آزادی کی آخری چودہ منزلیں
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
اگست 1947ء کی ایک رات تھی۔ دہلی کی فضا غیر معمولی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی، مگر اس خاموشی کے نیچے تاریخ کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں۔ سرکاری عمارتوں میں چراغ دیر تک روشن تھے، میزوں پر بکھرے نقشے بار بار کھولے اور بند کیے جا رہے تھے، قلم مسلسل فیصلے لکھ رہے تھے، اور گھڑی کی ہر سوئی ایک ایسی سلطنت کی آخری سانسیں گن رہی تھی جس نے تقریباً دو صدیوں تک برصغیر پر حکومت کی تھی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ اگلے چند دنوں میں اس کا گھر کس ملک میں ہوگا، اس کی ملازمت کس حکومت کے ماتحت ہوگی، اس کی زمین کس سرحد کے پار رہ جائے گی، اور شاید وہ خود زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔
یہ صرف کیلنڈر کے چودہ دن نہیں تھے؛ یہ وہ چودہ منزلیں تھیں جن سے گزرتے ہوئے ایک خواب ریاست بنا، ایک سلطنت تاریخ بن گئی، کروڑوں انسان مہاجر کہلائے، اور جنوبی ایشیا کا سیاسی، جغرافیائی اور تہذیبی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ ان دنوں میں جشن بھی تھا، اضطراب بھی؛ امید بھی تھی، خوف بھی؛ آزادی کی نوید بھی تھی اور جدائی کا کرب بھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 1947ء کے یہ آخری چودہ دن انسانی تاریخ کے ان نادر ترین ادوار میں شمار ہوتے ہیں جن میں مسرت اور المیہ ایک ہی لمحے میں جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہم آزادی کو اکثر صرف 14 اگست کی تقریبات، سبز ہلالی پرچموں، ملی نغموں اور آتش بازی تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ اصل کہانی اس سے پہلے کے ان چودہ دنوں میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ ایام تھے جب ریاستیں کاغذ پر نہیں بلکہ فیصلوں، قربانیوں، اضطراب اور عزم سے وجود میں آ رہی تھیں۔ اگر ہم پاکستان کے قیام کی حقیقی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں جشن کے دن سے ایک قدم پیچھے جا کر ان آخری چودہ منزلوں کا سفر کرنا ہوگا، جہاں آزادی ابھی افق پر طلوع ہونے والی تھی، مگر تاریخ اپنا سب سے بڑا فیصلہ لکھ چکی تھی۔ قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات چند دن صدیوں پر محیط جدوجہد کا نچوڑ بن جاتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یکم اگست سے 14 اگست 1947ء تک کا عرصہ بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کن دور تھا۔ یہ صرف چودہ دن نہیں تھے بلکہ وہ تاریخی لمحے تھے جن میں ایک عظیم سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی، ایک نئی ریاست وجود میں آئی، کروڑوں انسانوں کی قسمت بدلی اور جنوبی ایشیا کی سیاست ہمیشہ کے لیے ایک نئے رخ پر گامزن ہوگئی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کی تاریخ کو اکثر صرف 14 اگست کے جشن، ملی نغموں اور رسمی تقریبات تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ آزادی کے ان آخری چودہ دنوں کا مطالعہ کیے بغیر نہ پاکستان کے قیام کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی ابتدائی مشکلات کا ادراک ممکن ہے۔
3 جون 1947ء کو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیمِ ہند کا منصوبہ پیش کیا، جسے بعد ازاں برطانوی پارلیمنٹ نے Indian Independence Act 1947 کی صورت میں قانونی حیثیت عطا کی۔ اس قانون کے مطابق برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہونا تھا اور برصغیر دو آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم ہونا تھا۔ بظاہر یہ ایک آئینی کارروائی تھی، لیکن عملی سطح پر یہ جدید تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی، سیاسی اور انسانی چیلنج ثابت ہوئی۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ برطانیہ نے اقتدار کی منتقلی کی رفتار اس حد تک تیز کر دی کہ انتظامی تیاری اور عوامی تحفظ دونوں متاثر ہوئے۔ ان کے نزدیک تقسیم کی عجلت نے انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیا۔
یکم اگست 1947ء تک پاکستان کا قیام صرف دو ہفتے کی دوری پر تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ نئی ریاست کا بیشتر انتظامی ڈھانچہ ابھی تشکیل کے مراحل میں تھا۔ نہ مستقل دارالحکومت پوری طرح فعال تھا، نہ مرکزی سیکرٹریٹ، نہ اسٹیٹ بینک وجود میں آیا تھا اور نہ ہی پاکستان کی اپنی کرنسی جاری ہوئی تھی۔ متحدہ ہندوستان کے خزانے، فوج، ریل، ڈاک، ٹیلی گراف، اسلحہ، سرکاری عمارتوں، عدلیہ، سول سروس اور مالی وسائل کی تقسیم کا عمل جاری تھا۔ چودھری محمد علی، جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے، اپنی معروف کتاب The Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ نئی ریاست کو سب سے پہلے ریاستی اداروں کی تخلیق کا امتحان درپیش تھا، کیونکہ آزادی کے ساتھ ہی اسے حکمرانی کی پوری ذمہ داری سنبھالنی تھی۔
ان دنوں دہلی، شملہ اور کراچی مسلسل سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ تقسیمِ ہند کونسل (Partition Council) روزانہ اجلاس منعقد کر رہی تھی۔ ہر اجلاس میں درجنوں پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آتے۔ ریلوے کے انجن کس ریاست کو ملیں گے؟ فوجی یونٹ کس طرح تقسیم ہوں گے؟ سرکاری ملازمین کہاں جائیں گے؟ مالی ذخائر کی تقسیم کس تناسب سے ہوگی؟ یہ ایسے سوالات تھے جن کا تعلق صرف کاغذی فیصلوں سے نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی سے تھا۔
ادھر پنجاب اور بنگال کی فضا مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی تھی۔ ریڈکلف باؤنڈری کمیشن اپنی رپورٹ مکمل کر چکا تھا، لیکن اس کے نتائج کو خفیہ رکھا گیا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا شہر، ان کا گاؤں یا ان کی زمین کس ملک کا حصہ بننے والی ہے۔ یہی غیر یقینی خوف میں بدل گئی۔ ایان ٹالبوٹ اپنی کتاب Pakistan: A Modern History میں لکھتے ہیں کہ اگست 1947ء کے ابتدائی دنوں میں ہی لاکھوں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی تھی، حالانکہ سرحدیں ابھی باضابطہ طور پر اعلان نہیں ہوئی تھیں۔ یہ غیر یقینی بعد ازاں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت میں تبدیل ہوئی۔
اس پس منظر میں قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ عائشہ جلال اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Sole Spokesman میں لکھتی ہیں کہ قائداعظم کی پوری توجہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل پر تھی جو محض جغرافیہ نہ ہو بلکہ آئینی اصولوں، قانون کی حکمرانی اور شہری مساوات پر قائم ہو۔ ان کے نزدیک پاکستان کا تصور ابتدا ہی سے ایک منظم اور ذمہ دار ریاست کا تصور تھا، نہ کہ محض ایک مذہبی جذبات کا اظہار۔
یکم سے سات اگست تک قائداعظم دہلی میں انتہائی مصروف رہے۔ نئی کابینہ کی تشکیل، گورنر جنرل کے اختیارات، اعلیٰ سول افسران کی تقرری، فوجی قیادت، دستور ساز اسمبلی کے اجلاس کی تیاری اور بے شمار انتظامی امور ان کی توجہ کا مرکز تھے۔ انہی دنوں انہیں پاکستان کی معاشی مشکلات سے بھی آگاہ کیا جا رہا تھا۔ متحدہ ہندوستان کے مالی ذخائر میں پاکستان کا حصہ طے ہو چکا تھا، مگر اس کی منتقلی میں تاخیر ہو رہی تھی۔ بعد کے برسوں میں یہی مسئلہ دونوں نئی ریاستوں کے درمیان اختلاف کا ایک اہم سبب بنا۔
7 اگست 1947ء آزادی کے سفر کا ایک علامتی دن تھا۔ اسی روز قائداعظم دہلی سے کراچی روانہ ہوئے۔ یہ صرف ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سیاسی جدوجہد کا نقطۂ عروج تھا جو تقریباً چار دہائیوں پر محیط تھی۔ کراچی ائیرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال ہوا۔ لاکھوں نگاہیں اس شخص کو دیکھ رہی تھیں جس نے آئینی جدوجہد، سیاسی بصیرت اور غیر معمولی استقامت کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا۔
اسٹینلے وولپرٹ نے اپنی معروف سوانح Jinnah of Pakistan میں قائداعظم کے بارے میں لکھا ہے کہ تاریخ میں بہت کم افراد ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے دنیا کا نقشہ بدل دیا ہو۔ یہ رائے مبالغہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کا قیام بیسویں صدی کے سب سے اہم جغرافیائی اور سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن قائداعظم اس استقبال کی چمک دمک سے زیادہ آنے والے امتحانات سے آگاہ تھے۔ ان کے سامنے ایک ایسی ریاست تھی جس کے پاس وسائل کم اور ذمہ داریاں بے شمار تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ آزادی صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی پہنچنے کے فوراً بعد انہوں نے تقریبات کے بجائے ریاستی اداروں کی تشکیل، کابینہ کے اجلاسوں اور دستور ساز اسمبلی کی تیاری کو ترجیح دی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی کا رومان حقیقت سے آ ملتا ہے۔ ایک طرف قوم آزادی کی خوشی منانے کی تیاری کر رہی تھی، دوسری طرف پنجاب کی سڑکوں پر ہجرت کے قافلے روانہ ہو چکے تھے۔ ایک طرف نئی ریاست کا پرچم تیار ہو رہا تھا، دوسری طرف بے شمار خاندان اپنے گھروں کو آخری بار دیکھ رہے تھے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ تضاد ہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ آزادی اور ہجرت، امید اور المیہ، جشن اور جدائی ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہوئے۔
اس پس منظر کو سمجھے بغیر 14 اگست کی حقیقی معنویت کا ادراک ممکن نہیں۔ آزادی کسی ایک دن کا معجزہ نہیں تھی بلکہ آخری چودہ دنوں کی وہ مسلسل جدوجہد تھی جس میں ریاست سازی، سفارت کاری، آئینی فیصلے، انتظامی تقسیم، عوامی اضطراب اور قومی امیدیں ایک ساتھ حرکت کر رہی تھیں۔
یکم اگست سے 14 اگست 1947ء تک: آزادی کے سفر کی آخری چودہ منزلیں آزادی کی آمد جوں جوں قریب آ رہی تھی، حالات کی نزاکت بھی اسی رفتار سے بڑھ رہی تھی۔ 8 اگست سے 14 اگست 1947ء تک کا ہر دن تاریخ کے اوراق پر ایک نئی سطر رقم کر رہا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب ایک طرف پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور دوسری طرف پنجاب اور بنگال کی زمین خون اور ہجرت کی دردناک داستان رقم کر رہی تھی۔ آزادی کی خوشی اور انسانی المیے کا یہ امتزاج بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
کراچی میں قائداعظم محمد علی جناح کی مصروفیات غیر معمولی تھیں۔ گورنر جنرل کی حیثیت سے انہیں ایک ایسی ریاست کی ذمہ داری سنبھالنی تھی جس کے پاس نہ مکمل انتظامی مشینری تھی، نہ مستحکم معیشت، نہ آزاد مرکزی بینک اور نہ ہی لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری کا کوئی آزمودہ نظام۔ چودھری محمد علی اپنی کتاب The Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی حکومت کو بیک وقت ریاست کی تشکیل، انتظامی استحکام، مالی بحران اور مہاجرین کی آبادکاری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
11 اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اسی اجلاس میں قائداعظم کو متفقہ طور پر اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے وہ تاریخی خطاب کیا جو آج بھی پاکستان کی آئینی اور سیاسی فکر کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی، اقربا پروری، رشوت اور ذخیرہ اندوزی کو ریاست کے لیے زہر قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ ان کے الفاظ کہ "آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے" ریاست کے اس تصور کی عکاسی کرتے ہیں جس کی بنیاد شہری مساوات اور مذہبی آزادی پر رکھی جا رہی تھی۔ یہ تقریر آج بھی سیاسی، آئینی اور قانونی مباحث میں بنیادی حوالہ تصور کی جاتی ہے۔
عائشہ جلال اس خطاب کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ قائداعظم کی نظر میں پاکستان کی کامیابی کا انحصار مذہبی نعروں پر نہیں بلکہ مضبوط اداروں، آئینی بالادستی اور ذمہ دار شہریوں پر تھا۔ ان کے نزدیک اگر نئی ریاست قانون کی حکمرانی قائم نہ کر پاتی تو آزادی اپنی معنویت کھو دیتی۔ یہی نکتہ آج بھی پاکستان کے سیاسی سفر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ان ایام میں ایک اور اہم حقیقت یہ تھی کہ ریڈکلف باؤنڈری کمیشن اپنی رپورٹ مکمل کر چکا تھا، لیکن اس کا اعلان مؤخر رکھا گیا۔ تاریخ دان ایان ٹالبوٹ اور یاسمین خان اس فیصلے کو تقسیم کے سب سے متنازع پہلوؤں میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر سرحدوں کا اعلان بروقت کر دیا جاتا تو شاید بے یقینی اور افواہوں میں کسی حد تک کمی آ سکتی تھی، اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سے تشدد مکمل طور پر رک جاتا۔
13 اگست تک کراچی عملی طور پر نئی ریاست کا دارالحکومت بن چکا تھا۔ سرکاری عمارتوں پر تیاریاں جاری تھیں، دستور ساز اسمبلی کے اجلاس مکمل ہو چکے تھے، گورنر جنرل ہاؤس سرگرمیوں کا مرکز تھا، اور دنیا بھر کی نظریں اس نئی ریاست پر مرکوز تھیں جو اگلے روز عالمی نقشے پر ابھرنے والی تھی۔ لیکن اسی وقت پنجاب کی سرحدوں پر مہاجرین کے قافلے مسلسل رواں تھے۔ ٹرینیں خوف، بے یقینی اور امید کو ایک ساتھ اپنے ساتھ لے جا رہی تھیں۔ بہت سی ٹرینیں منزل تک پہنچیں، بہت سی راستے ہی میں تشدد کا شکار ہوئیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آزادی کے جشن کے ساتھ انسانی دکھ کو بھی ہمیشہ کے لیے جوڑ دیتی ہے۔
14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ کراچی میں دستور ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں اقتدار کی منتقلی کے مراحل مکمل ہوئے، سبز ہلالی پرچم پہلی بار سرکاری طور پر لہرایا گیا اور قائداعظم نے گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھالے۔ یہ لمحہ برصغیر کے مسلمانوں کی نصف صدی سے زیادہ طویل سیاسی جدوجہد کی تکمیل تھا۔ مگر اس آزادی کے ساتھ ہی ایک نئے امتحان کا آغاز بھی ہوا۔
کے۔ کے۔ عزیز اپنی تصانیف میں اس امر پر زور دیتے ہیں کہ آزادی کے بعد پاکستان کی تاریخ کو صرف جذباتی بیانیے سے نہیں بلکہ تنقیدی تاریخی شعور کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا بھی دیانت داری سے جائزہ لیں۔ آزادی کا جشن ضروری ہے، مگر آزادی کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اسٹینلے وولپرٹ اپنی سوانح Jinnah of Pakistan کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ پاکستان حاصل کرنا ایک عظیم کامیابی ہے، لیکن اسے ایک مستحکم، منصف اور ترقی یافتہ ریاست بنانا آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہوگی۔ یہ جملہ درحقیقت آج کے پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا 1947ء میں تھا۔
اگر یکم اگست سے 14 اگست 1947ء تک کے ان ایام کو تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آزادی محض اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھی۔ یہ ریاست سازی (State Building)، آئینی تشکیل (Constitutional Development)، انتظامی تنظیم (Administrative Reconstruction) اور قومی شناخت (National Identity) کے بیک وقت آغاز کا عمل تھا۔ پاکستان ایک ایسے وقت میں وجود میں آیا جب اس کے سامنے معاشی مشکلات، انتظامی قلت، مہاجرین کی آبادکاری، سرحدی تنازعات اور ادارہ سازی جیسے بے شمار چیلنج موجود تھے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ریاست نے اپنے وجود کو برقرار رکھا اور آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا۔
آج جب ہر سال اگست کی آمد پر سبز ہلالی پرچم فضاؤں میں لہراتا ہے، ملی نغمے گونجتے ہیں اور آزادی کا جشن منایا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ ہم صرف جشن کی چکاچوند تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان آخری چودہ دنوں کو بھی یاد رکھیں جن میں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دن تھے جن میں قائداعظم کی بصیرت، لاکھوں مہاجرین کی قربانیاں، گمنام کارکنوں کی خدمات، سیاسی استقامت اور عوامی عزم ایک نئی ریاست کی صورت میں ڈھل گئے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ آزادی کبھی مفت نہیں ملتی، اور نہ ہی صرف ایک دن کی تقریب سے محفوظ رہتی ہے۔ اسے ہر نسل اپنے کردار، دیانت، قانون کی پاسداری، قومی اتحاد اور اجتماعی شعور سے زندہ رکھتی ہے۔ اگر ہم نے 1947ء کے ان آخری چودہ دنوں کے حقیقی اسباق کو سمجھ لیا تو شاید ہم آزادی کے جشن کو صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک زندہ قومی عہد میں بدل سکیں۔ یہی ان تاریخی دنوں کا سب سے بڑا پیغام ہے، اور یہی پاکستان کے مستقبل کی حقیقی ضمانت بھی۔ |
|