ریٹائرمنٹ کے بعد بھی زندگی متحرک
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی زندگی متحرک تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
زندگی کا ہر مرحلہ اپنی الگ اہمیت رکھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ریٹائرمنٹ کو عملی زندگی کے اختتام اور آرام کے دور کا آغاز سمجھا جاتا تھا، لیکن بدلتے ہوئے معاشروں میں یہ تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ آج بہت سے ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بزرگ افراد کے تجربات، صلاحیتوں اور وقت کو معاشرے کی بہتری کے لیے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چین میں بھی اسی سوچ کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں بزرگ شہری نہ صرف اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ سماجی خدمت، رضاکارانہ سرگرمیوں اور کمیونٹی کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چین کے مختلف علاقوں میں ایسے متعدد رہائشی مراکز اور کمیونٹیز قائم کی جا رہی ہیں جہاں بزرگ شہریوں کو سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے، دوسروں کی مدد کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف بزرگ افراد کی دیکھ بھال کرنا نہیں بلکہ انہیں معاشرے کا فعال اور مؤثر حصہ بنائے رکھنا بھی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو بامقصد محسوس کریں۔
چین میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بزرگ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر کئی نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بزرگ شہری رضاکارانہ طور پر ہمسایوں کی مدد کرتے ہیں، صحت سے متعلق معلومات پہنچاتے ہیں، کمیونٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے سے نہ صرف معاشرہ مضبوط ہوتا ہے بلکہ خود ان کی زندگی میں بھی نئی توانائی اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں جہاں زیادہ تر سرکاری اور عوامی خدمات آن لائن منتقل ہو چکی ہیں، وہاں کئی معمر افراد جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے رضاکار بزرگ شہری اپنے ہم عمر افراد کو اسمارٹ فون استعمال کرنے، آن لائن سہولیات سے فائدہ اٹھانے اور روزمرہ ضروری معلومات حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے معلوماتی کتابچے بھی تیار کیے گئے ہیں جن میں عوامی خدمات، ٹرانسپورٹ، اہم فون نمبرز اور دیگر ضروری معلومات سادہ انداز میں درج ہوتی ہیں تاکہ بزرگ افراد آسانی سے ان سے استفادہ کر سکیں۔
کمیونٹی کی سطح پر باہمی تعاون کے کئی منفرد نمونے بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض گروپس ایسے ہیں جہاں بیماریوں کا سامنا کرنے والے بزرگ افراد ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں اور مختلف سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ مطالعہ، چہل قدمی، تفریحی دورے اور باہمی ملاقاتیں ان کی زندگی میں نئی امید پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
اسی طرح سابق فوجیوں اور دیگر تجربہ کار افراد پر مشتمل رضاکار ٹیمیں بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو سماجی خدمت کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں حفاظتی آگاہی، کمیونٹی کی نگرانی، قدرتی آفات کے دوران احتیاطی اقدامات اور دیگر عوامی خدمات میں حصہ لے کر معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب بزرگ شہریوں کی سہولت اور تحفظ کے لیے بھی مربوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ محدود نقل و حرکت رکھنے والے بزرگ افراد کے لیے فیملی ڈاکٹرز کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جو باقاعدگی سے ان کے گھروں کا دورہ کرکے طبی معائنہ، ادویات کے استعمال سے متعلق رہنمائی اور صحت کی نگرانی کرتے ہیں۔ تنہا رہنے والے بزرگ شہریوں کی باقاعدہ خبرگیری بھی کی جاتی ہے تاکہ ضرورت کے وقت فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ قانونی رہنمائی اور مشاورت جیسی سہولیات بھی کمیونٹی کی سطح پر مہیا کی جا رہی ہیں۔
چین میں ساٹھ برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 32 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے قومی ترقیاتی منصوبے میں کمیونٹی کی بنیاد پر بزرگوں کی دیکھ بھال، صحت کی بہتر سہولیات اور انہیں سماجی و معاشی سرگرمیوں میں متحرک رکھنے کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔
عمر میں اضافہ کسی فرد کی صلاحیتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ تجربے، دانش اور سماجی خدمت کا ایک نیا مرحلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر بزرگ افراد کو مناسب مواقع، احترام اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی زیادہ خوشگوار انداز میں گزار سکتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کی رہنمائی، سماجی ہم آہنگی اور مقامی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چین میں بزرگ شہریوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی یہ حکمت عملی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ عمر رسیدگی کو بوجھ نہیں بلکہ ایک قیمتی سماجی سرمایہ سمجھا جائے۔ کمیونٹی کی مضبوطی، باہمی تعاون، بہتر صحت، سماجی شمولیت اور رضاکارانہ خدمات کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے جہاں ریٹائرمنٹ زندگی کا اختتام نہیں بلکہ خدمت، تجربے اور نئے مقصد کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز بن جاتی ہے۔ |
|