تحریکِ پاکستان سے آزادیِ پاکستان تک
(Hafiz Mohammad Siddiq Madani, Chaman)
|
تحریکِ پاکستان سے آزادیِ پاکستان تک
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی ۔۔۔۔ چمن قوموں کی زندگی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ ان کی شناخت، فکر اور مستقبل کا رخ بھی متعین کرتے ہیں۔ پاکستان کا قیام بھی ایک ایسا ہی تاریخی واقعہ ہے جس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، دینی اور فکری جدوجہد کارفرما تھی۔ اس جدوجہد کو سمجھنے کے لیے صرف واقعات کا مطالعہ کافی نہیں بلکہ ان نظریات اور مقاصد کو بھی جاننا ضروری ہے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے مطالبے پر متحد کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ممتاز عالم دین مولانا محمد الیاس گھمن اپنے ایک کتاب میرا پاکستان میں بیان کیے گئے تاریخی واقعات اور فکری نکات اس تحریک کو ایک خاص زاویۂ نظر سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ برصغیر صدیوں تک مسلمانوں کی سیاسی، علمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز رہا لیکن وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال اور انگریز اقتدار کے استحکام نے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو کمزور کر دیا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد تو مسلمانوں کو خصوصی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریز حکومت انہیں بغاوت کا اصل ذمہ دار سمجھتی تھی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی سیاسی، تعلیمی اور معاشی حالت بری طرح متاثر ہوئی۔ ایسے ماحول میں یہ احساس شدت اختیار کرنے لگا کہ اگر مسلمان اپنی شناخت اور دینی اقدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اجتماعی سطح پر منظم ہونا ہوگا۔ اسی دور میں مسلمانوں کے اندر فکری بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ اہلِ علم، دینی رہنما، سیاسی قائدین اور مصلحین نے مختلف انداز میں قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ کسی نے تعلیم پر زور دیا، کسی نے دینی شعور کو زندہ رکھا اور کسی نے سیاسی حقوق کی حفاظت کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ اگرچہ ان کے طریقۂ کار مختلف تھے، لیکن مقصد ایک ہی تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنی حیثیت کو پہچانیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے قابل بنیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت مزید واضح ہوتی گئی کہ مسلمان محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک جداگانہ تہذیب، تاریخ، ثقافت اور اجتماعی نظام رکھنے والی قوم ہیں۔ ان کے عقائد، معاشرت، خاندانی قوانین اور تہذیبی روایات اکثریتی آبادی سے مختلف تھیں۔ یہی احساس آگے چل کر دو قومی نظریے کی بنیاد بنا، جس نے تحریکِ پاکستان کو ایک مضبوط فکری سمت عطا کی۔ اس زمانے میں متعدد جید علماء کرام نے بھی مسلمانوں کی رہنمائی کی اور اس بات پر زور دیا کہ قوم اپنی دینی شناخت اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھے۔ کتاب میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے افکار اور ان کی اس خواہش کا ذکر ملتا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا ماحول میسر آئے جہاں وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کو منظم کر سکیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور منظم قیادت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں میں ایک نئی امید جنم لینے لگی۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر وہ متحد رہیں، اپنی قیادت پر اعتماد کریں اور اپنے مقصد پر ثابت قدم رہیں تو وہ اپنے لیے ایک محفوظ اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یہی احساس بعد میں ایک ایسی قومی تحریک میں تبدیل ہوا جس نے برصغیر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ تحریکِ پاکستان کا سفر کسی ایک دن یا ایک فیصلے سے شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ برسوں کی فکری تیاری، دینی رہنمائی، سیاسی جدوجہد اور عوامی شعور کا نتیجہ تھا۔ اسی تدریجی عمل نے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی ایسی خواہش پیدا کی جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک ناقابلِ تردید قومی مطالبے کی صورت اختیار کر گئی۔ 1857ء کے بعد مسلمان سیاسی طور پر کمزور ضرور ہوئے لیکن ان کے اندر اپنی دینی اور قومی شناخت کا احساس ختم نہیں ہوا۔ حالات نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر وہ اپنی تہذیب، عقیدے اور اجتماعی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہی سوچ آگے چل کر ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہوئی جس نے برصغیر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس فکری بیداری میں اہلِ علم، علماء اور دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ مسلمان وقتی اختلافات سے نکل کر اپنی مشترکہ شناخت کو پہچانیں۔ وہ جانتے تھے کہ محض جذبات سے قومیں نہیں بنتیں بلکہ واضح نظریہ، مضبوط قیادت اور اجتماعی نظم ہی کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دینی فکر کو بھی زندہ رکھا گیا تاکہ آنے والی جدوجہد مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ یہی وہ دور تھا جب علامہ محمد اقبال کے افکار نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے اپنی شاعری اور خطابات کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی اور یہ احساس پیدا کیا کہ وہ محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک الگ ملت ہیں جن کا اپنا نظریۂ حیات، اپنی تہذیب اور اپنی اجتماعی اقدار ہیں۔ ان کا تصور یہ تھا کہ مسلمان اس خطے میں ایسی سیاسی قوت حاصل کریں جہاں وہ اپنی دینی اور تہذیبی زندگی کو آزادی کے ساتھ پروان چڑھا سکیں۔ فکری رہنمائی کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی سرگرمیاں تیز ہو رہی تھیں۔ مختلف علاقوں میں مسلمان قیادت ایک دوسرے سے رابطے میں تھی اور اس بات پر غور کر رہی تھی کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں مسلمانوں کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جائے۔ اس زمانے میں متعدد جید علماء نے بھی مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کی حوصلہ افزائی کی۔ دستیاب ماخذ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اس مؤقف کا ذکر ملتا ہے کہ مسلمانوں کو منتشر ہونے کے بجائے ایسی سیاسی قیادت کا ساتھ دینا چاہیے جو ان کے دینی اور اجتماعی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ اسی سلسلے میں قائداعظم محمد علی جناح اور اکابر علماء کے درمیان رابطے اور مشاورت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تحریکِ پاکستان صرف سیاسی مذاکرات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ دینی اور فکری رہنمائی کا ایک سلسلہ بھی موجود تھا۔ اس باہمی اعتماد نے تحریک کو مزید مضبوط بنایا اور مسلمانوں میں یہ یقین پیدا کیا کہ ان کی جدوجہد محض اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اپنی قومی اور دینی شناخت کے تحفظ کے لیے ہے۔ ادھر آل انڈیا مسلم لیگ بھی بتدریج مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت بن کر سامنے آ رہی تھی۔ مختلف صوبوں میں اس کی تنظیم مضبوط ہونے لگی اور عوام میں اس کے پیغام کو پذیرائی ملنے لگی۔ مسلمان یہ محسوس کرنے لگے کہ اگر وہ متحد رہیں تو اپنے سیاسی حقوق کا مؤثر دفاع کر سکتے ہیں۔ یہی اتحاد آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تحریکیں صرف نعروں سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے برسوں کی فکری تیاری، مسلسل محنت اور مخلص قیادت ہوتی ہے۔ تحریکِ پاکستان بھی اسی اصول کی عملی مثال تھی۔ اس کے کارکنوں نے مایوسی کے ماحول میں امید پیدا کی، اختلافات کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی اور مسلمانوں کو ایک ایسے مقصد پر جمع کیا جس نے آنے والے برسوں میں آزادی کی منزل کو قریب کر دیا۔ تحریکِ پاکستان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں فکری پختگی اور سیاسی استحکام پیدا ہوتا گیا۔ ابتدا میں جو آواز چند اہلِ فکر اور قائدین تک محدود تھی وہ آہستہ آہستہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی آواز بن گئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس مضبوط ہوتا چلا گیا کہ مسلمانوں کی بقا محض سیاسی نمائندگی میں نہیں بلکہ ایک ایسے نظام میں ہے جہاں وہ اپنی تہذیب، عقیدے اور اجتماعی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اسی دوران مسلم قیادت نے عوام سے براہِ راست رابطہ بڑھایا۔ مختلف شہروں میں اجتماعات منعقد ہوئے، سیاسی شعور کو بیدار کیا گیا اور مسلمانوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر وہ منتشر رہے تو ان کا مستقبل غیر محفوظ ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں تو اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ یہی پیغام تیزی سے عوام میں مقبول ہونے لگا اور تحریک کو ایک نئی قوت حاصل ہوئی۔ اس مرحلے پر علماء کرام کی رہنمائی بھی تحریک کے لیے تقویت کا باعث بنی۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد ایسے مقصد کے لیے ہو جس کے نتیجے میں اسلامی اقدار کی حفاظت ممکن ہو۔ اسی تناظر میں انہوں نے بعض مواقع پر مسلم قیادت کی حوصلہ افزائی کی اور مختلف معاملات میں رہنمائی بھی فراہم کی۔ اسی سلسلے میں قائداعظم محمد علی جناح اور اکابر علماء کے درمیان خط و کتابت اور مشاورت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان روابط سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قومی معاملات میں باہمی اعتماد کی فضا موجود تھی۔ علماء اپنی دینی بصیرت کی روشنی میں مشورے دیتے تھے جبکہ قائداعظم مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی فیصلے کرتے تھے۔ یہی ہم آہنگی تحریکِ پاکستان کی مضبوطی کا ایک اہم سبب بنی۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اس تحریک کی اصل طاقت صرف جلسے، جلوس یا سیاسی بیانات نہیں تھے بلکہ وہ اعتماد تھا جو عام مسلمانوں کے دلوں میں اپنی قیادت کے لیے پیدا ہو چکا تھا۔ جب ایک قوم کو اپنی منزل کا یقین ہو جائے تو راستے کی مشکلات اس کے عزم کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمان بھی اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ اس زمانے میں یہ حقیقت بھی نمایاں ہونے لگی کہ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض اصلاحات یا محدود سیاسی حقوق کافی نہیں رہیں گے۔ قوم کے اندر یہ احساس تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا کہ مستقل امن، عزت اور مذہبی آزادی کے لیے ایک واضح سیاسی حل ضروری ہے۔ یہی سوچ آنے والے برسوں میں ایک تاریخی مطالبے کی صورت اختیار کرنے والی تھی۔ تحریکِ پاکستان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ اس میں جذبات کے ساتھ حکمت، قیادت کے ساتھ مشاورت اور نظریے کے ساتھ عملی جدوجہد بھی شامل تھی۔ یہی عوامل تھے جنہوں نے اس تحریک کو وقتی سیاسی مہم بننے کے بجائے ایک ایسی قومی تحریک میں تبدیل کر دیا جس نے برصغیر کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب برسوں کی محنت، مسلسل جدوجہد اور غیر متزلزل یقین ایک نئے دور کی بنیاد رکھتے ہیں۔ تحریکِ پاکستان بھی ایسے ہی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ اب یہ محض چند رہنماؤں کی آواز نہیں رہی تھی بلکہ برصغیر کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں کی اجتماعی خواہش بن چکی تھی۔ ہر طرف ایک نئی امید نے جنم لیا تھا اور لوگوں کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی منزل اب زیادہ دور نہیں۔ مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والا یہ اعتماد اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کے پیچھے طویل فکری تربیت، سیاسی بصیرت اور دینی رہنمائی کارفرما تھی۔ عوام یہ سمجھ چکے تھے کہ اگر انہیں اپنے مذہبی تشخص، تہذیبی اقدار اور اجتماعی حقوق کو محفوظ رکھنا ہے تو انہیں ایک واضح اور متحدہ قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ یہی اتحاد تحریک کی اصل طاقت بن گیا۔ اس دوران مختلف حلقوں میں یہ بحث بھی جاری رہی کہ مسلمانوں کی آئندہ سیاسی منزل کیا ہونی چاہیے۔ قومی قیادت نے نہایت تدبر کے ساتھ ہر مرحلے پر مسلمانوں کے مؤقف کو پیش کیا جبکہ علماء کرام نے بھی قوم کے اندر اعتماد پیدا کرنے اور انہیں انتشار سے بچانے کی کوشش کی۔ دستیاب ماخذ میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ اکابر علماء کرام کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کی سیاسی کامیابی کا نتیجہ ایسا نظام ہو جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور جہاں عدل، دیانت اور دینی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے مختلف طبقات ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ تاجر، کسان، طلبہ، اہلِ علم اور عام شہری سب اس احساس میں شریک تھے کہ آنے والا وقت ان کی اجتماعی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس جدوجہد کا حصہ بن رہا تھا۔ کہیں سیاسی اجتماعات منعقد ہو رہے تھے، کہیں فکری نشستیں جاری تھیں اور کہیں عوام کو مستقبل کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا تھا۔ تحریک کی کامیابی میں ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اختلافات کے باوجود قومی مقصد کو مقدم رکھا گیا۔ یہی طرزِ فکر کامیاب تحریکوں کی پہچان ہوتا ہے۔ جب قومیں ذاتی مفادات سے بلند ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتی ہیں تو تاریخ ان کے حق میں نئے فیصلے لکھتی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور اپنے اجتماعی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مشکل کا مقابلہ کیا۔ اسی مرحلے پر سیاسی حالات نے بھی تیزی سے کروٹ لینا شروع کر دی۔ برطانوی حکومت اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کر سکتی تھی کہ برصغیر کے مسلمان اب اپنے مستقبل کے بارے میں واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کی نمائندہ قیادت مضبوط ہو چکی تھی، عوام اس کے ساتھ کھڑے تھے اور فکری اعتبار سے بھی تحریک ایک پختہ بنیاد حاصل کر چکی تھی۔ یہی وہ عوامل تھے جنہوں نے آنے والے فیصلوں کی راہ ہموار کی۔ تحریکِ پاکستان کا یہ مرحلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ نظریہ جب عوام کے دلوں میں جگہ بنا لے اور قیادت دیانت، حکمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھے تو بڑے سے بڑا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔ مسلمانوں کی جدوجہد اب اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں تاریخ ایک نئے باب کے آغاز کی منتظر تھی، اور وہ باب آزادیٔ پاکستان کی صورت میں بہت جلد رقم ہونے والا تھا تحریکِ پاکستان اب اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں تاریخ کا دھارا تیزی سے بدل رہا تھا۔ برسوں کی فکری محنت، سیاسی جدوجہد اور قومی بیداری نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی تھی جسے نظر انداز کرنا نہ برطانوی حکومت کے لیے ممکن رہا تھا اور نہ ہی برصغیر کی دوسری بڑی سیاسی قوتوں کے لیے۔ مسلمان اب منتشر آواز نہیں تھے بلکہ ایک متحد قوم کی حیثیت سے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا عزم کر چکے تھے۔ اس دوران ہونے والی سیاسی سرگرمیوں نے بھی یہ حقیقت نمایاں کر دی کہ مسلمانوں کی نمائندہ قیادت کو عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ ہر نئے مرحلے پر یہ اعتماد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ عوام کو یقین تھا کہ ان کی جدوجہد کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ہے۔ یہی یقین تحریکِ پاکستان کی اصل طاقت بن گیا۔ اکابر علماء بھی مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ مسلمانوں کو اتحاد کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے لیکن جب قومی مفاد کا سوال سامنے ہو تو ذاتی ترجیحات کو پسِ پشت ڈالنا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔ اسی جذبے نے تحریک کو وہ استحکام دیا جس کی بدولت مسلمان ہر نئے امتحان میں پہلے سے زیادہ منظم ہو کر سامنے آئے۔ ادھر سیاسی حالات بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ برطانوی حکومت اس نتیجے پر پہنچ رہی تھی کہ ہندوستان میں اقتدار کی منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ مختلف تجاویز، مذاکرات اور مشاورت کے بعد تقسیمِ ہند کے امکانات نمایاں ہونے لگے۔ قوم کی نظریں اپنی قیادت پر مرکوز تھیں اور ہر شخص آنے والے فیصلوں کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ دستیاب ماخذ کے مطابق انہی حالات میں تقسیمِ ہند کے منصوبے پر غور کیا گیا اور بالآخر ایک ایسا مرحلہ آیا جب برطانوی حکومت نے اپنی حتمی تجویز پیش کی۔ مسلم قیادت نے اس صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے۔ یہ فیصلے آسان نہیں تھے، لیکن قیادت جانتی تھی کہ تاریخ بعض اوقات ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جہاں جذبات کے بجائے دور اندیشی سے کام لینا پڑتا ہے۔ ان دنوں عام مسلمان بھی غیر معمولی جذباتی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ ہر طرف پاکستان کا تذکرہ تھا، ہر محفل میں مستقبل کے امکانات پر گفتگو ہوتی تھی اور ہر دل میں یہ دعا تھی کہ برسوں کی قربانیاں رنگ لائیں۔ قوم کے اندر امید کا چراغ روشن ہو چکا تھا اور لوگ اس دن کے منتظر تھے جب وہ ایک آزاد وطن کے شہری کہلائیں گے۔ تحریکِ پاکستان کا یہ مرحلہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قوموں کی کامیابی صرف ان کے وسائل سے نہیں بلکہ ان کے نظریے، اتحاد اور قیادت پر اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے مقصد پر یقین رکھتی ہے تو مشکلات اس کے حوصلے کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ مزید مضبوط بنا دیتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ استقامت اور اتحاد کے ذریعے تاریخ کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔ اب آزادی کی منزل بہت قریب آ چکی تھی۔ آنے والے چند ہفتے برصغیر کی کئی صدیوں کی تاریخ کا فیصلہ کرنے والے تھے۔ ایک طرف ایک عظیم خواب حقیقت کا روپ دھارنے والا تھا، تو دوسری طرف اس خواب کی تعبیر کے لیے قوم کو مزید آزمائشوں اور قربانیوں کا سامنا بھی کرنا تھا۔ تاریخ نے بالآخر وہ لمحہ بھی دیکھا جب برصغیر کی سیاسی کشمکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی۔ 3 جون 1947ء کے منصوبے کے اعلان نے یہ واضح کر دیا کہ برطانوی اقتدار اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور اقتدار کی منتقلی کا وقت قریب آ چکا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک تاریخی موڑ تھا کیونکہ برسوں کی جدوجہد اب اپنی منزل کے قریب پہنچ رہی تھی۔ اگرچہ حالات آسان نہیں تھے، لیکن قوم کے حوصلے پہلے سے کہیں زیادہ بلند تھے۔ مسلم قیادت نے اس نازک مرحلے پر انتہائی تدبر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا۔ ہر فیصلہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جا رہا تھا۔ ایک طرف آزادی کی خوشخبری دلوں کو مسرور کر رہی تھی تو دوسری طرف تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خدشات بھی سب کے سامنے تھے۔ اس کے باوجود قیادت نے ثابت قدمی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور قوم کو صبر، اتحاد اور نظم و ضبط کا پیغام دیا۔ جوں جوں آزادی کا دن قریب آتا گیا عوام کے جذبات بھی شدت اختیار کرتے گئے۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں پاکستان کے نام پر دعائیں کی جا رہی تھیں۔ نوجوان اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے، بزرگ اپنی زندگی کی جدوجہد کو کامیاب ہوتے دیکھ رہے تھے اور مائیں اپنے بچوں کے لیے ایک ایسے وطن کی امید باندھے بیٹھی تھیں جہاں وہ آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ لیکن آزادی کی یہ صبح بے شمار آزمائشیں بھی اپنے ساتھ لائی۔ تقسیمِ ہند کے فیصلے کے بعد لاکھوں مسلمان اپنے آبائی گھروں، زمینوں اور کاروبار کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ہجرت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس سفر میں بہت سے خاندان بچھڑ گئے، ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بے شمار لوگوں نے ناقابلِ فراموش تکالیف برداشت کیں۔ ان قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنے خون سے مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی کہ وہ اس آزادی کی قدر کریں۔ 14 اگست 1947ء کی صبح جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا تو یہ صرف ایک نئے ملک کا قیام نہیں تھا بلکہ لاکھوں دعاؤں، قربانیوں اور برسوں کی مسلسل جدوجہد کی کامیابی تھی۔ اس دن ہر پاکستانی کے دل میں شکر، امید اور عزم کے جذبات موجزن تھے۔ ایک نئی ریاست وجود میں آ چکی تھی، لیکن اس کے ساتھ نئی ذمہ داریاں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ نئے ملک کو ابتدا ہی سے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاجرین کی آبادکاری، سرکاری اداروں کا قیام، محدود وسائل، معاشی مسائل اور انتظامی چیلنجز ہر طرف موجود تھے مگر قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے پاکستان کو ابتدائی مشکلات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج جب ہم آزادی کی اس داستان کو پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ آزادی قربانی مانگتی ہے، اتحاد چاہتی ہے اور مسلسل ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں تو یقیناً پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بنانے میں اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا قیام اگرچہ ایک عظیم کامیابی تھی لیکن درحقیقت یہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس مملکت کو کن اصولوں پر استوار کیا جائے اور ان مقاصد کو کس طرح عملی شکل دی جائے جن کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں۔ قوم جانتی تھی کہ صرف ایک آزاد ریاست کا وجود کافی نہیں، بلکہ اسے مضبوط، منصفانہ اور باوقار ریاست بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ابتدائی دنوں میں حکومت کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، نئے سرکاری اداروں کا قیام، محدود وسائل اور انتظامی مشکلات ایک بڑے امتحان کی صورت میں سامنے تھیں۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود قوم کے حوصلے بلند تھے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس نئے وطن کی تعمیر میں حصہ ڈالنا چاہتا تھا۔ یہی جذبہ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ تھا۔ اس جدوجہد کے دوران یہ احساس بھی نمایاں رہا کہ پاکستان محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے۔ دستیاب ماخذ میں اکابر علماء خصوصاً حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی اس خواہش کا ذکر ملتا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا نظام میسر آئے جہاں اسلامی تعلیمات، عدل و انصاف، دیانت اور اجتماعی فلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ یہی تصور قیامِ پاکستان کی فکری بنیادوں میں شامل دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی علماء اور قومی قیادت اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے نظریے، قومی اتحاد اور اخلاقی کردار میں ہے۔ اگر قوم دیانت داری، قانون کی پاسداری، محنت اور باہمی احترام کو اپنا شعار بنا لے تو کوئی مشکل اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ تاریخ کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ آزادی کی حفاظت حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہوتی ہے۔ جن قوموں نے اپنے ماضی کو فراموش کیا وہ مستقبل میں کمزور پڑ گئیں جبکہ جنہوں نے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھا اور ان کے اصولوں کو اپنایا، وہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی رہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قومی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری ہی ترقی کی اصل بنیاد ہیں۔ آج کی نوجوان نسل پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحریکِ پاکستان کی جدوجہد کو محض امتحانی سوال نہ سمجھے بلکہ اسے اپنی قومی شناخت کا حصہ بنائے۔ علم حاصل کرنا، کردار کو مضبوط بنانا، ملکی قوانین کا احترام کرنا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا دراصل انہی قربانیوں کا عملی اعتراف ہے جن کی بدولت ہمیں آزاد وطن نصیب ہوا۔ جب ہم ماضی کے صفحات پلٹتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ پاکستان کسی اتفاقی واقعے کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی، مسلسل سیاسی جدوجہد، فکری رہنمائی، عوامی حمایت اور بے شمار قربانیاں شامل تھیں۔ یہی حقیقت ہمیں آج بھی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم اتحاد، نظم و ضبط اور اخلاص کو اپنا شعار بنائے رکھیں تو پاکستان ہر آزمائش سے سرخرو ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے قیام کو آج کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن جب بھی تحریکِ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یہ وطن کسی ایک فرد، ایک جماعت یا ایک طبقے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کی بنیاد ان لاکھوں مسلمانوں کی دعاؤں، قربانیوں، ہجرتوں اور مسلسل جدوجہد پر رکھی گئی جنہوں نے اپنے آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آزادی حاصل کرنا یقیناً ایک بڑا کارنامہ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم کام آزادی کی حفاظت کرنا اور اس کے مقاصد کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔ اگر قومیں اپنے نظریات، اپنے کردار اور اپنے اتحاد کو مضبوط رکھیں تو وہ ترقی کرتی ہیں لیکن جب وہ اپنے ماضی کو فراموش کر دیتی ہیں تو مشکلات ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری ہی ایک مضبوط ریاست کی اصل بنیاد ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس ملک کے قیام کے لیے بے شمار خاندانوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، ہزاروں لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور لاکھوں افراد نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے۔ ان قربانیوں کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے وطن کو دیانت داری، محنت، قانون کی پاسداری، تعلیم، تحقیق اور باہمی احترام کے ذریعے مضبوط بنائیں۔ اگر ہر شہری اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے ادا کرے تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔ |
|