چین ، گرمی کے امتحان میں سرخرو

چین ، گرمی کے امتحان میں سرخرو
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

ہر سال موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھتے ہی چین کے بجلی کے نظام کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہوتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں شدید گرمی اور بلند نمی نے کئی بڑے شہروں میں بجلی کی طلب کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا، تاہم رواں سال بجلی کی فراہمی کا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ دور دراز علاقوں سے بجلی کی ترسیل، انتہائی بلند وولٹیج ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ورچوئل پاور پلانٹس جیسے جدید انتظامات نے بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود بجلی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

چین کے بعض بڑے شہر موسم گرما میں شدید گرمی کے باعث بجلی کے استعمال کے حوالے سے خاص دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ گھروں کے ایئر کنڈیشنر، گاڑیوں اور الیکٹرانکس کے کارخانے اور دیگر صنعتی تنصیبات بیک وقت زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں، جس سے مقامی گرڈ پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے۔


تاہم انتہائی بلند وولٹیج ٹیکنالوجی سے لیس طویل فاصلے کی بجلی کی ترسیلی لائنوں کے فعال ہونے سے صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔انتہائی بلند وولٹیج ٹیکنالوجی طویل فاصلے تک بجلی کم توانائی کے ضیاع کے ساتھ منتقل کرنے کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ چین میں ایسی 40 سے زیادہ ترسیلی لائنیں قائم کی جا چکی ہیں، جن کا مقصد ملک کے توانائی کے وسائل اور بجلی کی طلب کے درمیان موجود جغرافیائی فرق کو کم کرنا ہے۔ چین میں توانائی کے بڑے ذخائر عموماً مغربی علاقوں میں ہیں، جبکہ بجلی کی سب سے زیادہ طلب وسطی اور مشرقی حصوں میں پائی جاتی ہے۔

ماضی میں شدید گرمی کے موسم میں بعض صنعتی اداروں کو پیداوار محدود کرنا پڑتی تھی، جبکہ کاروباری ادارے بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اپنے معمولات تبدیل کرتے تھے۔ کچھ کارخانے جولائی اور اگست کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے پہلے ہی زیادہ پیداوار مکمل کر لیتے یا بڑے آرڈرز کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔

اب صورتحال بدل رہی ہے۔ جدید بجلی کی ترسیلی سہولتوں کی بدولت بعض صنعتی اداروں کی درجنوں اسمارٹ پیداواری لائنیں رواں موسم گرما میں پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں۔ پیداوار کو بجلی کی موسمی دستیابی کے مطابق محدود کرنے کے بجائے ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی اور ایڈجسٹ کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

اس پورے نظام میں صاف توانائی کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انتہائی بلند وولٹیج لائنوں کے ذریعے ہوا اور سورج سے پیدا ہونے والی بجلی ان علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہے جہاں اس کی طلب زیادہ ہے۔ بعض بڑے شہروں کو دن کے وقت شمسی توانائی جبکہ رات کے وقت ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی فراہم کرنے کے لیے مختلف علاقوں کو باہم مربوط کیا گیا ہے۔ یوں ایک طرح سے ’’شمسی، ہوائی ریلے‘‘ کے ذریعے دن اور رات بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

2025 کے اختتام تک چین کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد سے تجاوز کر چکا تھا۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران قابل تجدید توانائی کی ترقی سے متعلق جاری کیے گئے قومی منصوبے میں بجلی کے نظام میں صاف توانائی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔



تاہم بجلی کی طلب پوری کرنے کا معاملہ صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں۔ اصل چیلنج یہ بھی ہے کہ طلب اور رسد کے درمیان توازن ہر لمحے برقرار رکھا جائے۔ اسی مقصد کے لیے چین میں توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام تیزی سے اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔

کچھ علاقوں میں توانائی ذخیرہ کرنے والے مراکز کو موسم گرما کے دوران پوری صلاحیت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے یہ مراکز دن کے وقت قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی محفوظ کر سکتے ہیں اور شام کے وقت، جب بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے، اسے دوبارہ گرڈ میں شامل کر دیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف طلب کے بلند ترین اوقات میں دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی میں قدرتی اتار چڑھاؤ کو بھی متوازن کیا جا سکتا ہے۔یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کے بجلی نظام میں صرف بجلی پیدا کرنے والے مراکز ہی اہم نہیں ہوں گے بلکہ بجلی کو مناسب وقت تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی ضروری ہو گی۔

چین نے بجلی کے نظام میں صارفین کو بھی اس توازن کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ برقی گاڑیوں کے لیے ’’گاڑی سے گرڈ‘‘ ٹیکنالوجی اس کی ایک مثال ہے۔ اس نظام کے ذریعے برقی گاڑیاں بجلی کی طلب کم ہونے کے اوقات میں چارج کی جا سکتی ہیں اور جب طلب بڑھ جائے تو ان میں محفوظ بجلی کا ایک حصہ دوبارہ گرڈ کو فراہم کیا جا سکتا ہے۔

کچھ علاقوں میں اس حوالے سے قیمتوں کا تجرباتی نظام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت اہل برقی گاڑیوں اور نجی چارجنگ مراکز کو کم طلب کے اوقات میں گاڑیاں چارج کرنے اور زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی واپس گرڈ میں دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس عمل سے گاڑیوں کے مالکان اضافی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ بجلی کے نظام پر چوٹی کے اوقات کا دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔

چین کے موجودہ تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل کا بجلی نظام صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے سے مضبوط نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے پیداوار، ترسیل، ذخیرہ، صارفین اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ایک مربوط نظام میں بدلنا ہوگا۔ انتہائی بلند وولٹیج لائنیں دور دراز صاف توانائی کو بڑے شہروں تک پہنچا رہی ہیں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اضافی بجلی کو ضرورت کے وقت استعمال کے قابل بنا رہے ہیں، جبکہ برقی گاڑیاں بھی مستقبل میں بجلی کے نظام کا فعال حصہ بن سکتی ہیں۔

شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب دنیا کے بڑے شہروں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں چین کا موجودہ ماڈل اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ بجلی کی فراہمی کا مستقبل محض زیادہ پیداوار میں نہیں بلکہ زیادہ ذہین، زیادہ لچک دار اور زیادہ مربوط گرڈ میں ہے۔ یہی تبدیلی موسم گرما کی بڑھتی ہوئی آزمائش کو ایک بڑے توانائی بحران کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظام کے ذریعے سنبھالنے کا راستہ فراہم کر رہی ہے۔

 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1147847 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More