چاچا ہندوستانی

ہمارے گاؤں کی صبحیں آج بھی سادہ لیکن سحر انگیز ہیں۔ کچی گلیوں میں اُڑتی ہلکی ہلکی دھول اور مویشیوں کے گلوں میں بجتی گھنٹیوں کے ساتھ اب کہیں کہیں ٹریکٹر کے سٹارٹ ہونے کی آواز اور موبائل فون کی رنگ ٹونز بھی فضا کا حصہ بن چکی ہیں۔ مٹی کی وہ سوندھی خوشبو آج بھی وہی ہے جو اب گھروں کی منڈیروں پر پڑتی شبنم کی ٹھنڈک کے ساتھ مل کر ایک عجیب سا احساس دیتی ہے۔ یہاں زندگی سادگی کے پیرہن میں سکون تلاش کرتی ہے اور ہر چہرہ مانوس لگتاہے۔ بس اَب لوگ ایک دوسرے کو پکارنے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ پر بھی حال احوال پوچھ لیتے ہیں لیکن اِس جدیدیت کے باوجود پکار میں وہ پرانی اپنائیت آج بھی زندہ ہے۔
آج سے چالیس برس قبل ہمارے گاؤں کے نکڑ پر لکڑی کے پُرانے تختوں سے بنی ایک چھوٹی سی دکان تھی، جہاں صرف سودا سلف فروخت نہیں ہوتا تھا بلکہ کہانیاں بھی بستی تھیں۔ اِنھی خاموش اور اَن کہی کہانیوں کے بیچوں بیچ ایک بزرگ بیٹھے نظر آتے تھے جنہیں سب "چاچا ہندوستانی" کے نام سے پکارتے تھے۔
چاچا کی دُکان میں شیشے کے مرتبانوں میں رکھی رنگ برنگی ٹافیاں اور بسکٹ بچوں کو اپنی طرف کھینچتے۔ چاچا تقسیم کے وقت سرحد پار سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ وقت کی گَرد میں اُن کا اصل نام کہیں کھو گیا تھا اور "چاچا ہندوستانی" کا نام ہی ان کی پہچان بن گیا تھا۔ ایک ایسی پہچان جو اُن کے وجود میں کسی خار کی طرح چبھتی تھی۔
ہر روز گاؤں کے شرارتی بچے دُکان پر آتے، ٹافیاں خریدتے اور ہنستے ہوئے آواز لگاتے: "چاچا ہندوستانی! ایک ٹافی دے دیں۔"
کبھی کوئی بچہ معصومیت، تو کوئی شرارت سے پوچھ لیتا: "چاچا! آپ واقعی ہندوستان کے ہو نا؟"
یہ سوال سنتے ہی چاچا کے چہرے پر یادوں کا ایک سایہ سا لہراتا۔ کبھی وہ سختی سے ڈانٹ دیتے تو کبھی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے۔ بچے ناسمجھ تھے، وہ نہیں جانتے تھے کہ ہنسی مذاق میں کہے گئے یہ لفظ کسی کے دل پر کیسے چرکے لگاتے ہیں۔
٭٭٭
چودہ اگست قریب تھا۔ پُورا گاؤں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں سے مہک رہا تھا۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا لیکن چاچا کی دُکان پرخاموشی طاری تھی۔
اس دفعہ بچوں نے تو حد کر دی: "چاچا ہندوستانی! آپ تو پاکستانی نہیں ہو، آپ تو ہندوستان کے ہو؟"
یہ سُن کر چاچا کے بوڑھے ہاتھ لرزنے لگے۔ انہوں نے لکڑی کا تختہ گِرا کر دُکان بند کی اور بچوں کو اپنے گِرد بٹھا لیا۔ اُن کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش تھی: "آؤ بچو! آج تمہیں ایک سچی کہانی سناتا ہوں۔"
بچے سہم کر خاموش ہو گئے۔ چاچا نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے ماضی کے کسی دھندلے منظر کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
"جب ملک بٹا، تو ہم سب کچھ چھوڑ کر نکل پڑے۔ گھر، زمین، بچپن کی گلیاں اور جیتے جاگتے رشتے۔۔۔سب پیچھے رہ گئے۔ چاروں طرف چیخ و پکار تھی، خوف کا پہرہ تھا اور جدائی کا موسم تھا۔"
اُن کا گلا رندھ گیالیکن وہ بولتے رہے:
"اسی ہجوم میں میرا ہاتھ میری ماں سے چھوٹ گیا۔ میں نے بہت پکارا۔۔۔ 'امّی! امّی!'۔۔۔ مگر وہ ہجوم میں کہیں کھو گئیں۔ وہ مجھے آج تک نہ مل سکیں۔"
دُکان کے گِرد سناٹا چھا گیا۔ بچوں کے چہرے اُتر گئے۔
"میں پاکستان تو آگیا لیکن میرا دل وہیں رہ گیا جہاں میری ماں مجھ سےبچھڑ گئی تھی۔ لوگ مجھے ہندوستانی کہہ کر پکارتے ہیں، پَر انہیں کیا معلوم کہ یہ لفظ مجھے ہر بار وہی بچھڑنے کا لمحہ یاد دلاتا ہے۔ میری ممتا کی یاد دلاتا ہے۔"
٭٭٭
اگلے دن چودہ اگست کی صبح ایک نیا منظر لے کر آئی۔ گاؤں کے نکڑ پر چاچا کی دُکان رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجی تھی اور سب سے اُونچا پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔
بچے آہستہ قدموں سے چاچا کے پاس آئے اور سر جھکا کر بولے: "چاچا! ہمیں معاف کر دیں۔ ہم آپ کا دکھ نہیں جانتے تھے۔"
چاچا نے بھرائی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ اُن کے سروں پر شفقت کاہاتھ رکھا اور پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"بیٹا! یہ وطن بہت بڑی قربانیوں کے بعد ملا ہے۔ اس کی مٹی کی قدر کرنا ہی اصل آزادی ہے۔"
پھر انہوں نے پوری قوت سے نعرہ لگایا: "پاکستان زندہ باد!"
اس بار گاؤں کی فضا میں گونجنے والی آواز پہلے سے کہیں زیادہ توانا تھی کیوں کہ اس میں چاچا کا تڑپتا ہُوا سچ شامل تھا۔
اس دن کے بعد گاؤں کے نکڑ پر بیٹھی وہ ہستی صرف "چاچا ہندوستانی" نہیں رہی بلکہ ایثار اور محبت کی ایک زندہ تاریخ بن گئی۔
٭٭٭


 
Prof. Shoukat Ullah
About the Author: Prof. Shoukat Ullah Read More Articles by Prof. Shoukat Ullah: 234 Articles with 369218 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.