(Umme Aimen, Lahore) کیا پاکستانی یونیورسٹیوں میں کلاسز یا لیکچر کے اوقات کے درمیان دیے جانے والے طویل وقفے طلبہ کے لیے نقصان دہ ہیں یا فائدہ مند؟ کتنے ہی فوائد کیوں نہ ہوں، مگر نقصانات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے، اور اس بات سے والدین اور خود طالب علم بھی متفق ہوں گے۔ گورنمنٹ یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر تقریباً سبھی پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور بعض کالجوں میں یہی طریقۂ کار رائج ہے۔ عموماً صبح آٹھ بجے کے قریب پہلا لیکچر ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد دو سے تین گھنٹے، جبکہ بعض اوقات چار گھنٹے تک کا وقفہ دے دیا جاتا ہے۔ دوسرے لیکچر کے بعد بھی یہی سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ یہ طویل وقفوں کا نظام طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جس کا تجزیہ ضروری ہے۔ یہ وقفے نہ صرف وقت کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں بلکہ طلبہ کی توجہ، تعلیمی سنجیدگی اور تعلیمی تسلسل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ نظام طلبہ کو یونیورسٹی آنے کے اصل مقصد یعنی تعلیم حاصل کرنے سے دور کر دیتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب دوسرا لیکچر چار گھنٹے بعد ہو، تو اتنی دیر فراغت یا غیر نصابی سرگرمیوں میں وقت گزارنے کے بعد طالب علم کی دوبارہ کلاس لینے میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ پڑھنے والا بچہ بھی ایسے نظام کی وجہ سے پڑھائی سے دور ہونے لگتا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس صورتحال میں طلبہ کی لاپرواہی کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے نظام کا بھی کردار موجود ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ چار گھنٹے بعد دوسرے لیکچر کا ہونا طلبہ کی تعلیمی دلچسپی کو متاثر کرتا ہے۔ ان تین سے چار گھنٹوں کے دوران طلبہ خود کو فارغ محسوس کرنے لگتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی تعلیمی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی کے احاطے سے باہر زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں۔ حاضری کی کمی کے باعث سمسٹر ریپیٹ کرنا ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اس نظام کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ کلاسیں لینے کے بجائے طلبہ دیگر سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں، جو اکثر والدین کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہیں۔ یوں طلبہ کی توجہ تعلیمی سرگرمیوں سے ہٹنے لگتی ہے۔
یہاں ان منفی اثرات کے ساتھ ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ طلبہ کو یونیورسٹی میں پورا دن گزارنا پڑتا ہے۔ اگر یہی تین سے چار لیکچرز بلاناغہ ایک ساتھ 3 سے 5 گھنٹوں کے دوران لیے جائیں اور ان کے درمیان 15 منٹ کا وقفہ دیا جائے، جیسا کہ گورنمنٹ یونیورسٹیوں میں دیا جاتا ہے، تو طلبہ کے پاس باقی کا پورا دن بچتا ہے۔ اگر صبح کے لیکچرز ہوں تو سارا دن مل جائے گا، اور اگر شام کے لیکچرز ہوں تو صبح 8 سے 2 تک کا وقت مل جائے گا۔ والدین کو بھی معلوم ہوگا کہ ان کے بچے کس وقت اپنی کلاس لیتے ہیں اور کب ان کی یونیورسٹی ختم ہوتی ہے۔ کافی طلبہ خود اس شیڈول سے تنگ ہیں۔ نہ وہ کوئی پارٹ ٹائم جاب کر سکتے ہیں، نہ انٹرنشپ، اور نہ ہی تحقیق کا حصہ بن پاتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں سمسٹر بریک کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ ایک مقررہ وقت پر لیکچرز ہونے سے وہ اپنا سال زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں، مختلف مہارتیں سیکھ سکتے ہیں اور اپنی فیلڈ کے مطابق مارکیٹ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس طرز کے شیڈول کے کئی نقصانات ہیں۔ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے کہ بہت سے والدین اور ان کے بچوں پر اس کا کتنا برا اثر ہوا ہے اور انہیں اپنی تعلیم کے دوران کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس شیڈول کے حق میں بھی بہت سے دلائل سننے کو ملتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بعض کورسز صرف مخصوص اوقات میں ہی دستیاب ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا شیڈول اساتذہ کی دستیابی، کلاس رومز کے انتظام اور متعلقہ مضامین کے مقررہ اوقات کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ اگر طلبہ کے مطلوبہ یا ضروری مضامین کے اوقات ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے تو اس سے لمبے وقفے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً، اگر ایک طالب علم کی صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کلاس ہے اور اس کے بعد دوسرا مضمون 2 بجے سے 4 بجے تک ہے، تو اسے 11 بجے سے 2 بجے تک تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود طلباء کو پھر بھی ان پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں کیوں بھیجا جاتا ہے؟ تو وجہ یہ ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں سیٹوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور گنتی میں چند ہی یونیورسٹیاں ہیں جو اچھے معیار کی ہوتی ہیں۔ اگر اس پر توجہ دی جائے تو پاکستان میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ایک سمسٹر کی اوسط فیس 2 سے 3 لاکھ روپے ہوتی ہے۔ اتنی فیس دینے کے باوجود بھی والدین یہی چاہیں گے کہ ان کا بچہ مکمل توجہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرے اور یونیورسٹیوں کو اس نظام کے لوپ ہول کو سمجھنا چاہیے۔ اس نظام سے پیدا ہونے والی طلبہ کی منفی عادات کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ کہنا کہ تربیت گھر میں ہوتی ہے اور یونیورسٹیاں اخلاقی اقدار کی ذمہ دار نہیں ہیں، ایک سطحی دلیل (Argument) ہے جو مسئلے کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے طلبہ کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ مضامین کے اوقات کو بہتر طور پر ترتیب دیں تاکہ اس طرح کے وقفے ختم ہوں، جس سے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکے۔ |