بھوک سے بصیرت تک
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
بھوک سے کتاب تک ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ مشرق کی سمت آسمان پر ہلکی سی سفیدی یوں پھیل رہی تھی جیسے رات اپنے سیاہ لباس کے کنارے آہستہ آہستہ سمیٹ رہی ہو۔ گلیوں میں خاموشی کے قدم سنائی دیتے تھے اور ٹھنڈی ہوا میں کسی نامعلوم درخت کے پھولوں کی مہک تیر رہی تھی۔ انہی سنسان راستوں پر ایک دبلا پتلا لڑکا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس کی بغل میں پرانی، گرد آلود کتاب دبی ہوئی تھی اور دوسری مٹھی میں چند سکّے بند تھے۔ وہ بار بار اپنی مٹھی کھولتا، سکّوں کو گنتا، پھر کتاب کی طرف دیکھتا اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتا۔ اس کے چہرے پر وہ اضطراب تھا جو صرف ان لوگوں کی قسمت میں لکھا جاتا ہے جنہیں ہر روز دو محبتوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ چند قدم آگے ایک تنور سے تازہ روٹی کی خوشبو اٹھی۔ بھاپ سے لبریز گرم روٹیوں کی مہک نے اس کے قدم روک لیے۔ معدے نے احتجاج کیا، آنکھوں نے تنور کی طرف دیکھا، مگر دل اب بھی کتاب سے لپٹا ہوا تھا۔ وہ دیر تک اسی کشمکش میں کھڑا رہا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے ایک طرف زندگی اسے آواز دے رہی ہو اور دوسری طرف مستقبل۔ ایک ہاتھ میں آج کی بھوک تھی اور دوسرے ہاتھ میں آنے والے کل کی روشنی۔ اس کے لیے فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ دونوں ہی ناگزیر تھے۔ اسی لمحے قریب واقع ایک پرانی لائبریری کا دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔ اندر سے ایک ضعیف کتاب دار نکلا۔ اس نے لڑکے کی الجھن بھانپ لی۔ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا، اس کے ہاتھ میں موجود سکّوں پر ایک نظر ڈالی اور پھر نہایت دھیمے لہجے میں بولا: "بیٹے! زندگی انسان سے اکثر ایسے سوال پوچھتی ہے جن کے جواب بازار میں نہیں ملتے۔ روٹی نہ ہو تو جسم تھک جاتا ہے، اور کتاب نہ ہو تو روح۔ مگر سب سے بڑی بدقسمتی وہ معاشرہ ہے جو اپنے بچوں کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دے۔" لڑکے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹ ہلے مگر آواز نہ نکلی۔ وہ صرف اتنا سوچ سکا کہ اگر روٹی جسم کو زندہ رکھتی ہے اور کتاب انسان کو، تو پھر انسان آخر کس کو چھوڑے؟ شاید یہی سوال صدیوں سے تہذیبوں کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہی سوال ادب، فلسفے، نفسیات، معیشت اور سماجیات کی طویل بحثوں کے مرکز میں بھی موجود ہے۔ اور یہی سوال ہمیں اس بنیادی حقیقت تک لے جاتا ہے کہ بحث کبھی کتاب اور روٹی میں انتخاب کی نہیں تھی، بلکہ ایسے عادلانہ معاشرے کی تھی جہاں انسان کو دونوں میسر ہوں۔اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پہلے کتاب آئے یا روٹی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا معاشرہ کب وجود میں آئے گا جہاں دونوں ایک دوسرے کی تکمیل بن جائیں، نہ کہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں۔
یہی سوال ہمیں ادب کے اس وسیع افق تک لے جاتا ہے جہاں بھوک محض جسمانی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ایک تہذیبی، نفسیاتی اور فلسفیانہ استعارہ بن جاتی ہے۔ دنیا کے بڑے ادیبوں نے بھوک کو کبھی صرف معدے کی کیفیت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے انسانی وجود کی سب سے بڑی آزمائش قرار دیا ہے۔ کنوٹ ہامسن کا "بھوک" اسی روایت کا وہ ناول ہے جس نے بیسویں صدی کے ادب کو ایک نئی سمت عطا کی۔ اس ناول نے یہ ثابت کیا کہ ادب کا کام صرف واقعات سنانا نہیں بلکہ انسان کے باطن میں اتر کر ان زخموں کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو دکھائی نہیں دیتے۔
ادب دراصل انسان کے اجتماعی شعور کی یادداشت ہے۔ جب ریاستیں اپنی ناکامیوں کو اعداد و شمار میں چھپا دیتی ہیں تو ادب ان اعداد کے پیچھے موجود چہروں کو سامنے لے آتا ہے۔ معاشی رپورٹس صرف یہ بتاتی ہیں کہ کتنے لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مگر ایک ناول یہ دکھاتا ہے کہ غربت انسان کے اندر کیا کچھ توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادیب معاشیات دانوں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کے اعداد نہیں بلکہ اس کے احساسات محفوظ کرتے ہیں۔ نفسیات کے میدان میں بھوک کو صرف غذائی کمی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے شخصیت کی تشکیل پر اثرانداز ہونے والا بنیادی عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ جب انسان مسلسل عدم تحفظ میں زندگی بسر کرتا ہے تو اس کی تمام ذہنی توانائیاں بقا کے مسئلے پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ تخلیقی صلاحیت، جمالیاتی حس، تنقیدی فکر اور علمی جستجو بتدریج کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ اسی حقیقت کو ماہرینِ نفسیات انسانی ضروریات کے تدریجی نظام سے بھی جوڑتے ہیں، جہاں بنیادی ضروریات پوری ہونے کے بعد ہی انسان علم، تخلیق اور خود شناسی کی طرف بڑھتا ہے۔ اس لیے بھوک صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن کے افق کو بھی محدود کر دیتی ہے۔ لیکن تاریخ اس تصور کی مکمل تائید بھی نہیں کرتی۔ ایسے بے شمار ادیب، شاعر اور مفکر گزرے ہیں جنہوں نے شدید معاشی تنگی کے باوجود ایسی کتابیں لکھیں جنہوں نے دنیا کی فکری سمت بدل دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ غربت تخلیق کے راستے میں رکاوٹ ہے، مگر انسانی ارادہ بعض اوقات اس رکاوٹ کو بھی عبور کر لیتا ہے۔ یہی ادب کا معجزہ ہے کہ وہ محرومی کو بھی معنی عطا کر دیتا ہے۔ وجودی فلسفہ بھی اسی مقام پر ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ اگر انسان سے اس کی آسائشیں، وسائل اور سہولتیں چھین لی جائیں تو کیا اس کی شناخت باقی رہتی ہے؟ ہامسن کا مرکزی کردار اسی سوال کا نمائندہ ہے۔ وہ مسلسل محرومی کے باوجود اپنے اندر موجود تخلیقی جوہر کو مرنے نہیں دیتا۔ وہ شکست کھاتا ہے، ٹوٹتا ہے، بھٹکتا ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اس کی یہی جدوجہد وجودیت کی بنیادی روح ہے کہ انسان اپنی نامساعد ترین حالت میں بھی اپنے وجود کا مفہوم تلاش کرتا رہتا ہے۔ اخلاقیات کا بحران بھی بھوک سے جدا نہیں۔ اکثر جرائم کی جڑ میں صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ معاشی محرومی بھی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت جرم کا جواز نہیں، بلکہ اس کے اسباب کی نشاندہی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو کروڑوں افراد کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھے، اسے صرف وعظ و نصیحت کے ذریعے مثالی اخلاق کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ انصاف کا آغاز عدالت سے پہلے معیشت سے ہوتا ہے۔ جب انصاف معاشی میدان میں شکست کھا جائے تو اخلاقی اقدار بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے علم کو بھی ایک قابلِ فروخت شے میں تبدیل کر دیا ہے۔ کتاب اب صرف فکری اثاثہ نہیں بلکہ منافع بخش صنعت بھی ہے۔ مہنگی اشاعت، مہنگے تعلیمی ادارے اور تحقیق کی بڑھتی ہوئی لاگت نے علم کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ علم کا یہ ارتکاز دراصل طاقت کا ارتکاز بھی ہے، کیونکہ جس کے پاس علم ہو، مستقبل بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس تناظر میں کتاب محض مطالعے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا سوال بھی بن جاتی ہے۔ ڈیجیٹل عہد نے مطالعے کی صورت ضرور بدل دی ہے، مگر اس کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ آج معلومات انگلیوں کی ایک جنبش پر دستیاب ہیں، لیکن معلومات اور علم میں بنیادی فرق ہے۔ معلومات منتشر ہوتی ہیں، علم منظم ہوتا ہے۔ معلومات حافظے میں رہتی ہیں، علم شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا لمحاتی ردِعمل پیدا کرتا ہے، جبکہ کتاب دیرپا فکر کو جنم دیتی ہے۔ اسی لیے وہ معاشرے جو صرف اسکرین پر انحصار کرنے لگتے ہیں، رفتہ رفتہ گہرے مطالعے کی صلاحیت کھونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں مطالعے کی کمزور ہوتی ہوئی روایت صرف تعلیمی بحران نہیں بلکہ تہذیبی بحران بھی ہے۔ کتاب میلوں میں ہجوم تو نظر آتا ہے، مگر سال بھر کتابوں کی دکانیں سنسان رہتی ہیں۔ لائبریریاں وسائل کی کمی کا شکار ہیں، تحقیق محدود ہو رہی ہے اور مطالعہ امتحانی ضرورت تک سمٹتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی غماز ہے کہ ہم نے کتاب کو زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ حالانکہ زندہ قومیں صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں نہیں بناتیں، بلکہ کتابیں بھی تخلیق کرتی ہیں اور انہیں پڑھتی بھی ہیں۔
جاپان، جنوبی کوریا، فن لینڈ اور کئی یورپی ممالک کی ترقی کے پس منظر میں صرف مضبوط معیشت نہیں بلکہ مضبوط مطالعہ بھی موجود ہے۔ وہاں بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے کتابوں سے دوستی سکھائی جاتی ہے۔ عوامی لائبریریاں شہری زندگی کا لازمی حصہ ہیں اور مطالعہ قومی ثقافت میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں علم معیشت کی بنیاد بنتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں معیشت اکثر علم پر بوجھ بن جاتی ہے۔
درحقیقت بھوک اور کتاب ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ روٹی انسان کو زندہ رکھتی ہے اور کتاب اس زندگی کو مقصد عطا کرتی ہے۔ بھوک اگر جسم کی ضرورت ہے تو مطالعہ روح کی غذا ہے۔ ایک معاشرہ صرف خوراک فراہم کرکے ترقی یافتہ نہیں بن سکتا، اور نہ ہی صرف کتابیں تقسیم کرکے انصاف قائم کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی ترقی وہاں جنم لیتی ہے جہاں ریاست اس امر کی ضمانت دے کہ کسی بچے کو کتاب خریدنے کے لیے اپنی روٹی قربان نہ کرنا پڑے اور کسی ماں کو اپنے بچے کی تعلیم اور اس کی خوراک میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔
سوال کتاب یا روٹی کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کا ہے جو انسان کو دونوں سے محروم کر دیتی ہے۔ جب کتابیں گھروں کی زینت نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت بن جائیں، جب مطالعہ ڈگری سے آگے بڑھ کر شعور کا وسیلہ بن جائے، اور جب معاشی انصاف ہر فرد کو باوقار زندگی کی ضمانت دے، تب ہی وہ معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں بھوک صرف معدے تک محدود رہے گی اور جہالت ہمیشہ کے لیے شکست کھا جائے گی۔ اس دن کتاب الماری کی چیز نہیں رہے گی، بلکہ قوم کی اجتماعی بصیرت، اخلاقی قوت اور تہذیبی بقا کی علامت بن جائے گی۔ |
|