تاریخ کے افق پر پاکستان
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
تاریخ کے افق پر پاکستان ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کبھی تاریخ کسی کتاب کے صفحے پر خاموشی سے نہیں اترتی۔ وہ کبھی قدموں کی چاپ بن کر گلیوں میں پھیلتی ہے، کبھی کسی مسافر کی آنکھ میں ٹھہرے ہوئے آنسو کی صورت اختیار کرتی ہے اور کبھی کسی بوڑھے درخت کے سائے تلے بیٹھے شخص کی یادوں میں سانس لیتی ہے۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں گزرتا ہوا وقت اپنے ساتھ نہیں لے جا پاتا۔ وہ لمحے تاریخ کی رگوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اگست 1947ء بھی ایسا ہی ایک زمانہ تھا؛ جب برصغیر کی زمین پر ایک عہد اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا اور ایک نیا وطن اپنے وجود کی دہلیز پر کھڑا تھا۔
ذرا تصور کیجیے، اگست کی ابتدائی ساعتیں ہیں۔ دہلی کے ایوانوں میں کاغذوں پر لکیریں کھینچی جا رہی ہیں، کراچی میں ایک نئی حکومت کے خدوخال مرتب کیے جا رہے ہیں، لاہور کی گلیوں میں بے یقینی گردش کر رہی ہے اور پنجاب کے دیہات میں لوگ آنے والے دنوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلی صبح اس کا گھر کس ریاست کا حصہ ہوگا۔ کسی کے ہاتھ میں ہجرت کا سامان ہے، کسی کے دل میں برسوں سے دیکھا ہوا ایک خواب اور کسی کے سامنے ایک ایسا مستقبل جس کی صورت ابھی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔
یہی وہ فضا تھی جس میں یکم اگست 1947ء کا سورج طلوع ہوا۔ آزادی اب دور کا خواب نہیں رہی تھی، مگر منزل تک پہنچنے کے لیے تاریخ کے پاس ابھی چند انتہائی فیصلہ کن دن باقی تھے۔ یکم اگست سے 14 اگست تک کا یہ مختصر سا وقفہ بظاہر صرف چودہ دن تھا، لیکن اس کے اندر ایک پوری صدی کی سیاسی کشمکش، برسوں کی جدوجہد، بے شمار فیصلے، انتظامی مشکلات، ہجرت کے المیے اور ایک نئی ریاست کے خواب سمٹ آئے تھے۔
پاکستان اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کے پیچھے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری، آئینی جدوجہد اور ایک ایسے سیاسی تصور کی تشکیل تھی جس نے بالآخر ایک الگ ریاست کے مطالبے کو تاریخ کی ایک بڑی حقیقت بنا دیا۔ 1947ء کے اگست تک پہنچتے پہنچتے یہ جدوجہد اپنے آخری اور سب سے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔
3 جون 1947ء کو تقسیمِ ہند کا منصوبہ سامنے آیا تو برصغیر کی سیاسی سمت بڑی حد تک واضح ہو گئی۔ اقتدار کی منتقلی کا عمل تیز ہوا اور دو نئی ریاستوں کے قیام کی راہ ہموار ہونے لگی۔ برطانوی پارلیمنٹ کی قانون سازی نے اس عمل کو آئینی شکل دی، مگر کاغذ پر ہونے والی یہ تقسیم زمین پر ایک نہایت پیچیدہ حقیقت بننے والی تھی۔ سرحدیں طے ہونی تھیں، ادارے تقسیم ہونے تھے، فوج اور سرکاری مشینری کے حصے مقرر ہونے تھے، مالی وسائل بانٹے جانے تھے اور لاکھوں لوگوں کو ایک ایسے مستقبل کا سامنا کرنا تھا جس کے بارے میں انہیں خود بھی پوری طرح معلوم نہ تھا۔
اس مرحلے کی سب سے بڑی پیچیدگی یہی تھی کہ آزادی کا اعلان قریب تھا لیکن نئی ریاست کے انتظامی خدوخال ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے تھے۔ سرکاری ملازمین کی تقسیم، خزانے اور اثاثوں کی منتقلی، دفاعی معاملات، ریلوے، ڈاک، ٹیلی گراف اور دیگر ریاستی شعبوں کی تنظیمِ نو جیسے مسائل ایک ساتھ سامنے کھڑے تھے۔ نئی ریاست کو صرف وجود میں نہیں آنا تھا بلکہ اسے اسی لمحے سے چلنا بھی تھا۔
اس وقت دہلی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا، جب کہ کراچی آنے والی ریاست کا مرکز بنتا جا رہا تھا۔ تقسیمِ ہند سے متعلق مختلف کونسلوں اور اجلاسوں میں ایسے فیصلے کیے جا رہے تھے جن کا تعلق صرف اداروں سے نہیں بلکہ مستقبل کی ریاست کی عملی زندگی سے تھا۔ ہر فائل کے پیچھے ایک ادارہ تھا اور ہر ادارے کے پیچھے ہزاروں انسانوں کی زندگی وابستہ تھی۔
دوسری طرف پنجاب اور بنگال کی سرزمین پر ایک الگ ہی کہانی لکھی جا رہی تھی۔ لوگوں کو اندازہ تھا کہ سرحدیں بدلنے والی ہیں، مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ نئی لکیر کہاں سے گزرے گی۔ یہی بے یقینی رفتہ رفتہ خوف میں بدلنے لگی۔ خاندان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگے اور بہت سے لوگ ان علاقوں کی طرف جانے لگے جہاں انہیں اپنے لیے زیادہ محفوظ زندگی کی امید دکھائی دیتی تھی۔
1947ء کی ہجرت انسانی تاریخ کے بڑے المیوں میں شمار ہوتی ہے۔ قافلے گھروں سے نکلے تو کسی کے پاس چند کپڑے تھے، کسی کے پاس بزرگوں کی نشانی، کسی کے ہاتھ میں بچوں کی انگلیاں اور کسی کے دل میں صرف یہ امید کہ دوسری طرف پہنچ کر زندگی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ جن راستوں پر کبھی تجارت، میل جول اور روزمرہ زندگی کی رونق ہوتی تھی، وہی راستے اب ہجرت کے مسافروں سے بھرنے لگے تھے۔
ان حالات کے درمیان قائداعظم محمد علی جناح ایک ایسی ریاست کی تشکیل کے آخری مراحل میں مصروف تھے جس کے لیے انہوں نے طویل سیاسی جدوجہد کی تھی۔ ان کے سامنے صرف آزادی کا سوال نہیں تھا؛ ان کے سامنے یہ بھی سوال تھا کہ آزادی کے بعد پاکستان کی ریاست کس طرح چلے گی، اس کے ادارے کیسے قائم ہوں گے اور شہریوں کے حقوق کیسے محفوظ ہوں گے۔
یکم اگست سے 7 اگست 1947ء تک قائداعظم دہلی میں اہم سیاسی اور انتظامی معاملات میں مصروف رہے۔ نئی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو عملی شکل دی جا رہی تھی اور آنے والے دنوں کے لیے ضروری فیصلے کیے جا رہے تھے۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد منزل سامنے تھی، لیکن قائداعظم کے لیے منزل کا مطلب سفر کا اختتام نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ریاست کا قیام ایک نئی اور کہیں زیادہ مشکل ذمہ داری کا آغاز ہوگا۔
7 اگست کو قائداعظم دہلی سے کراچی روانہ ہوئے۔ اس سفر میں ایک پوری سیاسی داستان اپنے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ شہر جس میں برسوں تک مذاکرات، اجلاس اور سیاسی کشمکش جاری رہی، پیچھے رہ گیا اور کراچی ایک نئے دور کے استقبال کے لیے سامنے آ گیا۔ قائداعظم جب کراچی پہنچے تو ان کا استقبال غیر معمولی جوش و خروش سے کیا گیا، لیکن ان کے سامنے جشن سے کہیں زیادہ بڑے کام موجود تھے۔
کراچی ان دنوں ایک ایسے مرکز میں تبدیل ہو رہا تھا جہاں تاریخ محض لکھی نہیں جا رہی تھی بلکہ تشکیل پا رہی تھی۔ سرکاری دفاتر میں کام تیز ہو چکا تھا۔ نئے عہدے تشکیل پا رہے تھے، حکومتی ذمہ داریوں کا تعین کیا جا رہا تھا اور ایک نئی ریاست کے انتظامی نظام کو ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ مگر اسی وقت برصغیر کے مختلف حصوں سے آنے والے مہاجرین کے مسائل بھی سامنے آ رہے تھے۔
ایک طرف ریاست کا ڈھانچہ بن رہا تھا اور دوسری طرف ریاست کے شہری اپنی بکھری ہوئی زندگیاں سمیٹ کر اس نئی سرزمین پر پہنچ رہے تھے۔ یہی تضاد پاکستان کے ابتدائی دنوں کی سب سے نمایاں حقیقت تھا۔ آزادی خوشی بھی تھی اور آزمائش بھی؛ کامیابی بھی تھی اور ذمہ داری بھی۔
نئی ریاست کے سامنے مسائل کی ایک طویل فہرست تھی۔ وسائل محدود تھے، ادارے مکمل طور پر قائم نہیں تھے، انتظامی تجربہ نئے حالات کے مطابق ڈھل رہا تھا اور لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری ایک فوری انسانی مسئلہ بن چکی تھی۔ دفاع، معیشت، مواصلات، سرکاری مشینری اور ریاستی نظم و نسق سب کو ایک ساتھ سنبھالنا تھا۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں قیادت کے ساتھ ساتھ عام انسانوں کا کردار بھی اہم بن گیا۔ ایک ریاست صرف حکمرانوں کے فیصلوں سے نہیں بنتی۔ اس کی اصل تعمیر ان لوگوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جو اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ 1947ء کے پاکستان میں یہ حقیقت ابتدا ہی سے نمایاں تھی۔
پھر 11 اگست آیا۔
دستور ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا اور قائداعظم محمد علی جناح نے وہ خطاب کیا جو پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ہمیشہ اہم رہے گا۔ اس خطاب میں انہوں نے ریاستی نظم، قانون کی حکمرانی، شہری مساوات اور مذہبی آزادی کے حوالے سے بنیادی تصورات بیان کیے۔ ان کی گفتگو میں یہ احساس نمایاں تھا کہ نئی ریاست کی کامیابی صرف آزادی حاصل کر لینے میں نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور ذمہ دار ریاست قائم کرنے میں ہے۔
انہوں نے بدعنوانی، رشوت، اقربا پروری اور ذخیرہ اندوزی جیسے رجحانات کے خلاف بھی واضح مؤقف اختیار کیا۔ یہ پیغام دراصل نئی ریاست کے شہریوں اور اداروں دونوں کے لیے تھا کہ آزادی کے بعد سب سے بڑا امتحان کردار اور طرزِ حکمرانی کا ہوگا۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے: کیا آزادی صرف بیرونی اقتدار سے نجات کا نام ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو 14 اگست کے بعد پاکستان کی جدوجہد ختم ہو جاتی۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاست کا قیام دراصل قومی تعمیر کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ آزادی کا حقیقی مفہوم تب مکمل ہوتا ہے جب شہری قانون کا احترام کریں، ادارے مضبوط ہوں، انصاف دستیاب ہو اور معاشرہ اپنے کمزور طبقات کے حقوق کا محافظ بنے۔
اسی دوران ریڈکلف کمیشن سرحدوں کے تعین کے آخری مرحلے میں تھا۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم نے لاکھوں انسانوں کے مستقبل کو براہِ راست متاثر کرنا تھا۔ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ بہت سے لوگوں کو آخری وقت تک معلوم نہیں تھا کہ ان کا علاقہ کس ریاست میں شامل ہوگا۔
یہ غیر یقینی محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں تھی؛ یہ انسانی زندگی کا سوال بن چکی تھی۔
کسی خاندان کے لیے سرحد کا مطلب اپنے گھر سے جدائی تھا، کسی کے لیے اپنے آبائی قبرستان سے دوری، کسی کے لیے اپنی زمین چھوڑ دینا اور کسی کے لیے پوری زندگی کی جمع پونجی کو چند سامان کی گٹھڑی میں سمیٹ لینا۔ آزادی کے نقشے پر کھینچی جانے والی لکیریں انسانی دلوں پر بھی نشان چھوڑ رہی تھیں۔
13 اگست تک کراچی میں نئی ریاست کے قیام کی تیاریاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں۔ اقتدار کی منتقلی کے معاملات مکمل کیے جا رہے تھے، سرکاری نظام کو منظم کیا جا رہا تھا اور وہ لمحہ قریب آ رہا تھا جس کا انتظار ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد کیا جا رہا تھا۔
پھر 14 اگست 1947ء آیا۔
ایک نئی ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی۔
پاکستان قائم ہو گیا۔
یہ صرف ایک سیاسی اعلان نہ تھا۔ یہ ایک ایسے خواب کی تعبیر تھی جس کے لیے ایک طویل سیاسی سفر طے کیا گیا تھا۔ کراچی میں اقتدار کی منتقلی کی تقریبات ہوئیں، دستور ساز اسمبلی نے نئے ریاستی سفر کا آغاز کیا اور قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
لیکن تاریخ کا یہ لمحہ جتنا خوشی کا تھا، اتنا ہی ذمہ داری کا بھی۔
آزادی مل چکی تھی، مگر ریاست بنانا باقی تھا۔
پرچم موجود تھا، مگر اداروں کو مضبوط ہونا تھا۔ سرزمین موجود تھی، مگر اس پر بسنے والوں کو تحفظ، انصاف اور مواقع فراہم کرنا تھے۔ حکومت قائم ہو چکی تھی، مگر ایک مضبوط قومی نظم و نسق تشکیل دینا ابھی باقی تھا۔ لاکھوں مہاجرین پاکستان پہنچ رہے تھے اور انہیں صرف سرحد پار کر کے آنے والے افراد نہیں بلکہ نئی ریاست کے شہری بن کر زندگی دوبارہ شروع کرنی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ کو صرف 14 اگست کے ایک دن میں محدود کرنا اس عظیم سفر کی معنویت کو مختصر کر دینا ہے۔ 14 اگست ایک نقطۂ آغاز تھا؛ اس کے بعد اصل سوال یہ تھا کہ اس آزادی کو کس طرح ایک مضبوط ریاست، ایک ذمہ دار معاشرے اور ایک باوقار قومی مستقبل میں تبدیل کیا جائے۔
کے۔ کے۔ عزیز جیسے مؤرخین نے تاریخ کو محض جذباتی وابستگی کے بجائے تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاریخ کا احترام صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے ماضی کی کامیابیوں کو یاد کریں؛ تاریخ کا احترام یہ بھی ہے کہ ہم اس کی مشکلات، غلطیوں، کمزوریوں اور نامکمل خوابوں کو سمجھیں۔
آج جب اگست آتا ہے اور سبز ہلالی پرچم گلیوں، بازاروں، گھروں اور اداروں پر لہراتا ہے تو ہمیں صرف اس دن کی خوشی نہیں منانی چاہیے جس دن پاکستان آزاد ہوا تھا۔ ہمیں ان چودہ دنوں کی معنویت بھی سمجھنی چاہیے جو آزادی سے پہلے کے آخری دن تھے۔ ان دنوں میں ایک ریاست تشکیل پا رہی تھی، ایک قوم اپنی شناخت کو نئے معنی دے رہی تھی اور لاکھوں انسان اپنی زندگی کا رخ بدلنے پر مجبور تھے۔
آزادی کا جشن تب مکمل ہوتا ہے جب اس کے تقاضوں کو بھی سمجھا جائے۔
اگر آزادی ہمیں قانون کی پابندی کا شعور نہیں دیتی تو جشن ادھورا ہے۔ اگر آزادی ہمیں دیانت داری، محنت اور ذمہ داری کی طرف نہیں لے جاتی تو اس کی روح تشنہ رہ جاتی ہے۔ اگر آزادی ہمیں اختلاف کے باوجود اتحاد کا راستہ نہیں دکھاتی تو ہم اس تاریخی ورثے کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
1947ء کے ان دنوں کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قومیں صرف نقشے پر بننے والی سرحدوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں مشترکہ خواب، اجتماعی شعور، قربانی، نظم و ضبط اور مسلسل محنت سے تشکیل پاتی ہیں۔
یکم اگست سے 14 اگست 1947ء تک کا سفر اسی حقیقت کا آئینہ ہے۔
یہ چودہ دن ہمیں بتاتے ہیں کہ تاریخ کے بڑے فیصلے ہمیشہ طویل مدت کے نتائج رکھتے ہیں۔ ایک نسل خواب دیکھتی ہے، دوسری اسے حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد کرتی ہے اور تیسری نسل اس حقیقت کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہی سفر ہے جس میں ماضی کی قربانیاں، حال کی ذمہ داریاں اور مستقبل کی امیدیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
آج تاریخ کے افق پر کھڑے ہو کر جب ہم 1947ء کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک نیا ملک طلوع ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا؛ ہمیں ایک سوال بھی سنائی دیتا ہے:
ہم نے آزادی سے کیا حاصل کیا اور آزادی کے بعد ہمیں کیا حاصل کرنا باقی ہے؟
یہ سوال ہر جشنِ آزادی کی اصل معنویت ہے۔
کیونکہ پاکستان صرف 14 اگست 1947ء کو حاصل ہونے والی ایک ریاست کا نام نہیں؛ پاکستان ایک مسلسل تعمیر کا نام ہے۔ اس تعمیر میں ہر نسل کا حصہ ہے، ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور ہر آنے والے کل کی امید شامل ہے۔ تاریخ کے افق پر پاکستان آج بھی ایک جاری سفر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ 1947ء میں ایک خواب نے ریاست کا روپ دھارا تھا، مگر اس خواب کی تعبیر ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہر نسل کو اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر کے اس وطن کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ آزادی ہمیں صرف ماضی پر فخر کرنے کا حق نہیں دیتی، بلکہ مستقبل سنوارنے کا فرض بھی سونپتی ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو، انصاف مضبوط ہو اور شہری وقار کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ جہاں وطن سے محبت صرف نعروں میں نہیں، کردار، دیانت اور عمل میں دکھائی دے۔ کیونکہ آزادی کوئی گزرا ہوا واقعہ نہیں، یہ ہر نسل کے ہاتھوں میں رکھی ہوئی ایک امانت ہے۔ اور اس امانت کا سب سے خوب صورت حق یہی ہے کہ ہم پاکستان کو آنے والی نسلوں کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط، روشن اور باوقار بنا کر جائیں۔ |
|