باقرخانی شاہی ذائقہ، صدیوں پرانی روایت اور ایک لازوال محبت کی داستان:
(Muhammad Siddiqui, Hyderabad)
باقرخانی شاہی ذائقہ، صدیوں پرانی روایت اور ایک لازوال محبت کی داستان: باقرخانی (Bakarkhani) برصغیر کی قدیم ترین اور منفرد بیکری مصنوعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک خستہ، پرت دار، ہلکی میٹھی اور خوشبودار روٹی ہے، جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ناشتے، چائے، نہاری، پائے اور مختلف روایتی کھانوں کے ساتھ شوق سے کھائی جاتی ہے۔ آج اگرچہ اسے ایک عام بیکری آئٹم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی تاریخ تقریباً تین سو سال پرانی ہے، اور اس کے پیچھے شاہی باورچی خانوں، مغل و نوابی ثقافت اور ایک مشہور محبت کی داستان کا ذکر ملتا ہے۔ باقرخانی کیا ہے؟ باقرخانی ایک پرت دار (Flaky) بیکری روٹی ہے، جو عمدہ میدے، خالص گھی، دودھ، چینی، خمیر اور نمک سے تیار کی جاتی ہے۔ روایتی طریقے میں آٹے کو بار بار تہہ لگا کر بیلا جاتا ہے، جس سے بیک ہونے کے بعد اس میں نہایت باریک، خستہ اور کرکری پرتیں بن جاتی ہیں۔ مختلف علاقوں میں اس میں تل، کلونجی، الائچی، زعفران، بادام اور پستہ بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ باقرخانی کی ابتدا کہاں ہوئی؟ باقرخانی کی ابتدا کے بارے میں مؤرخین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ 18ویں صدی میں بنگال کے نوابی دور میں وجود میں آئی۔ اس وقت مرشد آباد نوابِ بنگال کا دارالحکومت تھا، جبکہ ڈھاکہ تجارت، ثقافت اور شاہی کھانوں کا اہم مرکز تھا۔ شاہی باورچی خانوں میں نئی نئی روٹیاں اور میٹھے نان تیار کیے جا رہے تھے، جن میں شیرمال، تافتان، کلچہ اور دیگر پرت دار روٹیاں شامل تھیں۔ انہی شاہی روایات سے متاثر ہو کر باقرخانی تیار کی گئی، جو بعد میں اپنی منفرد ساخت اور ذائقے کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ ابتدا میں باقرخانی صرف نوابوں، امیروں اور شاہی مہمانوں کے لیے تیار کی جاتی تھی۔ اسے خالص گھی، دودھ، زعفران اور خشک میوہ جات سے بنایا جاتا تھا، اس لیے یہ شاہی دسترخوان کی شان سمجھی جاتی تھی۔ محبت کی وہ داستان جس نے "باقرخانی" کو نام دیا باقرخانی کے نام سے ایک مشہور لوک روایت بھی وابستہ ہے، جو بنگال میں نسل در نسل سنائی جاتی رہی ہے۔ روایت کے مطابق اٹھارویں صدی میں مرزا آغا باقر خان بنگال کے ایک بہادر فوجی افسر تھے۔ اسی زمانے میں خانی بیگم نامی ایک حسین اور باصلاحیت رقاصہ اپنے حسن اور فن کی وجہ سے پورے بنگال میں مشہور تھیں۔ ایک شاہی محفل میں آغا باقر خان اور خانی بیگم کی ملاقات ہوئی، جو وقت کے ساتھ گہری محبت میں بدل گئی۔ لیکن ان کی محبت کا ایک دشمن بھی تھا، زین العابدین خان (زینول خان)، جو خانی بیگم سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ انکار کے بعد اس نے طاقت کے ذریعے انہیں حاصل کرنے کی کوشش کی، جس پر آغا باقر خان نے اس کا مقابلہ کیا۔ دونوں کے درمیان شدید تلوار بازی ہوئی اور دشمنی بڑھتی گئی۔ بعد ازاں خانی بیگم کو اغوا کر لیا گیا۔ آغا باقر خان انہیں بچانے پہنچے، مگر آخری معرکے میں خانی بیگم غلطی سے تلوار کا نشانہ بن گئیں اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس سانحے نے آغا باقر خان کو شدید صدمہ پہنچایا۔ لوک روایت کے مطابق آغا باقر خان نے اپنی محبوبہ کی یاد میں ایک خاص پرت دار روٹی تیار کروائی اور اپنے نام "باقر" اور محبوبہ کے نام "خانی" کو ملا کر اس کا نام "باقرخانی" رکھا۔ اگرچہ مؤرخین اس پوری داستان کو مستند تاریخ نہیں مانتے، لیکن یہ برصغیر کی سب سے مشہور رومانوی لوک روایات میں شمار ہوتی ہے۔ باقرخانی کا سفر: وقت گزرنے کے ساتھ باقرخانی بنگال سے نکل کر کولکتہ، لکھنؤ، دہلی، لاہور اور بعد میں کراچی، حیدرآباد، پشاور اور راولپنڈی تک پہنچی۔ ہر علاقے نے اپنے ذائقے کے مطابق اس میں تبدیلیاں کیں، لیکن اس کی خستہ پرتیں، مکھن یا گھی کی خوشبو اور روایتی انداز آج بھی اس کی اصل شناخت ہیں۔ آج باقرخانی صرف ایک بیکری آئٹم نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب، شاہی کھانوں اور صدیوں پرانی بیکنگ روایت کی زندہ علامت ہے۔ اس کے ذائقے میں صرف مٹھاس نہیں، بلکہ تاریخ، ثقافت اور ایک ایسی محبت کی بازگشت بھی شامل ہے جس نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ |
|