھانے کی کوشش کی؟ کون سی ایسی چیز ہے جس پہ بھروسا کر کے آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے آپ کی بات خود بخود سمجھ جائیں گے؟ ایسا نھیں ہوتا۔ جب تک کوئی زبان کو حرکت نھیں دے گا، اچھے طریقے سے بات سمجھانے کی کوشش نھیں کرے گا وہ ان مسائل کی دلدل سے کبھی نھیں نکل سکے گا۔
اگر آپ وقت پہ اپنی تکلیف کا اظہار نھیں کر سکتے تو آپ کو یہ اس چیز کا بھی کوئی حق نھیں کہ وقت گزر جانے کے بعد، بہت دیر کرنے کے بعد آپ اس تکلیف سے دوسروں کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ آپ کو لگتا ہے اس کے بعد سارا احترام، عزت برقرار رہتی ہو گی جسے آپ ایک بار خراب کر چکے؟ ایسی بے لوث محبت سے بہتر ہے خود پر ذرا سی محنت کر کے سیکھیں کہ آپ ی بات کسی تک کیسے پر امن طریقے سے پہنچائی جاتی ہے۔



 

 

Rabia Zulfiqar
About the Author: Rabia Zulfiqar Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.