“کیا ہم نئی نسل کے لیے وہ حد برقرار نہیں رکھ پائے؟”




“کیا ہم نئی نسل کے لیے وہ حد برقرار نہیں رکھ پائے؟”



انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ


آج کل پاکستان کے الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر پاکستان ٹیلی ویزن کے سینیر اداکار محمد احمد کے ساتھ ایک جونیر اداکار فہد شیخ اور ان کے کچھ دوستوں نے جو طوفان بدتمیزی کی اور پھر کسی نے وہ وڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کردی جس پر دیکھنے والوں نے فہد شیخ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت و ملامت کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر نہ رکنے والی مزحمت و اظہار ہمدردی سینیر اداکار محمد احمد سے کی جارہی ہیں جبکہ فہد شیخ نے سوشل میڈیا پر اپنی بدتمیزی کی معافی کی پوسٹ بھی کردی ہے مگر پاکستانی عوام انہیں ابھی تک الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر ان کی اس بدتمیزی پر کوئی رعایت دینے کو تیار نظر نہیں آتی. جبکہ کئی سینیر اداکار و اداکارہ بھی میدان میں آکر بیشتر نے محمد احمد کے ساتھ یک جہتی کا اظہار بھی کررہی ہیں.
دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کے معاشرے کا اصل سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں کئی مُلکوں میں یہی نوجوان نسل انقلاب لاتے ہیں اور تاریخ کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں، مگر افسوس کہ آج ہمارا مُلک ایک ایسے معاشرہ میں سنگین مسئلے سے دوچار ہے جس نے اس قیمتی سرمایہ کو چاروں طرف سے شدید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہمارے نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بد تہذیبی اور بداخلاقی محض ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، تعلیمی اور قومی بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔

بداخلاقی کے معنی نہ صرف بدزبانی یا بدتمیزی تک محدود نہیں۔ اس میں والدین کی نافرمانی، اساتذہ کی بے توقیری، معاشرتی اقدار سے بغاوت، عدم برداشت، تشدد، جھوٹ، دھوکہ، احساسِ ذمہ داری کا فقدان اور خودغرضی جیسے رویے بھی شامل ہیں۔ آج یہ تمام منفی رویے ہمارے نوجوانوں میں جس تیزی سے فروغ پارہے ہیں، جو ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ایک تباہی کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اس کا پھیلنا اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا خاندانی نظام کی بہت تیزی سے ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ آج کل کے والدین، مادّہ پرستی کی دوڑ اور اولاد کے لیے وقت کی کمی نے تربیت کے عمل کو شدید متاثر کررہا ہے۔ سٹی ، بیکن ، گرامر وغیرہ میں بچے مہنگے اسکولوں میں تو داخل کروادیے جاتے ہیں مگر ان اسکولوں میں تہذیبی و اخلاقی تربیت سے یہ ادارے کوسوں دور ہیں رہی گورنمنٹ اسکولوں میں تو وہاں ہمارے ملک کے سیاسی کلچر نے ایسے افرادوں کو سیٹوں پر بیٹھا دیا ہے جنہیں خود اخلاقیات کی تربیت کی ضرورت ہے، اس وجہ سے بچے تہذیبی اور اخلاقیات سے محروم رہتے ہیں۔ گھر جو بچوں کے کردار سازی کے لیے پہلی درسگاہ کا درجہ رکھتا ہے، وہی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ترین نظر آرہا ہے۔

دوسری جو اس کی اہم وجہ بن رہا ہے ہمارے تعلیمی اداروں کی درسگاہوں کا محض ڈگریاں بانٹنے کی فیکٹری بن جانا ہے۔ ہمارے مُلک کے نصاب میں بھی اخلاقیات، کردار سازی اور قومی اقدار کو ایک طرف سمیٹ کر رکھ دیا ہے. اب استاد کی حثیت ایک رعب، وقار اور مقام بالکل نہ ہونے کا رہا ہے، اکثرسوشل میڈیا میں اُستاد و شاگرد عمر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے وہ اپنے ٹھرکی پن کی بدولت اکثر سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں یہ کیا بچوں کو اخلاقیات کی تربیت دے پائینگے. جس کا نتیجہ یہ ہے کہ طالب علم علم تو حاصل کر لیتا ہے مگر تہذیب و اخلاقیات سے محروم رہتا ہے. پھر فہد شیخ جیسے اخلاقیات کے نمونہ کہیں نہ کہیں رونما ہوتے ہیں.

ہمارے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے بھی ہمارے نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر گہرے منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ غیر اخلاقی مواد ان کی آسان رسائی، مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید، سستی شہرت کا جنون اور نام نہاد آزادی نے نوجوان ذہنوں کو مایوس کردیا ہے۔ آج کا نوجوان اسکرین پر تو بہت مہذب نظر آتا ہے مگر عملی زندگی میں برداشت، شائستگی اور احترام جیسے اوصاف سے خالی دکھائی دیتا ہے۔


آج کل پاکستانی معاشرے میں بڑھتا ہوا تشدد ، بے انصافی، سفارش کلچر اور میرٹ کی بدترجہ پامالی بھی پاکستانی نوجوانوں کو بے تحاشہ مایوسی کے گھپ اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔ جب محنت کا صلہ نہ ملے اور نا اہل افراد آگے بڑھتے نظر آئیں تو نوجوانوں میں مایوسی، غصہ اور بغاوت جنم لیتی ہے، جو بالآخر بداخلاقیات اور بد تہذیبی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

یہ مسائل محض ہمارے نوجوانوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے پورے معاشرے کا ہے۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد واحد پر ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوسکتے اس میں والدین، اساتذہ، میڈیا، مذہبی اداروں اور ریاست سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں دوبارہ اپنے تعلیمی اداروں میں تربیتی نظام کو اخلاقیات کی بنیاد پر اصتلاحات لانا ہوئینگی۔ ہمیں اپنے اپنے گھروں میں گفتگو، برداشت اور مثال کے ذریعے تربیت دینا ہوگی، نہ کہ صرف نصیحتوں سے۔
اور ہمارے پرنٹ و الیکٹرونک و سوشل
میڈیا کو بھی سنسنی خیز اور ریٹنگ کے بجائے اصلاحی کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمارے نوجوانوں کے لیے مثبت رول ماڈلز کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح ریاستی سطح پر ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو ہمارے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

اگر آج ہم نے اپنے نوجوان نسل کی اخلاقی اصلاح پر توجہ نہ دی تو آنے والا کل مزید تاریک کے گھپ اندھیروں میں ہمارے نوجوانوں کے استقبال کے لیے کھڑا ہوئیگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے ، بدتمیز نوجوان نہ مضبوط کردار بنا سکتے ہیں اور نہ ہی باوقار معاشرہ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس مسئلے کا سنجیدگی سے ادراک کریں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ 

 

انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ: 505 Articles with 375644 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.