جہاں وسائل وہاں مسائل

دنیا میں جہاں کہیں پر بھی وسائل موجود ہیں وہاں پر مسائل بھی جنم لیتے ہیں ۔اسی طرح گلگت بلتستان ایک ایسا نایاب خطہ ہے جہاں پر سب سے زیادہ قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں اس لیے قبل از وقت ہمیں شعوری بیداری کی اشد ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان کا یوم آزادی یکم نومبر ہے
(صدائے حق)
تحریر یوسف علی ناشاد
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ گلگت بلتستان کا یوم آزادی یکم نومبر ہےگلگت بلتستان کا بچہ بچہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ یکم نومبر 1947 کو یہاں کے بہادر عوام نے ڈوگرہ راج کا خاتمہ کرکے اپنی آزادی کااعلان کیا تھا اسی تاریخی دن کی یاد میں آج بھی گلگت بلتستان کے عوام پورے جوش و جذبے کے ساتھ جشن آزادی مناتے ہیں دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ملے جو دو الگ الگ یوم آزادی مناتی ہو مگر گلگت بلتستان کے عوام ایک طرف اپنے تاریخی یوم آزادی یکم نومبر کو عقیدت و احترام سے مناتے ہیں اور دوسری طرف محبت اور خیرسگالی کے جذبے کے تحت چودہ اگست کو بھی پاکستان کے یوم آزادی کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں یہ پاکستان سے محبت کاعملی اظہار ہے نہ کہ کوئی آئینی یا قانونی تقاضاگزشتہ اٹھہتر برسوں سے گلگت بلتستان ایک غیر یقینی آئینی کیفیت کا شکار ہے نہ اسے پاکستان کا مکمل آئینی حصہ بنایا گیا اور نہ ہی یہاں کے عوام کو وہ آئینی حقوق دیے گئے جن کے وہ حقدار ہیں گلگت بلتستان آزادکشمیر کی طرح ایک متنازع خطہ ہے جسے پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک اپنے انتظامی نظم کے تحت رکھا ہوا ہے جب بھی مسئلہ کشمیر کے بارے میں رائے شماری یا کوئی بین الاقوامی فیصلہ ہوگا اس کے مطابق آئندہ کی صورت حال طے ہوگیایک وقت تھا جب چودہ اگست گلگت بلتستان میں انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا مگر گزشتہ چند برسوں سے عوامی سطح پر اس کی رونق پہلے جیسی نہیں رہی اب زیادہ تر تقریبات سرکاری سطح تک محدود دکھائی دیتی ہیں ماضی میں یہاں پاکستان کا آئینی صوبہ بننے کا مطالبہ زور و شور سے کیا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کی صورتحال اور گلگت بلتستان کے ساتھ مسلسل اختیار کیے جانے والے حکومتی رویے نے عوامی سوچ میں تبدیلی پیدا کی ہے اب بہت سے حلقوں کی جانب سے کشمیر طرز کی داخلی خودمختاری کی آواز بلند کی جا رہی ہے
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے پانی سے پاکستان کا بڑا حصہ سیراب ہوتا ہے ماہرین کے مطابق یہاں اتنی آبی صلاحیت موجود ہے کہ پاکستان جیسے دو ممالک کی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اس کے باوجود آج بھی گلگت بلتستان کے عوام طویل لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جو خطہ پورے ملک کو توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو وہ خود اندھیروں میں کیوں ڈوبا رہےگلگت بلتستان کا قدرتی پانی دنیا کے صاف ترین پانیوں میں شمار کیا جاتا ہے پہاڑوں اور چشموں سے براہ راست بہنے والا پانی صحت بخش ہوتا ہے مگر جب یہی پانی انسانی استعمال کے لیے ذخیرہ اور تقسیم کیا جاتا ہے تو انتظامی غفلت اور ناقص نظام کی وجہ سے آلودگی کا شکار ہو جاتا ہے نتیجتاً لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اس پر مستزاد غیر معیاری اور بدبودار درآمدی آٹے کے استعمال نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہےاتنے طویل عرصے کے باوجود گلگت بلتستان میں ایک معیاری میڈیکل کالج کا قیام عمل میں نہ آ سکا یہاں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں والدین اپنی عمر بھر کی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی روزگار کے مواقع محدود ہیں اور میرٹ کے بجائے سفارش اور رشوت کی شکایات عام سننے کو ملتی ہیں سوال یہ ہے کہ جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں آئین کا حوالہ دے کر خاموش کرایا جاتا ہے لیکن جب وسائل کے استعمال یا انتظامی اختیارات کی بات آتی ہے تو وہی آئینی رکاوٹ کہیں دکھائی نہیں دیتی یہی دوہرا معیار عوام میں احساس محرومی کو جنم دیتا ہےگلگت بلتستان میں جو افراد کرپشن دہشت گردی فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں امن و امان اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں ان میں سے بعض کے خلاف شیڈول فور یا دیگر سخت قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اس طرز عمل پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدیدتحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے کیونکہ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف رائے اور بنیادی حقوق کے مطالبے کو برداشت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہےیہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سی پیک کا اہم زمینی راستہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور چین کو پاکستان سے ملانے میں اس خطے کا بنیادی کردار ہے اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم اور داسو جیسے بڑے منصوبے بھی اسی خطے کے قدرتی وسائل اور دریاؤں سے وابستہ ہیں گلگت بلتستان معدنیات کے بے شمار ذخائر سے مالا مال ہے ایسے میں یہاں کے عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان وسائل پر سب سے پہلا حق اس خطے کے باشندوں کا کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کے مفادات کو ہر منصوبے میں اولین ترجیح کیوں نہیں دی جاتی گلگت بلتستان کی آزادی کسی بیرونی طاقت نے حاصل نہیں کی بلکہ اس دھرتی کے بہادر سپوتوں نے اپنی قربانیوں سے یہ تاریخ رقم کی اس لیے یہاں کے عوام اپنے وسائل اپنی زمین اور اپنے مستقبل کے بارے میں حساس ہیں اگر وسائل کی منصوبہ بندی میں مقامی آبادی کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز کیا جائے گا تو احساس محرومی میں اضافہ ہوگابلوچستان کے بے پناہ وسائل آج بھی وہاں کے عوام کی تقدیر نہیں بدل سکے خیبر پختونخوا کے قدرتی ذخائر کے باوجود وہاں کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ سندھ بھی بے شمار معاشی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے یہی حالات دیکھ کر گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق تحفظات اور وسائل کے بارے میں فیصلے انصاف اور مساوات کی بنیاد پر کیے جائیں گلگت بلتستان کے عوام آج بھی یکم نومبر کو اپنے تاریخی یوم آزادی کے طور پر پورے جوش و جذبے سے مناتے ہیں یہ دن ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بدولت ڈوگرہ راج کا خاتمہ ہوا وقت کا تقاضا ہے کہ اس خطے کے عوام کے آئینی حقوق بنیادی سہولیات اور وسائل پر ان کے جائز حقوق کو یقینی بنایا جائے تاکہ احساس محرومی کے بجائے اعتماد انصاف اور ترقی کی نئی راہیں کھل سکیں۔ 

 

Yousuf Ali
About the Author: Yousuf Ali Read More Articles by Yousuf Ali: 19 Articles with 23922 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.