نئی توانائی اور ذہین گاڑیاں، مستقبل کی سمت

نئی توانائی اور ذہین گاڑیاں، مستقبل کی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں آٹوموبائل صنعت تیزی سے نئی توانائی اور ذہین ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اب اس تبدیلی کے اثرات صرف گاڑیاں خریدنے والوں تک محدود نہیں رہے بلکہ کرایہ پر گاڑیاں فراہم کرنے والی صنعت بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ چین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کار رینٹل مارکیٹ کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ جدید، ماحول دوست اور اسمارٹ گاڑیاں تیزی سے شامل کی جا رہی ہیں۔یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی توانائی والی گاڑیاں اب آہستہ آہستہ مرکزی دھارے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کی بڑی کار رینٹل کمپنیاں اپنے بیڑوں کی ازسرِنو تشکیل کر رہی ہیں اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ حالیہ عرصے میں مختلف کمپنیوں نے ہزاروں نئی گاڑیاں اپنے بیڑوں میں شامل کی ہیں تاکہ صارفین کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

بعض بڑی کار رینٹل کمپنیوں نے گزشتہ برس خریدی جانے والی نئی گاڑیوں میں تقریباً نصف حصہ نئی توانائی والی گاڑیوں پر مشتمل رکھا، جبکہ دیگر کمپنیوں نے بھی متعدد معروف چینی برانڈز کی اسمارٹ گاڑیوں کو روزمرہ کرایہ کی خدمات میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔

کار رینٹل کی خدمات صرف گاڑیوں کی تبدیلی تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہیں مزید ذہین اور جدید بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ کئی کمپنیوں نے اپنی موبائل ایپلی کیشنز میں ایسے خصوصی فیچرز متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے صارفین مختلف نئی توانائی والی گاڑیوں کا موازنہ، ذہین ڈرائیونگ کی خصوصیات، سفارشات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رہنمائی ایک ہی پلیٹ فارم پر حاصل کر سکتے ہیں۔

اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ نئی توانائی والی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، جبکہ دوسری وجہ صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ اب بہت سے لوگ گاڑی خریدنے سے پہلے اسے کرایہ پر لے کر اس کی ذہین ڈرائیونگ، بیٹری کی کارکردگی، سفر کے اخراجات اور مجموعی تجربے کا عملی جائزہ لینا چاہتے ہیں۔


خصوصاً تعطیلات اور سیاحتی سفر کے دوران نئی توانائی والی گاڑیوں کو کرایہ پر لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر صارفین بعد میں اپنی ذاتی گاڑی خریدنے کا فیصلہ بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ کر سکتے ہیں۔چند سال پہلے تک گاڑی خریدتے وقت زیادہ تر توجہ گاڑی کی جگہ، آرام اور بنیادی سہولتوں پر ہوتی تھی، لیکن اب ذہین ڈرائیونگ، مصنوعی ذہانت، خودکار معاون نظام اور ڈیجیٹل فیچرز نوجوان صارفین کی ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں۔

چین کی دوہری کاربن حکمت عملی، جس کے تحت 2030 سے پہلے کاربن اخراج کی بلند ترین سطح حاصل کرنے اور 2060 سے پہلے کاربن نیوٹرل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، بھی اس تبدیلی کا ایک اہم محرک ہے۔ اسی پالیسی کے تحت بعض علاقوں میں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے گاڑیوں کے بیڑوں میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا مخصوص تناسب برقرار رکھنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ امر غورطلب ہے کہ اب نئی توانائی والی گاڑیوں کو شامل کرنا صرف کاروباری برتری کا ذریعہ نہیں بلکہ بہت سے معاملات میں قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی بنیادی ضرورت بھی بنتا جا رہا ہے۔مستقبل میں کار رینٹل کا شعبہ صرف گاڑی فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چارجنگ، پارکنگ، سیاحت، ذہین سفری منصوبہ بندی اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کو بھی ایک مربوط نظام کے تحت پیش کرے گا تاکہ صارفین کو آغاز سے اختتام تک بہتر سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

عالمی سطح پر بھی آٹوموبائل صنعت تیزی سے نئی توانائی اور ذہین ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور چین میں کار رینٹل کمپنیوں کی موجودہ حکمت عملی اسی عالمی رجحان کی عکاس ہے۔ آنے والے برسوں میں اس شعبے میں مقابلہ صرف کرایوں کی قیمتوں پر نہیں ہوگا بلکہ ذہین خدمات، ماحول دوست گاڑیوں، جدید ٹیکنالوجی اور جامع سفری سہولتوں کی فراہمی کامیابی کا اصل معیار بنے گی۔

چین کا موجودہ تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب قومی پالیسی، صنعتی جدت اور صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں تو روایتی کاروباری شعبے بھی تیزی سے جدید شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ نئی توانائی اور ذہین ٹیکنالوجی پر مبنی کار رینٹل کا یہ ماڈل نہ صرف ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ دے رہا ہے بلکہ مستقبل کی اسمارٹ سفری معیشت کی بنیاد بھی مضبوط کر رہا ہے۔ 

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1914 Articles with 1138686 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More