20 ملین لوگوں کا ھدف: عربی اور قرآن ساتھ ساتھ
(Dr wali khan muzaffar, Karachi)
اس ایپ پر ابتک دس لاکھ ڈالر کا خرچہ ہوچکا ہے ، گوگل ،اے آئی اور میٹا سے معاہدے بھ ہوچکے ہیں الحمد للہ دوسو کے قریب ملکوں تمام موبائلز گوگل پلے سٹور کے ذریعے ایویلیبل ہے۔ پف جی اور فری فائر کی طرح گیم ہے، 77 ہزار قرآنی الفاظ پر کام ہوجکا ہے عربی اردو پشتو فارسی کام ہوچکا ہے، ترکی ملائشین پر آج سے ابتدا ہوئی ہے الحمد للہ تعالی اسی میں اب جامعة القراءات الرقمية Digital university of qira,at پر مفصل میٹنگ بھی ہوئی |
|
NorAi — قرآن اور عربی کو دنیا کے ہر انسان تک پہنچانے کا ایک نیا راستہ
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تعلیم اور تفاعلی ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ آج علم صرف کتاب، تختۂ سیاہ اور روایتی کلاس روم تک محدود نہیں رہا؛ موبائل فون خود ایک مدرسہ، ایک استاد اور ایک مکمل تعلیمی ماحول بنتا جارہا ہے۔ ایسے عہد میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور عربی زبان کو اس نئی دنیا میں کس طرح مؤثر، آسان اور دل چسپ انداز سے پیش کیا جائے؟
میرے نزدیک NorAi اسی سوال کا ایک جدید جواب ہے۔
قرآن اور عربی — ساتھ ساتھ
NorAi کا بنیادی تصور نہایت سادہ مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے:
قرآن سیکھیں، عربی سمجھیں؛ عربی سیکھیں، قرآن سے قریب ہوں۔
صدیوں سے مسلمان قرآنِ کریم پڑھتے اور حفظ کرتے آئے ہیں، لیکن غیر عرب معاشروں میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو قرآن پڑھ تو سکتی ہے مگر اس کے الفاظ اور جملوں کو براہِ راست سمجھ نہیں پاتی۔ دوسری طرف عربی زبان کی تدریس بعض اوقات قواعد، اصطلاحات اور طویل نصابی مراحل میں ایسی الجھ جاتی ہے کہ طالب علم زبان کو ایک زندہ وسیلۂ ابلاغ کے بجائے ایک مشکل علمی مضمون سمجھنے لگتا ہے۔
NorAi اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ، مفردات، تراکیب اور بنیادی عربی کو ایسے تفاعلی ماحول میں پیش کیا جائے جہاں طالب علم محض پڑھنے والا نہ ہو بلکہ دیکھے، سنے، پہچانے، جواب دے، کھیلے، غلطی کرے، دوبارہ کوشش کرے اور بتدریج سیکھتا چلا جائے۔
گیم نہیں، تعلیم کو گیم کی قوت دینا
نئی نسل کی نفسیات بدل چکی ہے۔ وہ طویل یک طرفہ لیکچر کے مقابلے میں مختصر، بصری اور تفاعلی مواد سے زیادہ تیزی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے ہم نوجوانوں کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں کرسکتے؛ البتہ ٹیکنالوجی کو علم، زبان اور قرآن کی خدمت میں ضرور لاسکتے ہیں۔
NorAi میں Gamification کا تصور اسی لیے اہم ہے۔ قرآنی مفردات کی پہچان، معانی کا انتخاب، لفظ اور تصویر کا تعلق، سماعت و تلفظ، مختصر مشقیں، درجات اور تعلیمی اہداف—یہ سب طالب علم کو مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک دے سکتے ہیں۔
یعنی مقصد قرآن کو کھیل بنانا نہیں؛ بلکہ تعلیم کو اتنا دل چسپ بنانا ہے کہ سیکھنے والا کھیل کی سی رغبت کے ساتھ علم کی طرف آئے۔
مصنوعی ذہانت: استاد کی جگہ نہیں، استاد کی قوت
AI کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ اسے ہر مسئلے کا حل سمجھتا ہے اور دوسرا اسے تعلیمی روایت کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ میرے نزدیک درست راستہ درمیان کا ہے۔
مصنوعی ذہانت استاد کا متبادل نہیں؛ ایک اچھے استاد کے ہاتھ میں ایک طاقت ور معاون ہے۔
اگر AI یہ سمجھ سکے کہ طالب علم کون سا لفظ بار بار بھول رہا ہے، کہاں تلفظ میں مشکل محسوس کررہا ہے، کس درجے کی مشق اس کے لیے موزوں ہے اور کن قرآنی مفردات کو دوبارہ دہرانے کی ضرورت ہے، تو ہر طالب علم کے لیے تعلیم زیادہ شخصی، منظم اور مؤثر ہوسکتی ہے۔
یہی وہ میدان ہے جہاں NorAi مستقبل میں قرآن و عربی کی تعلیم کے لیے ایک وسیع ڈیجیٹل تعلیمی نظام کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
بیس ملین افراد — صرف آغاز
NorAi کے لیے ہمارا ابتدائی تصور چھوٹا نہیں:
20 ملین افراد تک قرآن اور عربی پہنچانا۔
لیکن میں بیس ملین کو منزل نہیں سمجھتا؛ یہ پہلا سنگِ میل ہے۔
دنیا میں اربوں انسان موبائل اور ڈیجیٹل ذرائع استعمال کررہے ہیں۔ اگر تفریح، تجارت، کھیل اور سوشل میڈیا چند لمحوں میں دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ سکتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ قرآن کی زبان کیوں نہیں؟
ہمیں عربی کو صرف عرب ممالک کی جغرافیائی زبان سمجھنے کی سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ عربی قرآن کی زبان ہے، اسلامی علمی ورثے کی زبان ہے اور ایک عالمی تہذیبی زبان بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
میری فکر کو میں ایک تعبیر میں بیان کرتا ہوں:
عولمة اللغة العربية — عربی زبان کو عالمی بنانا
NorAi اسی بڑے تصور کا ایک ڈیجیٹل دروازہ بن سکتا ہے۔
مدرسے سے موبائل تک
ہمیں یہ غلط فہمی بھی ختم کرنا ہوگی کہ ڈیجیٹل تعلیم روایتی مدرسے، مکتب، اسکول یا استاد کی حریف ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
مدرسہ بنیاد فراہم کرتا ہے، استاد تربیت کرتا ہے، کتاب علمی گہرائی دیتی ہے اور ٹیکنالوجی اس علم کی رسائی کو وسیع کرتی ہے۔
ہمیں انتخاب مدرسہ یا موبائل کے درمیان نہیں کرنا؛ ہمیں مدرسے سے موبائل تک ایک مربوط تعلیمی نظام قائم کرنا ہے۔
ایک استاد چند درجن یا چند سو طلبہ کو پڑھا سکتا ہے، ایک عظیم ادارہ ہزاروں کو تعلیم دے سکتا ہے، مگر ایک معیاری ڈیجیٹل نظام بیک وقت لاکھوں انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
یہی NorAi کی اصل قوت ہوسکتی ہے۔
دنیا کے ہر انسان تک قرآن اور عربی کا راستہ
میرا خواب یہ ہے کہ افریقہ کے کسی گاؤں کا بچہ ہو، پاکستان کا طالب علم، ترکیہ کا نوجوان، انڈونیشیا کا مسلمان، یورپ کا نو مسلم یا امریکہ کا کوئی ایسا شخص جو پہلی مرتبہ قرآن کو سمجھنا چاہتا ہو—وہ اپنے موبائل پر چند لمحوں میں قرآن کی عربی سیکھنے کا سفر شروع کرسکے۔
زبان، ملک، عمر اور تعلیمی پس منظر اس کے راستے کی دیوار نہ بنیں۔
**NorAi محض ایک App |