“ کیا ماضی میں سندھ یک انتظامی یونٹ رہا ہے؟”




“ کیا ماضی میں سندھ یک انتظامی یونٹ رہا ہے”


انجینئر: شاہد صدیق خانزادہ


سندھ کی تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے سندھ راجا داہر کے زمانے میں ہی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا.
سندھو دریا کے مشرق میں راجا داہر اور مغرب میں اس کا بھائی حاکم تھا جس نے محمد بن قاسم کو راہداری دی تھی اور اس کے نتیجے میں محمد بن قاسم بآسانی سندھ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا, پھر
محمد بن قاسم نے سندھ کو ملتان تک وسیع کرکے ایک حکومت قائم کی تھی.
مغلیہ دور میں سندھ تین حصّوں میں تقسیم تھا
خیرپور سے ملحقہ علاقے (دارالحکومت خیرپور), زیریں سندھ میں نوابشاہ سے کراچی تک کے علاقے (دارالحکومت حیدرآباد) اور زیریں مشرقی سندھ میں صحرائے تھر اور میرپور خاص سے سانگھڑ تک (دارالحکومت عمرکوٹ). ان حکمرانوں کو مغل حکومت نے الگ الگ پروانہ اقتدار دے رکھا تھا اور یہ سب سندھ کی تقسیم پر راضی تھے. (تب سندھ میں نہ پنجابی آبادگار تھے نہ ہندوستانی مہاجر. سندھ صرف اصلی اور نسلی سندھیوں کا تھا.
قیام پاکستان سے قبل سندھ میں خیرپور اور رانی پور کی ریاستیں موجود تھیں. رانی پور کے حکمران کی حیثیت خیرپور کے باجگذار کی تھی.
قیام پاکستان کے باوجود خیرپور کی ریاست, دربار اور حق حکمرانی محفوظ تھا. یہی مقام بہاول پور, قلات اور سوات کی ریاستوں کا تھا.
1846 میں انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ شروع کیا تو صرف حیدرآباد کے تالپور حکمرانوں نے مزاحمت کی لیکن میانی فارسٹ کے مقام پر یہ مزاحمت دم توڑ گئی. ہوش محمد شیدی شہید ہوئے. چارلس نیپیئر فاتح ٹھہرے. انگریزوں نے سندھ کا نام و نشان مٹادیا اور سندھ کو بمبئی ریزیڈنسی کا حصّہ بنادیا. 1846 سے 1935 تک دنیا کے نقشے پر سندھ نام کا کوئی خطّہ نہیں تھا. 1935 میں سندھ کی بمبئی سے علیحٰدگی انگریزوں کے مستقبل کے منصوبے کا حصّہ تھا. سندھ میں کپاس پیدا ہوتی تھی لیکن انگریزوں نے سندھ میں کوئی ٹیکسٹائل مل نہیں لگائی.
پورے سندھ میں کوئی یونیورسٹی نہیں تھی.
لینڈ ریونیو کے ریکارڈ کے مطابق سندھ کی زرعی زمینوں کا 80 فیصد اور تجارت کا 90 فیصد ہندوؤں کے ہاتھ میں تھا. حیدرآباد کی مارکیٹ نول رائے کی تھی شاہی بازار کی دکانیں ہندوؤں کی تھیں. ویسٹ کچا میں جو اب اسٹیشن روڈ کہلاتا ہے, تلک چاڑی سے ریلوے اسٹیشن تک, لجپت روڈ اور رسالہ روڈ کی رہائشی عمارات جن میں نیچے دکانیں ہیں ہندوؤں کی ملکیت تھیں
حیدرآباد کا گورنمنٹ ہائی اسکول انہی نول رائے کی ملکیت ہے. جبکہ گورنمنٹ کالج پھلیلی بھی ایک ہندو خاندان کی عطا ہے.
کراچی بندرگاہ تھی لیکن کراچی کی معاشرت اور معیشت پارسیوں کے قبضے میں تھی. کلفٹن کی بارہ دری ہو یا اور کوئی قابل ذکر عمارت. سب کی پیشانی پر کسی پارسی کا نام کندہ ہے.
البتہ تعلیمی میدان میں کراچی کا مدرسۃ الاسلام, حیدرآباد کا نور محمد ہائی اسکول اور شکارپور کے تعلیمی ادارے استثناء کی حیثیت رکھتے ہیں.
1956 میں پاکستان کے مغربی حصّے کے صوبوں اور ریاستوں کو تحلیل کرکے ایک یونٹ بنادیا گیا تو ایک بار پھر سندھ معدوم ہوگیا. یہ پوزیشن ایوب خان کے پورے زمانہ اقتدار میں قائم رہی. سندھ کے ذوالفقار علی بھٹو, جونیجو, جتوئی, شیرازی, تالپر, قاضی سب ون یونٹ کی حکومت کے مزے لوٹتے رہے, یہاں تک کہ 1969 کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد یحییٰ خان نے 1956 اور 1962 کی اسمبلیوں کے منظور شدہ ون یونٹ کو بہ یک جنبشِ قلم منسوخ کرکے سندھ صوبہ تشکیل دیا اور خیرپور میرس کی ریاستی حیثیت ختم کی،
یہ ہے سندھ کا انتظامی اور معاشی ماضی.
اور دعویٰ یہ ہے کہ سندھ ہمیشہ ایک یونٹ رہا ہے

 

انجینئر: شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجینئر: شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجینئر: شاہد صدیق خانزادہ: 508 Articles with 375738 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.