چین میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامع معاونت کا نظام
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامع معاونت کا نظام تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی چین میں ہزاروں طلبہ یونیورسٹیوں میں داخلے کے ایک نئے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جن کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول صرف تعلیمی صلاحیت نہیں بلکہ مالی حالات کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ایسے میں چین نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی طالب علم کو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے موقع سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔
چین کے تعلیمی حکام کے مطابق ملک میں طلبہ کی مالی معاونت کا نظام مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جس میں سرکاری قرضے، وظائف، مالی امداد اور تعلیمی اسکالرشپس شامل ہیں۔ اس نظام کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
متعلقہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین میں طلبہ کی مالی معاونت کے لیے مجموعی فنڈز 390 ارب یوان سے تجاوز کر گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ ان میں تقریباً 240 ارب یوان سرکاری فنڈز پر مشتمل تھے، جو مجموعی امداد کا تقریباً 60 فیصد بنتے ہیں۔
چین کا کہنا ہے کہ طلبہ کے لیے مالی معاونت کا یہ نظام صرف تعلیمی سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ سماجی مساوات، غربت کے خاتمے اور قومی ترقی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین میں طلبہ قرضوں کا نظام 1990 کی دہائی کے آخر میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 695.8 ارب یوان کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جن سے 3 کروڑ سے زائد طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔
چین نے طلبہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک کثیر سطحی معاونتی نظام قائم کیا ہے، جس میں حکومت بنیادی کردار ادا کرتی ہے جبکہ تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس میں حصہ لیتی ہیں۔ اس نظام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی طالب علم صرف خاندان کی مالی مشکلات کے باعث تعلیم ادھوری نہ چھوڑے۔
طلبہ قرضوں کے موجودہ نظام میں مالی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بغیر کسی ضمانت یا اضافی سکیورٹی کے قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ قرضے تعلیمی فیس، رہائش اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
طلبہ کو تعلیم مکمل ہونے سے پہلے قرض کی اصل رقم واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ دورانِ تعلیم قرض پر جمع ہونے والا انٹرسٹ حکومت کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس سہولت کا مقصد طلبہ پر مالی دباؤ کم کرنا اور انہیں اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
گزشتہ برسوں میں طلبہ قرضوں کی حد میں بھی کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے سالانہ قرض کی حد بڑھا کر 20 ہزار یوان جبکہ پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے 25 ہزار یوان تک کر دی گئی ہے، جس سے طلبہ کو تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں زیادہ مدد مل رہی ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد قرضوں کی واپسی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں شرح سود میں کمی، ادائیگی کی مدت میں توسیع، اصل رقم کی واپسی کے لیے اضافی مہلت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی معاونت شامل ہے۔
چین کا یہ ماڈل تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے، جہاں مالی حالات کسی طالب علم کی صلاحیت اور مستقبل کے امکانات میں رکاوٹ نہ بنیں۔ دنیا کے بعض دیگر ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اور طلبہ قرضوں کا بوجھ نوجوانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ چین نے سرکاری معاونت کے ذریعے طلبہ پر مالی دباؤ کم کرنے پر زیادہ توجہ دی ہے۔
موجودہ داخلہ سیزن کے دوران بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سامنا بھی ہے۔ متعلقہ حکام نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ طلبہ کو خصوصی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی یونیورسٹی تعلیم کا آغاز بلا رکاوٹ کر سکیں۔اس مقصد کے لیے طلبہ قرضوں کے نظام کے ساتھ ساتھ ’’گرین چینل‘‘ داخلہ پروگرام بھی فعال رکھا جائے گا، جس کے ذریعے مالی مشکلات یا ہنگامی حالات کا شکار طلبہ کو فوری سہولت فراہم کی جائے گی۔
بلاشبہ ،تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ چین میں طلبہ معاونت کا بڑھتا ہوا نظام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے صرف تعلیمی مواقع فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں ان مواقع تک پہنچنے کے لیے ضروری مالی سہولتیں بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اعلیٰ تعلیم کو زیادہ جامع اور قابل رسائی بنانے کے لیے مالی معاونت کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ |
|